بچوں کی تکالیف اور علاج

بچے کی نگہداشت

بچوں کی نگہداشت کیسے کی جاے

بچے کی غذائی ضروریات کا خیال رکھنا ماں کا اولین فریضہ ہے۔ عام طور پر بچہ رو کر اپنی بھوک کا اظہار کرتا ہے اور اسے کسی مخصوص ٹائم ٹیبل کے مطابق غذا نہیں دی جا سکتی لہٰذا اس بارے میں ہر وقت محتاط رہیں۔ نومولود کی صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھیں کیونکہ صاف ستھرا بچہ ہی صحت مند رہتا ہے، بیمار ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری مشورہ کریں تاہم پہلے کسی بزرگ سے بات کریں کیونکہ نانی یا دادی کے پاس اس حوالے سے مفید ٹوٹکے ہوتے ہیں۔

٭ ماں کی بھر پور توجہ بچے کیلئے از حد ضروری ہے، ماں دیکھ بھال کرنے والی ہو گی تو وہ بچے کی ضروریات کا ہمہ وقت خیال رکھے گی۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ماں بچے کو اپنا دودھ پلائے اور کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو ڈبے یا گائے اور بھینس کا دودھ استعمال کراتے ہوئے صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھیں کہ فیڈر مناسب انداز سے گرم پانی میں ابال کر جراثیم سے پاک کریں اور دودھ پلانے کے فوری بعد فیڈر کو اچھی طرح دھو کر رکھے اور اس میں دودھ بچ گیا ہو تو اسے کسی برتن میں نکال لیا جائے۔ فیڈر کے نپل کو زیادہ پرانا نہ ہونے دیں اور اس میں چپچپاہٹ محسوس ہونے سے پہلے ہی تبدیل کردیں اور مکھیاں قطعی نہ لگنے دیں۔

٭ نومولود کی نگہداشت کیلئے ضروری ہے کہ ماں کو بچے کی چھوٹی چھوٹی تکلیف کا اچھی طرح علم ہو۔ چھوٹے بچوں میں پیٹ کا درد، اپھارہ اور دستوں کی بیماریاں عام ہیں جو کہ بے احتیاطی یا صفائی کے فقدان کے باعث ہو سکتی ہیں۔ پیٹ کے درد کی صورت میں چنے کے برابر جائفل پیس کر شہد میں ملائیں اور بچے کو چٹا دیں۔ سینہ جکڑنے کی صورت میں بھی یہی عمل دو سے تین مرتبہ دہرائیں۔ اگر پیٹ میں درد کا سبب دست ہیں تو جائفل کی بجائے سفید زیرہ بھون کر پیس لیں اور شہد کے ساتھ استعمال کرائیں۔ پہلی سردیاں بچوں کیلئے خاصی خطرناک ہوتی ہیں۔ لہٰذا ان سے بچاﺅ کیلئے دیسی انڈے کی زردی پھینٹ لیں۔ اور ایک چائے کا چمچ بھر کر پانچ اونس دودھ میں ملائیں۔ تین دن تک نہار منہ استعمال سے ٹھنڈ کا اثر نہیں ہو گا لیکن بچے کی عمر تین ماہ سے زائد ہو کیونکہ اس سے کم عمر بچے کیلئے انڈہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

٭چھوٹے بچوں کو جہاں تک ممکن ہو چوٹ سے بچائیں کیونکہ نوزائیدہ کیلئے ہلکی سی چوٹ بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ بہتر ہو گا کہ بچہ پالنے یا جھولے میں آرام کرے جہاں سے گرنے کا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم عام بستر پر لٹائیں تو دونوں اطراف تکیہ رکھ کر رکاوٹ لگا دیں تاکہ لڑھک کر نیچے گرنے کا احتمال نہ ہو۔ چھوٹے بچوں کو گود میں نہ دیں جو کہ اسے سنبھال نہ سکیں۔

نئی ماﺅں کو اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ بچے کا بستر گیلا نہ رہے خاص طور پر رات کے اوقات میں کیونکہ زیادہ تر بچوں کو ٹھنڈ اسی وجہ سے لگتی ہے۔ بستر کے گیلے پن کے سبب بچے کو سردی بھی محسوس ہوتی ہے اور وہ مسلسل بے چینی و بے اطمینانی محسوس کرتا ہے۔ بچے کی نیپی یا پیمپر وقتاً وقتاً چیک کرنا بہتر رہتا ہے کیونکہ اس سے صفائی کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں اور بچہ پر سکون نیند لیتا ہے۔

٭ بچے کے ہاتھوں پر خاص توجہ دی جائے کیونکہ تین ماہ کے بعد وہ منہ میں ہاتھ ڈالنا شروع کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے ہاتھوں کو کسی اچھے بے بی سوپ سے دھویا جائے۔ نظر بد سے بچانے کیلئے بچے کے گلے اور ہاتھوں میں کالے دھاگے باندھنے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ ہفتوں اور مہینوں تک ہاتھوں اور گلے میں بندھے کالے دھاگے پر لاکھوں جراثیم پیدا ہو جاتے ہیں اور جب بچہ ان دھاگوں کو منہ میں ڈالتا ہے تو یہ بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ اسی طرح چار پانچ ماہ کی عمر میں بچہ اپنے پاﺅں کے انگوٹھوں کو بھی منہ میں ڈالنے لگتا ہے۔ لہٰذا ہر بار پیشاب یا پاخانے سے فراغت کے بعد بچے کے پیروں کو اچھی طرح صابن سے دھو لیں۔

٭ بچے کو بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہلکی پھلکی ورزش بھی کرانا چاہیے، تاکہ وہ بستر پر پڑا رہ کر سستی اور کاہلی کا شکار نہ ہو جائے۔ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بچے صحت مند ہو رہے ہیں لیکن وہ تیزی سے فربہی کی جانب مائل ہوتے ہیں اور ورزش اس سے بچاﺅ کا بہترین طریقہ ہے۔ شیر خوار کو ٹی وی اور کمپیوٹر سکرین کی شعاعوں سے بھی دور رکھیں کیونکہ ان کی نازک جلد اس کے مضر اثرات بہت جلد قبول کر لیتی ہے۔

٭ شیر خوار کو موسم کے مطابق روشن اور ہوا دار کمرے میں رکھیں، سردیوں میں دھوپ سے سنکائی بھی بہتر ہوتی ہے تاہم دھوپ میں لٹانے سے بچے کا رنگ و روپ متاثر ہو سکتا ہے۔

٭ بچے کو بستر پر لٹاتے وقت اس کا سر قدرے اونچا رکھیں۔ تیز روشنی، کسی ایک کروٹ سلانے، تنگ کپڑے پہنانے یا اکیلا چھوڑنے سے گریز کریں اور زیادہ بہتر ہے کہ پالتو جانور گھر میں نہ رکھے جائیں۔ بچے کو ہر روز نہلائیں، باقاعدگی سے مالش کریں، طہارت کا خیال رکھیں۔

٭ نوزائیدہ کے ابتدائی دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا نئی ماﺅں کو ان دنوں خاصا محتاط رہنا چاہیے۔ ہر طرح کے مشوروں پر بلا سوچے سمجھے عمل نہ کریں اور نہ ہی ٹوٹکوں پر بھروسہ بلکہ فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ ابتدائی دنوں کی بیماریاں تشخیص و علاج کیلئے بہت زیادہ مہلت نہیں دیتی ہیں۔

٭ بچے کو فیڈ کرانے کے بعد اس کو کندھے سے لگا کر سہلاتے ہوئے ڈکار دلائیں تاکہ شیر خوار میں بچہ جو دودھ اگلتا ہے وہ پھیپھڑوں میں واپس پلٹنے سے کوئی حادثہ نہ ہو سکے۔ بچے کو کھیل ہی کھیل میں اچھالنے سے گریز کریں کیونکہ یہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بلی، کتے یا ان دیکھی قوتوں کے نام لے کر ڈرانے سے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور خوف دل میں بیٹھ جاتا ہے۔ جب بچہ چلنا شروع کردے تو آگ بجلی کے آلات اور دیگر چیزوں کے قریب نہ جانے دیں اور اسے پیار یا محبت میں جھنجھوڑنے سے گریز کریں۔ عمر کے لحاظ سے وزن کراتی رہیں جبکہ حفاظتی ٹیکوں کا کورس بھی فوری مکمل کرائیں۔

٭ اپنی اندرونی تحریک پر اعتبار کریں کیونکہ تجربہ ہی سب سے بڑا استاد ہوتا ہے جو یہ بتاتا ہے۔ کہ کون سا کام کب اور کس طرح کرنا ہے۔ اپنے اور بچے کے درمیان فاصلہ مت رکھیں اور اس کی جذباتی ضرورتوں کو سمجھنے کے ساتھ Immunization کا باقاعدہ ریکارڈ رکھیں۔

٭ نومولود کو گود میں لیتے وقت سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ ضرور رکھیں کیونکہ اس کی گردن کی ہڈی اس وقت کمزور ہوتی ہے۔ کسی بھی حالت میں اسے بازوﺅں سے پکڑ کر نہ اٹھائیں۔ اور نہ ہی زور زور سے اچھالیں۔ سرسوں یا زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھوں کی مالش سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔بچے کی ناف اگرچہ خود بخود جھڑ جاتی ہے لیکن اس کی بہت زیادہ حفاظت کریں۔

٭ پہلی مرتبہ ماں بننے والی خاتون کو اپنے بچے کی نگہداشت مسلمان ماں ہونے کے ناطے اسلامی اصولوں کے تحت کرنا چاہیے۔

٭ شیر خوار بچوں کو کسی بھی موسم میں نہلانا از حد ضروری ہوتا ہے لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رہے کہ نہلاتے وقت کان یا ناک میں پانی نہ چلا جائے۔ چھوٹے بچوں کو ٹھنڈے پانی سے کبھی نہ نہلائیں کیونکہ اس سے دماغی سرسام یا کم از کم ٹھنڈ لگ جانے کا خدشہ ہوتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں بچے کو ایسی جگہ پر نہ نہلائیں جہاں ہوا کا عام گزر ہو اور نہ ہی نہلانے کے فوری بعد پنکھے کی ہوا میں لے آئیں جس سے بیماری کا خطرہ ہوتا ہے۔

٭ نئی مائیں بچوں کی نگہداشت کیلئے گھر کے بزرگوں سے مشورہ کرتی رہیں جبکہ بچے کی عمر بڑھنے کے ساتھ ہی اس کی خوراک میں تبدیلی لائیں اور اسے ٹھوس غذا کا استعمال کرائیں۔ کوشش کریں کہ بچے سے باتیں کریں تاکہ وہ آپ سے جلد مانوس ہو جائے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر تحفظ کا احساس دلائیں۔ اگر بچہ سو رہا ہو تب بھی رات کو آنکھ کھلنے پر اسے دیکھتی رہیں جبکہ دن میں دیگر مشغولیات میں اسے نظر انداز نہ کریں کیونکہ چھوٹا بچہ اپنی تکلیف کے بارے میں نہیں بتا سکتا ہے لہٰذا اس کے رونے سے اس کی تکلیف کا اندازہ لگائیں۔

٭ بچے کو سونے کیلئے آرام دہ بستر مہیا کیا جائے اور اس بات کا دھیان رہے کہ شور شرابہ نہ ہو کیونکہ اس طرح بچے ڈسٹرب ہو جاتے ہیں اور ایک مرتبہ نیند ٹوٹ جائے تو وہ دوبارہ بہت مشکل سے آتی ہے۔

بچوں کی تکالیف اور انکا علاج

بچے پھول کی مانند ہوتے ہیں۔چھوٹی سی تکلیف سے بھی کملا جاتے ہیں ۔اگر ان چھوٹی چھوٹی تکالیف کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مرض بڑھ بھی سکتا ہے اور آپکی پریشانی سوا ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر کے پاس بچوں کو چھوٹی موٹی تکالیف میں لیکر جایئں تو عموما وہ اینٹی بایوٹک کا استعمال کرواتے ہیں جسکی وجہ سے بچوں کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور وہ بار بار بیمار پڑتے ہیں۔ذیل میں کچھ مفید اور آزمودہ گھریلو ٹوٹکے درج کیے جا رہے ہیں۔اگر مہمان کے پاس بھی کچھ ایسے ہی ٹپس ہوں تو ضرور شئیر کریں۔ 

اگر بچے کو بد ہضمی ہو جائے تو ایک تولہ سونف اور ایک تولہ پودینہ ایک پاؤ پانی میں خوب ابال اور چھان کر رکھ لیں اور وقفے وقفے سے بچوں کو پلایئں۔بچہ دودھ ہضم کرنے لگے گا اور صحتمند ہو جائے گا۔

اگر بچہ الٹیاں کرے یا دودھ پینے کے فورا بعد بغیر پھٹا دودھ الٹ دے تو سہاگہ توے پر بھون لیں اور چٹکی بھر دودھ میں گھول کر دیں۔اس سے پیٹ کا درد ،گیس وغیرہ ختم ہو جاتی ہے اور دودھ ہضم ہونے لگتا ہے اور الٹیاں بھی بند ہو جاتی ہیں۔

بچوں کے دانت نکلنے کا وقت والدین کے لیے بہت صبر آزما ہوتا ہے۔پسی ہوئی ملیٹھی ،شہد اور نمک تینوں کو ملا کر مسوڑھوں پر ملنے سے دانت با آسانی نکل آتے ہیں۔

وڈورڈز کا گرائپ واٹر پلانے سے بھی دانت آسانی سے نکل آتے ہیں۔ہومیوپیتھک میں شوابے کی بایو پلاسجین نمبر ٢١ بھی دن میں تین بار دو دو گولیاں دینے سے بچوں کے دانت آسانی سے نکل آتے ہیں۔

کند ذہن بچوں کا حافظہ تیز کرنے کے لیے بچے کو ایک چھوٹی الائچی کے دانے اور چینی ملا کر باقاعدگی سے دودھ کے ساتھ کھلایئں۔حافظہ بہتر ہو جائے گا۔

بچوں کے توتلے پن کو دور کرنے کے لیے نو عدد کالی مرچ اور نو عدد گری بادام حسب منشا چینی کے ساتھ ملا کر چٹنی بنا کر رکھ لیں اور رات کو چٹایئں اور صبح تازہ مکھن چینی ملا کر چٹایئں۔

بچوں کو اگر قبض ہو جائے تو انہیں دوا نہ دیں بلکہ اگر شیر خوار بھی ہیں تو انہیں چائے کا ہلکا قہوہ شکر ساتھ میں پکا کر دیں ۔ان شاءاللہ قبض کی شکایت دور ہو جائے گی۔چھوٹے بچوں کو نیم گرم پانی ملانے سے بھی بچوں کو قبض کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: