SEO Urdu Training

SEO Urdu Training

سرچ انجن آپٹیمائزیشن

ہوسکتا ہے آپ نے سرچ انجن آپٹیمائزیشن کے بارے میں بہت کچھ پڑھا ہو؟لیکن چونکہ اس کے بارے میں زیادہ تر مواد انگلش زبان میں ہوتا ہے اس لیے زیادہ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس ویب سائٹ میں تمام چیزیں اردو زبان میں آسان طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہیں تاکہ آپ لوگ بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ فی الحال درج ذیل چیزیں آپ کی آسانی کیلئے بتائی جارہی ہیں بعد ازاں مزید چیزیں آپ کو یہاں ملیں گی۔

  • سرچ انجن آپٹیمائزیشن کیا ہے؟
  • SEO کی بنیادی معلومات
  • SEO کا راز

درج ذیل کلاسز کی مدد سے سرچ انجن آپٹیمائزیشن سیکھیں اور خود کریں

  • SEO – کلاس نمبر 1
  • SEO – کلاس نمبر 2
  • SEO – کلاس نمبر 3
  • SEO – تمام کلاسز کا خلاصہ

کی بنیادی معلومات  SEO

وہ تمام لوگ جو ا س وقت یہ پڑھ رہے ہیں جانتے ہیں کہ Jill Whalen نے ہی سرچ انجن optimization کی بنیاد رکھی تھی۔ Jill نے 1995 ء میں ایک نئی ویب سائٹ HighRankings.com کی بنیاد رکھی۔اور آج یہ ویب سائٹ امریکہ کی SEO کمپنی میں افضل ترین ہے۔ Jill کی کمپنی کا مقصد اپنے کلائنٹس کو انڈسٹری کے ساتھ بڑے پیمانے پر معلومات فراہم کرنا ہے۔جووہ ہائی رینکنگ ویب سائٹ کے ایڈ وائزر کی مدد سے کریں گے۔

Jill نے Webstock 2008 میں ایک پریسنٹیشن میں SEOکی بنیادی باتوں پر 45 منٹ کا ٹیٹوریل دیا۔سب سے پہلے اس نے SEO کی کچھ وہمی باتوں کا ذکر کیا۔جس میں سب سے زیادہ عام افواہوں کا ذکر کیا جس میں:

PPC Myths

PPC ads will help organic rankings

PPC ads will hurt organic rankings

Tag Myths

  • آپ کے پاس زیادہ مشہور ڈومین کا ہو نا لازمی ہے۔
  • ہیڈنگ ٹیگز ہو نا ضروری ہیں (مثال کے طور پر1,H2وغیرہ)
  • آپ کے کی ورڈز کو میٹا کی ورڈ ٹیگز کی ضرورت پڑے گی۔جیسے کہ آپ صرف وہی کی ورڈ استعمال کر یں گے جو کہ آپ کے ویب پیجز میں موجود ہوں۔
  • کی ورڈز کو comment tagsمیں استعمال کر نے سے آپ کی ویب سائٹ کی رینکنگ کم ہو سکتی ہے۔

Content Myths

  • ویب پیجز میں محدود الفاظ لکھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔لیکن Jillدراصل کچھ سال پہلے 250الفاظ کی حد مقرر کی تھی۔لیکن اس سے بہت نقصان ہوا۔ لیکن اب ایسا کوئی حد نہیں ہے۔
  • آپ کے ٹارگٹ کی ورڈز کو Bold/Italicہو نا چاہیے۔
  • کسی بھی ویب پیج میں دو ایک جیسے کنٹینٹ نہیں رکھے جا سکتے۔ایسا کرنے سے سرچ انجن خود ہی آپ کے ویب پیجز کو فلٹر کر کے پیش کرتا ہے۔

Design Myths

  • آپ کے پاس HTMLکے کوڈزW3C کی طرف سے تصدیق شدہ ہونے چاہیے۔
  • آپ کے ویب پیجز کے navigationsٹیکسٹ میں ہو نے چاہیے ان میں تصاویر کاا ستعمال منع ہے۔
  • آپ فلیش کا استعمال نہیں کر سکتے۔فلیش صرف تب تک اچھی ہے جب تک پوری ویب سائٹ میں کوئی ایک کنٹینٹ فلیش میں ہو نہ کہ پوری ویب سائٹ ہی فلیش کی بنی ہوئی ہو۔
  • بلیک ہیٹ کی ٹیکنیک کی بجائے جاوا سکرپٹ کا استعمال بہترین ہو گا۔

Link Building Myths

  • گوگل کے ویب ماسٹر ٹولز اور یاہولنک کمانڈ کا استعمال اچھا ہو گا۔
  • متبادل لنکس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ویسے سوچا جائے تو متبادل لنکس اچھے ہوتے ہیں بہت مدد گار بھی ثابت ہونگے۔
  • گوگل ٹول بار پیج رینک ٹھیک نہیں ہے اس کئے اس سے پرہیز ہی کیجیے گا۔

Submitting, Crawling and Indexing Myths

  • آپ کو اپنے ڈومین نیم یعنی URLsسرچ انجن میں دینے ہو نگے۔ان کی طرف سے آپ جو لنک ملے گا آپ کی ویب سائٹ اسی کی مدد سے وزٹ کی جائے گی۔
  • آپ کو گوگل سائٹ میپ کی ضرورت پڑے گی۔ جس کو استعمال کرنے سے آپ کی پیج رینکنگ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑ ے گا.

SEO Company Myths

  • یہ کمپنی آپ کے ویب پیجز کو اس ترتیب سے رکھتی ہے کہ سرچ انجن اس کو بآسانی تلاش کر لیتے ہیں۔
  • یہ بات بھی غلط ہے کہ اگر آپ کمپنی کو وقت پر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کی رینکنگ کم ہو جائے گی۔
  • یہ بھی غلط ہے کہ SEOآپ کی ویب سائٹ پر مالکانہ قبضہ کر لیتی ہے
  • اس کمپنی کا گوگل کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے ۔illنے خود اس بات کی وضاحت بیان کی ہے۔

ان سب افواہوں کا جواب دینے کے بعد Jillنے SEOکے مقصد اور کام کے بارے میں بتایا۔ وہ یہ تھا کہ SEOکی کمپنی کا مقصد آپ کی ویب سائٹ کو ایسا بنانا ہے کہ جس سے لوگ اس کو زیادہ سے زیادہ وزٹ کریں اور ساتھ ہی ساتھ سرچ انجن بھی اس تک رسائی حاصل کر سکیں۔ Jill نے کہا کہ سرچ انجن کو درج ذیل چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے:

Find

Crawl

Index

Determine relevancy

show results

تو آپ جب بھی اپنی ویب سائٹ کو ڈیزائن اور اس میںSEO کا استعمال کریں تو ان چیزوں کوذہن نشین کر لیں۔

اس نے ایک اور نظریہ دیا کہ سرچ انجن نہیں جانتا کہ آپ کون ہیں؟اس لئے آپ جو بھی بیچنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں سادہ زبان میں کھل کر لکھ دیجیے۔سرچ انجن کو صرف اچھے کنٹینٹ کے ساتھ ویب پیجز کی تلاش اور ضرورت ہوتی ہے۔آپ کو یقین کر لینا چاہیے کہ آپ کے ویب پیجز آپ کے پراڈکٹ کے بارے میں واضح طور پر سب کچھ بیان کرتے ہیں اور لوگوں کے مسائل بھی حل کرتے ہیں۔

پھر Jill اس بات پر تبصرہ کیا کہ آپ اپنی ویب سائٹ کے لئے کی ورڈز کا انتخاب کیسے کریں گے؟انھوں نے تجویز دی کہ آپ اپنے دوستوں،فیملی ممبرزاور کاروباری دوستوںسے کی ورڈز کی ایک لمبی فہرست تیار کر لیں۔

پھر ان کی ورڈز کو کسی بھی کی ورڈ ریسرچ ٹول میں آز ما دیکھ لیں۔

پھر Jill  نے بتایا کہ کہاں آپ اپنے کی ورڈز کا استعمال کریں گے۔ان کو آپ درج ذیل جگہوں پر ڈالیں گے۔

anchor text

clickable image alt attributes – alt tags

headlines

body text copy

title tags – Do make your titles less than 10 words, she says

meta description tags

Jill نے پھر اس بات سے اختتام کیا کہ ہائی رینکنگ آپ کی ویب سائٹ کی کامیابی ناپنے کی ویب سائٹ نہیں ہے۔آپ کو تو بس SEO کی ٹیکنیک کو آزماتے ہوئے اپنی ویب سائٹ کی رینکنگ کو بڑھاتے ہی جانا ہے۔اس کمپنی آپ کو ہمیشہ آسان اور مفت طریقے ملیں گے جن کی بناء پر آپ کی ویب سائٹ کی رینکنگ بڑھ سکے گی۔اور پھر جہاں بھی مشکل ہو گی وہاں SEO کی کمپنی ہمیشہ آپ کے ساتھ موجود ہ رہے گی۔

آمدنی میں اضافہ کیلئے سرچ انجن کی مدد

دُنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اب ہر ایک تک آپ اپنی ویب سائٹ کا لنک کیسے پہنچائیں گے؟…. کتنے لوگوں کو Email کریں گے؟…. چلئے مان لیا…. کہ آپ اپنے جان پہچان والوں کو تو مل کربھی اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کے بارے میں بتادیں گے، لیکن آپ کے جان پہچان والے کتنے ہیں؟…. بہت کم…. جبکہ جناب! آپ کو تو Google Adsense کے ذریعے کماناہے…. اور کمانے کیلئے آپ کو روزانہ ہزاروں Visitors چاہئیں، جو آپکی ویب سائٹ یا بلاگ کو Visit کریں۔
یادرکھئے!! زیادہ کمانے کیلئے زیادہ Visitors کی ضرورت ہوتی ہے اور سب سے زیادہ Visitors سرچ انجن کے ذریعے آتے ہیں۔ گھبرائیے نہیں…. آپ درج ذیل سرچ انجنز میں اپنی ویب سائٹ یا بلاگ کو بالکل فری میں Submit

کرواسکتے ہیں۔

 

قسط نمبر 1

اس آرٹیکل میں ہم سرچ انجن آپٹیما ئزیشن کے بارے جاننےکی کوشش کرینگے۔ یعنی یہ کیا ہے؟ اور یہ کس لیےاستعمال ہوتا ہے؟

جس طرح کسی عام ضرورت کی چیز مثلا صابن، چائے یا ٹوتھ پیسٹ وغیرہ بنانے والی کمپنیاں ٹیلی وژن، اخبارات، ریڈیو اور دیگر زرائع سے ، اشتہارات کے زرئعے اشیا کے بارے معلومات لوگوں تک پہنچاتے ہیں بلکل اسی طرح آن لائن تشہیر کی جاتی ہے چاہے وہ کاروبار ہو، تعلیمی ادارہ ہو یا عام ذاتی معلومات پر مبنی ویب سا ئٹ ہو۔ جب تک اس کی باقاعدہ تشہیر نہیں کی جائےگی لوگوں کی رسائی اس تک آسانی سے نہیں ہو سکےگی۔

یعنی ہم کہ سکتے ہیں کہ SEO اصل میں آن لائن تشہیری ذرئعہ ہے۔عام طور پر ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ جیسے ہی کسی نے اپنی ویب سائٹ انٹرنیٹ پہ پبلش کروادی تو وہ سرچ انجن کے زرئعے لوگو ں تک قابل رسا بن جاتی ہے مگر حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے۔

ایک دفعہ آپ کی ویب سائٹ آن لائن ہوگئی اس کے بعد SEO کاکام شروع ہوجاتاہے یعنی اپنی ویب سائیٹ کی باقاعدہ تشہیر کرکے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کی ویب سائیٹ تک آجائیں اور اسے استعمال کریں۔ یہ کام انتا مشکل یہیں ہے بلکہ اس کے کرنے کا اپنا ایک فن ہے ہاں‌البتہ یہ بات ذہین نشین رہے کہ SEO کے بہت سارے تکینکس ہیں جو کہ بروئے کار لانے پڑتے ہیں۔

شروعات۔۔۔
سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کی ویب سائیٹ ہر طرح سے مکمل ہے آپ کی ویب سائٹ کی تشہیر سے پہلے یہ انتہائی ضروری ہے۔

 

ورنہ ممکن بلکے یقینی ہے کہ آپ لوگوں کا توجہ تو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں مگر آپ کی سائٹ پہ آنے کے بعد وہاں ان کے لیے کچھ بھی نہ ھو یعنی ابھی تک تو ویب سائٹ مکمل ہی نہیں ہےتو بجائے فائدہ ہونے کے یہ نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔ کیونکہ آپ لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پہ بلائیں اور وہاں ان کے لیے کچھ بھی نہ ہو تو پھر بس ” شیر آیا شیر آیا۔۔۔۔اس کہانی کے انجام کا میرے خیال میں سب کو پتہ ہے ” اور پھر سب کوششیں رائگاں جانے کا قوی اندیشہ ہے۔
امید ہے کہ اس آرٹیکل کے پڑھنے والے سمجھ رہے ہیں کہ SEO کا استعمال کیا ہے اور اس کو کن مقاصد کیلئے اور کب استعمال کیا جاتا ہے ۔

اس قسط کے آخر میں صرف اتنا ہی کہ ” پھل موسم دا، گل ویلے دی” یعنی پھل موسم کا اور بات موقع کی۔

قسط نمبر 2

اس آرٹیکل کو میں خود ہی اپنے انداز بیان میں لکھ رہا ہوں (ہاں میرا انداز بیان یقینی طور پہ مختلف ادبا سے متاثر ہو سکتا ہے

seo_questionsseo_questions

مگر صرف اردو تک) اور جہاں تک اس میں آئی۔ٹی سے متعلق مواد شامل ہے وہ میں اپنے الفاظوں کے سہارے لکھ رہاہوں۔
نام تو میرا محبوب ہی ہے اور بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں – یاد رہے میری مادری زبان بلوچی ہے اس لیے اگر میری لکھائی میں “کا، کی” وغیرہ کی غلطی ہو تواس سےدرگزر فرمایا کریں۔ یہاں درگزر سے مرآدکہ میری درستگی کریں۔ بس اللہ تعالی کاشکر گزار ہوں کہ میں پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کو کسی حد تک جانتا ہوں یعنی بلوچی (دو قسم)، سندھی ، پوٹوہاری، پنجابی، بروہی، پشتو (زیادہ نہیں) ، جاننے سے مرآد پڑھنا، بولنا اور کچھ لکھنا بھی۔

SEO کے بارے موضوع کی شروعات قسط نبمر1 سے ہو چکی ہے اب اس قسط نمبر 2 میں کے ذریعے ہم مذید آگے بڑھنے کی سعی جاری رکھیں گے۔ اس قسط میں بلا کسی تمہید(اگر اوپر دیے گئے جوابات کوتمہید نہ سمجھیں) بات شروع کرتے ہیں ان طریقہ کار بابت کہ جب سبب ہم SEO کا باقاعدہ عملی استعمال سیکھیں گے۔ عملی طریقہ ہائے SEO نیچے کی لائنوں میں مندرج ہیں۔
1۔ سرچ انجنز پہ بھیجنا:
اپنی ویب سائٹ کی صفحات کو سب سے پہلے اس قابل بنائیں کہ وہ مختلف سرچ انجنز جیسے کہ گوگل ( اب اردو انٹرفیس میں بھی دستیاب ہے حیران نہ ہوں کافی عرصے سے ہے سو یہ خبر تازہ ترین میں شامل نہیں ہے) ، ایم ایس این ، الٹاوسٹا، وغیرہ میں بھیجا جا سکے۔
Meta Tags (کیونکہ یہ لفظ اور اس جیسے جو کہ اردو میں بھی انگریزی میں ہی استعمال ہوتے ہیں سو ان کی orginality کو برقرار رکھتے ہوئے یہاں “جیسے ہے اور جہاں ہے” کی بناد پہ شامل احوال کریں گے) میٹا ٹیگز html کا ایک خصوصی ٹیگ ہے ( ویسے تو html بذات خود tags کا مجموعہ ہے اور یہی tags اصل میں html کی اساس ہیں) کہ جس میں کسی ویب کے صفحہ کے متعلق معلومات ہوتی ہیں جیسا کہ اس کو یعنی page کو کس نے بنایا، اسے کب کب update کیا گیا، page کس بارے ہے، اور وہ کو نسے کلیدی الفاظ یا تراکیب ہیں کو کہ اس کے نفس مضمون کو درست بیان یا پہچان کرتے ہیں ۔ کیونکہ سرچ انجنز انھیں معلومات کو بنیاد بناتے ہوئے page کیindexing کرتے ہیں۔  اہم meta tagsمیں keyword ،title، اور descriptionوغیرہ شامل ہیں۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ meta tags کو کس طرح عملی طور پہ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Keywordsاور Phrases کا لسٹ تیار کرنا:
keywords کیا ہوتے ہیں؟
keywords ان الفاظوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کی بدولت ایک عام انٹرنیٹ کا استعمال کنندۃ کسی ویب سائٹ یا معلومات (جو کہ ظاہر ہے کسی ویب سائٹ پہ پڑی ہونگی) کے بارے سرچ کرنے کسی سرچ انجن کے انٹرفیس میں داخل کرتا ہے یا search کرتا ہے تاکہ ان keywords کو اساس بناتے ہوئے سرچ انجنز مطلوبہ معلومات / ویب سائٹ یا ویب پیج تک پہنچ پائیں مثلا اگرکسی کو اردو آئی ٹی سے متعلق معلومات چاہیے ہوں تو ممکن ہے کہ وہ ان الفاظوں (keywords) یعنی کلیدی الفاظوں کا سہارا لے:

Business Graph

Business Graph

درکار معلومات: اردو آئی ٹی ممکن کلیدی الفاظ: IT in urdu، Urdu IT وغیرہاب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ keywords بس  ایسے ہی بنائے جائیں یا کہ کوئی رہنما طریقے ہیں؟ تو جواب یہ کہ نہیں؛ ہوائی keywords کے استعمال سے بات نہیں بنتی بلکہ ذیل میں کچھ اس بابت ذکر خیر ہے جو اس اس سلسلے میں کافی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

ایک لسٹ ان لوگوں یعنی شعبہ ہائے زندگی کا بنائیں جن کے لیے آپ نے بطور خاص یا عام اپنی ویب سائٹ بنائی ہے یا آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ ہہ وغیرہ لوگ آپ کی سائٹ تک رسائی حاصل کرسکیں مثلا اردو اطلاعیات (Urdu Informatics) سے متعلق کسی ویب سائٹ میں کون کون سے لوگوں کے آنے کا امکانات ہیں تو زہن میں آئی ٹی اور اردو طلبہ و طالبات ، تحقیق دان ، سافٹ وئیر ڈویلپرز، ماہر لسانیات ، مقامی کاری (Localisation ) اور اس طرح کے دوسرےمندرجہ بالا آتے ہیں۔ضروری ہے کہ جس شعبہ ہائے زندگی کے لوگ آپ کے سائٹ پہ آ سکتے ہیں آپ ان کو بامعنی انداز میں مخاطب کریں۔

اوپر کی چند لائنوں میں ہم نے ان تمام لوگوں کو اپنے لسٹ میں شامل کیا کہ جو ہماری ویب سائٹ پہ آسکتے ہیں اسی تسلسل میں یہاں یہ بھی بیان کروں کہ اب وہ مرحلا درپیش ہے کہ جب ہم keywords بنائیں گے . لیکن یہاں تک پہنچنے کے بعد آپ کو اندازہ ہواہوگا کہ ہمارے مخاطب کون ہیں لہذا اپنے مخاطب کو زہن میں رکھتے ہوئے کہ وہ ہمارے بارے کس طرح سوچ سکتے ہیں ایک قدرتی انداز میں keywords بنانے شروع کرنے ہیں۔ اب آپ ویب بنانے والے یا بنوانے والے نہ بنیں

بلکہ اپنے آپکو استعمال کنندہ فرض کریں یعنی ان کی جگہ پہ اپنے آپ کو رکھ کے سوچنا شروع کردیں (ویسے آپس کی بات ہے اگر بندہ زیادہ سوچے گا تو “سوچی پیا تو بندہ گیا ” یعنی سوچ کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔ اب آپ کے پاس زیادہ سے زیادہ keywords جمع ہوگئے ہونگے اگر مندرجہ بال لائنوں پہ عمل کیا تو ورنہ “پچھے چھوڑ اور اگے دوڑ ” keywords میں نہ صرف واحد الفاظ بلکہ ان کا جمع بھی لکھ لیں جیسا کہ Informatic، Informatics۔ آپس کی بات ہے مجھ جیسے گلابی انگریزی دان تو بس اپنی سخی طبیعت کی بدولت سوچے سمجھے بغیر ‘s’ کااضافہ کر دیتے ہیں کہ لو جی واحد کو جمع بنا دیا “الفاظ کو” کہ شاید سرچ کرنے والے بھی اسی اعلی سوچ کے مالک ہوں آخر کہ ” عظیم لوگوں کا زہن ایک جیسا ہی سوچتا ہے ” ہاں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ ایک جیسے الفاظ بس چار دفعہ سے زیادہ نہ آئیں۔

اس قسط میں اتنا ہی سہی دیکھتے رہیے “اردو محفل” کو اور مل کے اس موضوع کو مذید سمجھنے کی سعی جاری رکھیں گے۔

 

قسط نمبر 3

اگلی قسط کے ساتھ۔
سو گزشتہ سے پیوستہ ! جناب عالی اب یہ سوال یہاں زہنوں میں ضرور آرہی ہوگی کہ Meta Tags کی کوئی حد بھی ہے یا کہ بس کلیدی الفاظوں کو لکھتا ہی جائیے؟؟؟ تو عرض ہے کہ 500 حروف سے زائد نہ ہوں تو بہتر ہے۔ اب تک تو کی ورڈز کے بارے تعریف و توصیف کے قلابےملاتے رہے سو اب زکر کرتے ہیں کچھ Title کے بارے یعنی یہ کیا ہے ؟ اور اس کا استعمال ؟؟ یہ کسی سرچ انجن میں‌بطور لنک کے serve کر رہا ہوتا ہے اور اس لنک کے کے ساتھ description بھی موجود ہوتا ہے سو اسے بھی اسی تواتر میں سمجھنے کی سعی کرتے ہیں۔ اس لیے ٹائیٹل کے فورا بعد بلک ساتھ ساتھ ہم ڈیسکرپشن تک پہنچ گئے وہ اس لیے کہ جہاں سرچ انجنز ٹائیٹل کو بطور لنک آپ کی ویب سائٹ تک رسائی کے لیے دے دیتے ہیں وہیں اس کے فورا بعد نیچے کی لائنوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے یہ وہی ہوتا ہے جو آپ نے ڈیسکرپشن کے اندر لکھا ہوتا ہے۔ اور ڈھونڈنے والے اسی ڈیسکرپشن کو پڑھتے بھی ہیں ۔ آئیے ایک مثال کے زرئعے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Title: Center of Excellence for Urdu Informatics
Description: CEUI is the Urdu IT wing of National Language Authority; conducting research and development activities in all matters relating to urdu standardization for computers and localization.

seo-processseo-process

ایک زریں اصول یاد رکھیں کہ جب آپ اپنے صفحہ یعنی پیج کو اس طرح تیار کر رہے ہیں کہ اسے سرچ انجنز پہ بھیجنا ہے تو آپ کی ویب سائٹ سے متعلق تمام کلیدی الفاظ ٹائٹل میں آنے چاہیں اس کے علاوہ ڈیسکرپشن اور میں اور پیج کے کانٹینٹس میں بھی ۔
کسی بھی سرچ انجن سے سرچ کرنے کے بعد آپ جو دیکھتے ہیں وہ ٹائیٹل اور ڈیسکرپشن ہے جو کہ ہر سائٹ کے بارے درج ہے اور ایک لسٹ کی صورت میں تمام ملتے جلتے ویب سائٹس وہان نظر آرہے ہوتے ہیں۔ اب ایک عام استعمال کنندہ یہ کرتا ہے کہ ان لنکس اور اس بارے تھوڑی سی دی گئی تفصیل یعنی ڈیسکرپشن کو پڑھتا ہے اگر وہ یہاں‌قابو میں‌آگیا تو ٹھیک ورنہ ہو اسے نظر انداز کرتے ہوئے کسی اور سائیٹ کے ٹائیٹل اور ڈیسکرپشن کو پڑھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جب یا تو یوزر آپ کی سائیٹ کے لنک پہ کلک کریگا یا پھر چلا جائےگا۔ اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ Title اور Description کی کتنی اہمیت ہے۔

seo-diagramseo-diagram

اب تک تو صرف Text کا بطور خاص ذکر کرتے رہے اسی سے پیوستہ زرا alt tag کے بارے بھی بتاتے جائیں کہ کچھ سرچ انجنز اس ٹیگ کو بھی خاطر خواہ توجہ دیتے ہیں کہ جب indexing کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک تسلیم شدہ بات ہے کہ ویب سائٹ میں تصاویر بھی استعمال ہوتے ہیں آپ <im> ٹیگ کے ساتھ جہاں آپ تصویر کا سورس بتا دیتے ہیں وہیں پہ آلٹ بھی لگا سکتے ہیں مثلا تصویر میں ایک قلم نظر آرہا ہے تو alt میں‌ pen یا کچھ ایسا جوکہ تصویر کو صحیح طور پہ بیان کر سکے۔ جی ہاں‌اس کی بھی اہمیت ہے مگر اس وقت جب آپ SEO کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو۔
چلتے چلتے Spell کی غلطیوں کوبھی ضرور دیکھیں اور وہ لنک بھی جو کام نہیں‌کر رہے ہو سکے تو ان کی بھی کچھ کلاس ضرور لیں۔ HTM اور Browser کی compatability کو بھی مد نظر رکھیں کچھ ایسے ٹولز (فکر نہ کریں میں‌صرف فری میں‌دستیاب ٹولز کا زکر کرونگا اور یقین کریں میری قوت خرید بھی محدود ہے ) حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ جن کے ذرئیعے آپ اپنی ویب سائٹ کو مختلف قسم کے ٹیسٹ سے گزار سکتے ہیں۔

اس قسط میں اتنا ہی لیکن ابھی جاری و ساری ہے۔۔۔۔

Written by : Mehbub Khan

Source: http://www.urduweb.org/mehfil/showthread.php?t=11030

Amfibi

homerweb

JGDO

Myahint

Walhello

Big Finder

Search Hippo

Web Squash

W8 Search

Tower Search

Baidu

Google

Yahoo

MSN / LIVE

Search-O-Rama

Igwanna

Cipinet

Navisso

Axxa Search

Dino Search

Boitho

Intel Seek

My Prowler

Search Ramp

Ultimate Web

Find Once

Net Search

Susy Search

Famhoo

Exact Seek

AcrossCan

Megaglobe

Alexa

Aesop

Shoula Search

Net Search

Biveroo

Official Search

Icon nic

Burf

Exalead

Guruji

Gigablast

Entire Web

Fyber Search

MixCat

One Seek

What u Seek

Scrub The Web

Search Site

Info Tiger

Sonic Run

Abacho

Acoon

Gheto Search

Correct Search

Enter UK

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: