خطبہ نکاح

فتاوی کا مطالعہ

http://www.ziaislamic.com/Interfaces/fatawa/

عقد سے پہلے  نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔

حدیث نمبر : 5146

حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم، قال سمعت ابن عمر، يقول جاء رجلان من المشرق فخطبا فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إن من البيان سحرا ‏”‏‏.‏

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے ، وہ مسلمان ہوگئے اور خطبہ دیا ، نہایت فصیح و بلیغ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کر تی ہے ۔

تشریح :    یہ حدیث لاکر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ نکاح کا خطبہ صاف صاف متوسط تقریر میں ہونا چاہئے نہ یہ کہ بڑے تکلف اور خوش تقریری کے ساتھ جس سے سامعین پر جادو کا اثر ہو اور خطبہ نکاح کے باب میں صریح حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہے جسے اصحاب سنن نے روایت کیا ہے لیکن حضرت امام بخاری رحمہ اللہ شاید اپنی شرط پر نہ ہونے سے اسے نہ لاسکے نکاح کا خطبہ مشہور یہ ہے :
الحمدللہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نومن بہ و نتوکل علیہ و نعوذباللہ من شرور انفسنا و من سیئات اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھاد ی لہ و اشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ اما بعد اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم یا ایھا الذین امنو ا اتقو اللہ حق تقاتہ ولا تمو تن الا و انتم مسلمون یا ایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ و خلق منھا زوجھا و بث منھمارجالا کثیرا و نساءواتقوا اللہ الذی تساءلون بہ و الارحام ان اللہ کان علیکم رقیبا۔ یا ایھا الذین امنوا اتقو االلہ و قولو ا قولا سدیدا یصلح لکم اعمالکم و یغفر لکم ذنوبکم و من یطع اللہ و رسولہ فقد فاز فوزا عظیما

تک پڑھ کر پھر قاضی ایجاب و قبول کرائے۔ ( خطبہ میںمذکو رلفظ ونومن ونتو کل علیہ محل نظر ہیں یعنی یہ لفظ سند اًثابت نہیں ہیں۔ اس طرح دوسری آیت جس سے سورۃ نساءکا آغازہوتاہے ، وہ پوری پڑھنی چاہیئے واللہ اعلم بالصواب۔ عبدالرشید تونسوی

صحیح بخاری -> کتاب النکاح

باب : نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔

اعلان نکاح کے لئے دف بجانا جس میں گھنگرو نہ ہوں جائز ہے مگر آج کل کا گا نا بجانا سرا سر حرام ہے۔

حدیث نمبر : 5147
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، قال قالت الربيع بنت معوذ ابن عفراء‏.‏ جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل حين بني على، فجلس على فراشي كمجلسك مني، فجعلت جويريات لنا يضربن بالدف ويندبن من قتل من آبائي يوم بدر، إذ قالت إحداهن وفينا نبي يعلم ما في غد‏.‏ فقال ‏”‏ دعي هذه، وقولي بالذي كنت تقولين ‏”‏‏.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا ، کہ ربیع بنت معوذابن عفراء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور میر ے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو ۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے ، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں ۔ اتنے میں ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا ، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتو ں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں ۔ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو ۔ اس کے سواجو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو ۔

تشریح :    اس لڑکی کو آپ نے ایسا شعر پڑھنے سے منع فرما دیا کیونکہ آپ عالم الغیب نہیں تھے عالم الغیب صرف ذات باری تعالیٰ ہے۔ قرآن پاک میں صاف اس کی صراحت مذکور ہے۔ مرقاۃ میں ہے کہ وہ دف جو بجارہی تھیں ان میں گھنگروں جیسی آواز نہیں تھی وکان ولھن غیر مصحوب بجلا جل اس سے آج کل کے گانے بجانے پر دلیل پکڑنا غلط ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گانوں بجانوں سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے

بیوی اگر حاملہ ہو تو کیا مباشرت کی جاسکتی ہے؟
سوالالسلام علیکم! میرے چند سوال ہیں: (1) مباشرت کے وقت کیا دعا پڑھنا چاہئے؟ کیا صرف بسم اللہ پڑھنا کافی ہے؟ (2) بیوی اگر حاملہ ہو تو کیا مباشرت کی جاسکتی ہے؟ اگر ہاں تو کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ (3) اگر رمضان المبارک میں رات میں مباشرت ہو تو کیا فوراً غسل کرنا واجب ہے یا سحر کھانے کے بعد کیا جاسکتا ہے؟ جزاک اللہ
جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ! (1) بسم اللہ پڑھنا باعث برکت ہے تاہم حدیث پاک میں وارد دعا پڑھ لی جائے تو اس کی خصوصی برکت حاصل ہوگی جیسا کہ اس متعلق مسند امام احمد میں حدیث پاک وارد ہے :

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ إِذَا أَتَی أَہْلَہُ أَنْ یَقُولَ بِسْمِ اللَّہِ اللَّہُمَّ جَنِّبْنِی الشَّیْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنِی فَإِنْ اللَّہُ قَضَی بَیْنَہُمَا فِی ذَلِکَ وَلَدًا لَمْ یَضُرَّہُ الشَّیْطَانُ أَبَدًا۔

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل کے پاس آتا ہے تو کیا یہ دعا پڑھنے سے قاصر ہوتا ہے ’’بسم اللہ اللھم جنبنی الشیطان و جنب الشیطان ما رزقتنی‘‘ اللہ کے نام سے– اے اللہ! مجھے شیطان سے بچا اور جو اولاد تو مجھے عطا کرے اس سے شیطان کو دور کردے‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ایسی اولاد کا فیصلہ فرماتا ہے جس کو شیطان کبھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ (مسند احمد ۔ 2069) (2) بیوی حاملہ ہو تو وطی کرنا جائز ہے‘ ولادت قریب ہو تو احتیاط کرنا بہتر ہے۔ (3) رمضان المبارک میں وظیفۂ زوجیت ادا کرنے کے بعد فوراً غسل کرنا واجب نہیں‘سحر کھانے کے بعد غسل کیا جاسکتا ہے‘ بہرحال فجر کے وقت غسل کرنا ضروری ہے کیونکہ نماز فجر کی ادائیگی اس پر موقوف ہے۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: