محرم کے روزوں کی فضیلت

عاشورہ کا روزہ اور اس کی فضیلتیں
سب دنوں سے افضل روزہ عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ ہے۔ اس میں ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی مغفرت ہے۔ (مسلم شریف)
حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب مدینہ میں تسریف لائے۔ یہودیوں کو عاشوراء کے دن روزہ دار پایا۔ ارشاد فرمایا ” یہ کیا دن ہے کہ تم روزہرکھےہو۔” عرض کی کہ یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالٰی نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو بودیا۔ لہٰذا موسٰی علیہ السلام نے بطور شکر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: “موسٰی علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ سبت تمہارے ہم زیادہ حقدار اور زیادہ قریب ہیں۔” توحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمایا۔ (بخاری مسلم)اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ زوجل کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اس کی یادگار قائم کرنا درست و محبوب بلکہ شرعا مطلوب ہے کہ اس سے وہ نعمت خاصہ یاد آئے گی اور اس پر زبان سے بے ساختہ شکر خدا ادا ہوگا تو گویا یہ یادگار شکر ادا کرنے کا بھی ذریعہ ہوا۔ خود قرآن عظیم میں ارشاد باری تعالٰی ہے:
واذکروا ایام اللہ
خدا (کے انعام) کے دنوں کو یاد کرو۔
دوسری جگہ فرمایا :
وذکرھم بایام اللہ
انہیں اللہ کے دن یاد دلادو۔
یعنی وہ دن جن میں بڑی بڑی نعمتیں اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے مختلف قوموں کو عطا ہوتی رہیں۔ مثلا حکومت و اقتدار اور دشمنوں سے گلوخلاصی، آفتوں سے نجات یا جو بڑی بڑی مصیبتیں مختلف قوموں کو قدرت کی طرف سے پیش آتی رہیں مثلا وبا و قحط ان کی محکومی و غلامی یا تباہی و بربادی۔ غرض یہ کہ ایام اللہ کے تحت ہر قسم کے اہم تاریخی واقعات آجاتے ہیں۔
اور شک نہیں کہ ہم مسلمانوں کےلیے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے بہتر کون ساون ہوگا جس کی یادگار قائم کریں کہ دنیا و آخرت میں ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی تمام نعمتیں تمام راحتیں انہیں*کے طفیل انہیں کے صدقے میں ہیں۔ میلاد پاک کی محفلیں برپا کرنے کا ایک عظیم واہم مقصد یہ بھی ہے۔ وہابیہ اس میں رکاوٹیں ڈال کر ہم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ اللہ پناہ میں رکھے۔
مسئلہ: بہتر یہ ہے کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھیں تو اس کے ساتھ نویں کا بھی رکھیں۔ حدیث شریفمیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: “عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو (یں کہ) ایک دن پہلے روزہ رکھو اور ایک دن بعد۔” (مرقات)
روزہ عاشوراء کے فضائل بہت کچھ احادیث کریمہ میںآئے۔ چنانچہ علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے تحریر فرمایا کہ عاشوراء کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ تعالٰی نے انبیائے کرام علیہم السلام کی ایک جماعت کو عزت و کرامت سے نوازا یہی وہ دن ہے جس میں اللہ تعالٰی نے:
(1) حضرت آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات پر برگزیدہ کیا۔
(2) حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا۔
(3) سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کو کوہ جودی پر ٹھہرایا۔
(4) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، ان پر نارنمرود کو گلزار کیا۔
(5) سیدنا داؤد علیہ السلام کی لغرش کو معاف کیا۔
(6) سیدنا ایوب علیہ السلام سے بلا کودفع فرمایا۔
(7) سیدنا یونس علیہ السلام کو بطن حوت (مچھلی کے پیٹ) سے نکالا۔
(8) سیدنا یعقوب اور سیدنا یوسف علیہما السلام کو باہم ملایا۔
(9) سیدنا عیسٰی علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر آسمان پر اٹھایا۔
(10) آدم و حوا علیہما السلام کو پیدا کیا۔
(11) حضرت موسٰی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچایا۔
غرض عاشوراء کادن، بارگاہ الٰہی میں مقبول دنوں میں ایک دن ہے اور اعمال صالحہ و صدقہ و خیرات کی قبولیت کا روز، اسی لیے حضرات صوفیائے کرام کا ارشاد گرامی ہے کہ:
(1) جو آج کے روز کسی فقیر پر صدقہ کرے، گویااس نے تمام فقراء پر صدقہ کیا۔
(2) جو آج کسی بھولے بھٹکے راہ رو کو سیدھے راستے پر ڈال دے، رب عزوجل اس کے دل کو نور ایمان سے معمور فرمائے۔
(3) جو آج غصہ کو ضبط کرے، اللہ تعالٰی اسے ان میں لکھ دے جو راضی برضا ہیں۔
(4) جو آج کسی مسکین کی عزت بڑھائے وہ مالک و مولا قبر میں اسے کرامت بخشے۔
یہی وہ دن ہے جس کے متعلق نبی رحمت صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(1) جو شخص آج اپنے اہل و عیال پر کشادہ دلی سے خرچ کرے۔ اللہ تعالٰی اسے تمام سال کےلیے فراخی نصیب فرمائے۔ (بیہقی) حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ہم نے پچاس سال اس کا تجربہ کیا اور ہر سال فراخی پائی۔
(2) جو شخص آج کے دن غسل کرے، مرض الموت کے علاوہ اس سال کسی اور مرض میں مبتلا نہ ہو اور جو آج (بہ حسن نیت) سرمہ لگائے اس کی آنکھیں کبھی دکھنے میں نہ آئیں یعنی اس کی چشم بصیرت، دل کی آنکھ روشن رہے۔
(3) جو عاشوراء کی شب قیام و ذکر میں اور اس کا دن روزے میں گزارے، جب مرے گا تو اسے اپنی موت کا پتا بھی نہ چلے گا۔ (یعنی نزع کی سختی سے محفوظ رہے گا)
(4) جو شخص عاشوراء کے دن (محض رضائے الٰہی کے حصول کی نیت سے) روزہ رکھے گویا اس نے تمام سال کے روزے رکھے۔
(5) جو مسلمان آج کے روز صدقہ کرے اسے ایک سال کے صدقے کے برابر ثواب ملے۔
(6) جو شخص آج کسی یتیم کے سرپر شفقت سے ہاتھ پھیرے (اور اس کی دلجوئی کرے اس کی حاجت برلائے) اللہ تعالٰی ہر بال کے عوض جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے۔
(7) جو آج کے دل صلہ رحمی کرے وہ حضرت یحٰیی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کے ساتھ جنت میں ہوگا (اور ان کی خدمت کا شرفپائے گا) (نزہتہ المجالس وغیرہ)
الغرض عاشوراء کا دن وہ مبارک و بابرکت دن ہے جس کے فضائل سے کتابیں مالا مال ہیں۔ مبارک ہیں وہ بندے جو اس ماہ محرم کا جسے حدیث شریف میں اللہ تعالٰی کا مہینہ فرمایا، احترام بجالائیں اور اپنے ظاہر و باطن سے خدا اور رسول کی طرف متوجہ ہوں، اعمال صالحہ میں بیش از بیش مشغول رہیں۔
(8) عزیزو! عمرکاکیا اعتبار اور کسے معلوم کہ اسے کب اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ دنیامیں آدمی آتا ہے تو اپنے مقدر کا اپنے ساتھ لاتا ہے لیکن جب جاتا ہے تو اعمال کے علاوہ اور کوئی اس کا ساتھی نہیں*ہوتا، اعمال نیک کا توشہ ساتھ ہے تو قبر بھی روش اور حشر میں بھی اجالا اور بول بالا۔
یہ ہے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی اصل۔ جس پر تمام مسلمانوں کا عمل آج تک ہے۔ اب کہیں کہیں یہ آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ عاشوراء کے روز یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا اس لیے آج روزہ نہ رکھا جائے۔ یہ اور اس قسم کی ساری باتیں مہمل اور بے اصل ہیں جو رافضیوں نے مسلمانوں پر پھیلائیں۔ مسلمان بیبیاں ہر گز ایسی بے سروپا باتوں پر دھیان نہ دیں کہ اس سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں، اور گناہ لازم آتا ہے۔ 

یومِ عاشورہ کے اہم واقعات

میرے پیارے آقا کے پیارے دیوانو! عاشورہ کے دن کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو اسلامی تاریخ کے صفحات کی زینت بنے ہوئے ہیں ، اختصار کے ساتھ ان میں سے چند واقعات ہم ذکر کر رہے ہیں :

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق عرش پر اِستوا فرمایا۔

٭اسی دن پہلی بارش نازل ہوئی۔

٭اسی دن پہلی رحمت نازل ہوئی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ادریس علیہ السلام کو اس مقام بلند کی طرف اٹھا لیا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرا دیا۔

٭اسی دن حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو نارِ نمرود سے محفوظ فرمایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔

٭اسی دن حضرتِ سلیمان علیہ السلام کو حکومت واپس ملی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن حضرتِ موسیٰ علیہ السلام جادوگروں پر غالب آئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو سلامتی کے ساتھ سمندر پار کرایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ یونس علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔

٭اسی دن حضرتِ یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔

٭اسی دن حضرتِ یوسف علیہ السلام کنویں سے نکلے ۔

٭اسی دن حضرتِ یوسف علیہ السلام قید سے آزاد ہوئے ۔

٭اسی دن حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا۔

٭اسی دن حضور نبیِ ا کرم ا نے حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مرتبۂ شہادت ملا۔

٭اسی دن قیامت آئے گی۔

سلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے ۔ محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں جنگ و قتال حرام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں عاشورہ کا دن بہت معظم ہے یعنی دسویں محرم کا دن ۔ (فضائل الایام والشہور صفحہ ٢٥١) 

محرم کی پہلی رات کے نوافل:

ماہِ محرم کی پہلی شب میں چھ رکعات تین سلام کے ساتھ ادا کرے ۔ اس کی ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص اور تین بار سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسٌ پڑھے۔ اس کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ پھرمحرم کے مہینے کی ہر شب سوبار پڑھے:


لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، لَا شَرِیْکَ لَہ، ۔ لَہ، الْمُلْکُ وَلَہ، الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَہُوَ حَیٌّ الَّا یَمُوْتُ اَبْدًا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اَللّٰہُمَ لَا مَانِعُ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذُالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُ

(ترجمہ) سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ملک اُسی کا ہے، تعریف اُسی کے لیے ہے۔ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ زندہ ہے اور نہیں مرے گا۔ صاحبِ جلا ل اور اکرام ہے ۔ اے اللہ اس چیز کا جو تونے دی کوئی مانع نہیں ہے اور جس چیز کو تونے روک دیا اسے کوئی نہیں دے سکتا اور صاحب دولت کو تجھ سے بے نیاز ہونا کوئی نفع نہیں دیتا۔ (لطائف اشرفی، صفحہ ٣٣٢)
تمام سال کی حفاظت اور برکت
یکم محرم شریف کے دن دو رکعت نماز نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین بار سورۃ الاخلاص پڑھے۔ سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰہُمَّ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَبَدُ الْقَدِیْمُ ہٰذِہ سَنَہٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَالْاَمَانَ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَابِرِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَّمِنَ الْبَلَاءِ وَ الْاٰفَاتِ وَاَسْئَلُکَ الْعَوْنَ وَالْعَدْلَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِشْتِغَالِ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ اِلَیْکَ یَا بَرُّ یَا رَءُ وْفُ یَا رَحِیْمُ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
 

جو شخص اس نماز کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اوپر دو فرشتے مقرر فرمادے گا تاکہ وہ اس کے کاروبار میں اس کی مدد کریں۔ اور شیطان لعین کہتا ہے کہ افسوس میں اس شخص سے تمام سال ناامید ہوا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٨، ٢٦٩)

دعائے محرم الحرام:

پہلی محرم الحرام کو جو یہ دعا پڑھے تو شیطانِ لعین سے محفوظ رہے اور سارا سال دو فرشتے اس کی حفاظت پر مقرر ہوںگے ۔ دعا یہ ہے:

اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَبَدِیُّ الْقَدِیْمُ وَہٰذِہ سَنَۃٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ وَاَوْلِیَائِہ وَالْعَوْنَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِ شْتِغَالَ بِمَا یُقَرِّ بُنِیْ اِلَیْکَ یَا کَرِیْمُ (فضائل الایام الشہور صفحہ ٢٦٧، بحوالہ نزہۃ المجالس)

نوافل برائے شبِ عاشورہ: 

٭ جو شخص اس رات میں چار رکعات نماز پڑھے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد پچاس ٥٠ مرتبہ سورہئ اخلاص پڑھے تو اللہ عزوجل اس کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس سال آئندہ کے گناہ بخش دیتا ہے۔ اور اس کے لئے ملاءِ اعلیٰ میں ایک محل تیار کرتا ہے۔

٭ اس رات دو ٢ رکعات نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ جو آدمی اس رات میںیہ نماز پڑھے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت تک ا س کی قبر روشن رکھے گا۔

ایصالِ ثواب برائے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

امیر المومنین امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے ایصال ثواب کیلئے دورکعات نماز ادا کرے اور دونوں رکعتوں میں فاتحہ کے بعد دس بار سورہ اخلاص پڑھے ۔ سلام کے بعد نو ٩ نو ٩ بار آیت الکرسی اور درود شریف پڑھے۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس روز دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ اس کی پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد اَلَمْ نَشْرَحْ اور دوسری میں اِذَاجَآءَ پچیس پچیس بار پڑھے۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

ہر حاجت پوری ہوگی (انشاء اللہ) 

جو شخص عاشورے کے روز حاجت کے لیے یہ دعا مانگے اس کی حاجت پوری ہوگی

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اِلٰہِیْ بُحُرْمَتِ الْحُسَیْنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّّہِ وَ اَبِیْہِ وَجَدِّہِ وَ بَنِیْہِ فَرِّجْ عَمَّا اَنَا فِیْہِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ  مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ  اَجْمَعِیْنَ

(ترجمہ) اللہ کے نام سے شروع بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ اے اللہ! حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُن کے بھائی، اُن کی والدہ، اُن کے والد اور اُن کے نانا کی حرمت کے واسطے سے میں جس حاجت میں ہوں وہ مجھ پر کھول دے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بہترین خلائق محمدا پر اور آپ ا کی تمام آل پر رحمت فرما۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

یومِ عاشورہ کے ممنوعات:

عاشورہ کے دن سیاہ کپڑے پہننا، سینہ کوبی کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، پیٹنا، چھری چاقو سے بدن زخمی کرنا جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے حرام اور گناہ ہے اِیسے افعال شنیعہ سے اجتناب ِ کلی کرنا چاہیے۔ ایسے افعال پر سخت ترین وعیدیں آئی ہیں جن میں سے چند تحریر کی جاتی ہیں:

حدیث ١:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے کہ ہمارے طریقے پر وہ نہیں ہے جو رخساروں کو مارے اور گریبان پھاڑے اور پکارے جاہلیت کا پکارنا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٤۔ بحوالہ مشکوۃ صفحہ ١٥٠)

حدیث ٢:
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پر بے ہوشی طاری ہوگئی پس آئی اس کی عورت جس کی کنیت ام عبداللہ تھی اس حال میں رونے کے ساتھ آواز کرتی تھی۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو کہا کیا تو نہیں جانتی اور تھے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو اس کو خبر دے رہے تھے کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: میں بیزار ہوں اس شخص سے جو بال منڈائے اور بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے۔

حدیث ٣:
سیدنا حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں میری امت میں جاہلیت کے کام سے پائی جاتی ہیں فخر کرنا، اپنے حسب میں طعن کرنا، عیب نکالنا لوگوں کی نسب میں، بارش طلب کرنا ستاروں سے اور ماتم میں نوحہ کرنا ۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی مرنے سے قبل توبہ نہ کرے تو قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی اس حال میں کہ گندھک کی قمیص اس پر ہوگی اور ایک قمیص خارش والی ہوگی۔

ایک سال تک زندگی کا بیمہ (دعائے عاشورہ)

یہ دعا بہت مجرب ہے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص عاشورہ محرم کے طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک اس دعا کوپڑھ لے یا کسی سے پڑھوا کر سن لے تو ان شاء اللہ تعالیٰ یقینا سال بھر تک اس کی زندگی کا بیمہ ہو جائے گا۔ ہرگز موت نہ آئے گی اور اگر موت آنی ہی ہے تو عجیب اتفاق ہے کہ پڑھنے کی توفیق نہ ہوگی۔ وہ دعا یہ ہے :۔

یَا قَابِلَ تَوْبَۃِ اٰدَمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا فَارِجَ کَرْبِ ذِی النُّوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا جَامِعَ شَمْلِ یَعْقُوْبَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا سَامِعَ دَعْوَۃِ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا مُغِیْثَ اِبْرَاہِیْمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔ یَا رَافِعَ اِدْرِیْسَ اِلَی السَّمَآءِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔۔۔۔۔۔ یَا مُجِیْبَ دَعْوَۃِ صَالِحٍ فِی النَّاقَۃِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا نَاصِرَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔۔۔۔۔ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ رَحِیْمُھُمَا صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ صَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَآءِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ وَاقْضِ حَاجَاتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَطِلْ عُمُرَنَا فِیْ طَاعَتِکَ وَ مَحَبَّتِکَ وَ رِضَاکَ وَ اَحْیِنَاحَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَّ تَوَفَّنَا عَلَی الْاِیْمَانِ وَ الْاِسْلَامِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط اَللّٰھُمَّ بِعِزِّ الْحَسَنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہ وَ جَدِّہ وَ بَنِیْہ فَرِّجْ عَمَّا مَا نَحْنُ فِیْہِ ط

پھر سات بار پڑھے :

سُبْحَانَ اللّٰہِ مِلْءَ الْمِیْزَانِ وَ مُنْتَھَی الْعِلْمِ وَ مَبْلَغَ الرِّضٰی وَ زِنَۃِ الْعَرْشِ لَا مَلْجَاءَ وَ لَا مَنْجَاءَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ ط سُبْحَانَ اللّٰہِ الْشَفْعِ وَ الْوِتْرِ وَ عَدَدَ کَلِمَاتِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط وَ ھُوَ حَسْبُنَا وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ط نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ط وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہ وَ صَحْبِہ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ عَدَدَ ذَرَّاتِ الْوُجُوْدِ وَ عَدَدَ مَعْلُوْمَاتِ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ط

محرم الحرام شریف میں رونما ہونے والے اہم واقعات


٭عاشورہ کا روزہ رکھنے کا آپ ا نے حکم فرمایا ٭سیدتنا امّ کلثوم بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت عثمان ذوالنورین سے۔۔۔۔۔۔٣ھ ٭غزوہئ خیبر۔۔۔۔۔۔٦ھ ٭عام الوفود (ساٹھ وفود آئے جنہیں سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام نے تعلیم دی اور تحائف بھی دیئے۔۔۔۔۔۔٩ھ ٭طاعون عمواس۔۔۔۔۔۔١٨ھ ٭وفات ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ ٭امارت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔١٩ھ ٭مصر میں عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کا داخلہ۔۔۔۔۔۔٢١ھ ٭فتح نہاوند۔۔۔۔۔۔٢٢ھ ٭شہادت حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ۔۔۔۔۔۔٢٤ھ٭خلافت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٢٤ھ ٭فتح سابور ۔۔۔۔۔۔٢٦ھ ٭فتح قبرص۔۔۔۔۔۔٢٨ھ ٭واقعہ صفین۔۔۔۔۔۔٣٧ھ ٭وفات خوات رضی اللہ تعالی عنہ و عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٤٠ھ ٭فتوحاتِ افریقہ۔۔۔۔۔۔٤٥ھ ٭وفات حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥١ھ ٭وفات عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥٣ھ ٭وفات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥٥ھ ٭وفات ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔۔۔٥٦ھ ٭وفات سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٦٠ھ ٭سانحہ کربلا(سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ١٤٦ اصحاب کی شہادت عمل میں آئی)۔۔۔۔۔۔٦١ھ ٭وفات مسلم بن عقبہ (فاتح افریقہ)۔۔۔۔۔۔٦٤ ھ ٭خلافت مروان۔۔۔۔۔۔٦٥ھ ٭وفات عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٧٤ھ ٭فتح فرغانہ ۔۔۔۔۔۔٨٨ھ ٭فتح میورقہ و منورقہ۔۔۔۔۔۔٨٩ھ ٭وفات کریب موٹی بن عباس۔۔۔۔۔۔٩٨ھ ٭فتح غور۔۔۔۔۔۔١٠٨ھ ٭زید بن علی کی شہادت۔۔۔۔۔۔١٢٢ھ ٭مراکش و الجیریا میں جنگ۔۔۔۔۔۔١٢٣ھ ٭میسرہ کی مغرب میں بغاوت۔۔۔۔۔۔١٢٤ھ ٭ضحاک خارجی کا خروج اور قتل۔۔۔۔۔۔١٢٨ھ ٭ابو مسلم کا خراسان پر قبضہ۔۔۔۔۔۔١٣١ھ ٭بنو امیہ کا قتل عام ۔۔۔۔۔۔١٣٣ھ٭کوفہ سے انبار کو دار الخلافہ منتقل کیا گیا۔۔۔۔۔۔١٣٤ھ ٭وفات عطاء بن السائب الکونی۔۔۔۔۔۔١٣٦ھ ٭خلافت منصور العباسی۔۔۔۔۔۔١٣٧ھ ٭قیصر روم کی شکست۔۔۔۔۔۔١٣٨ھ ٭عطیہ کی دوبارہ آبادی۔۔۔۔۔۔١٣٩ھ ٭قلعہ مصیصہ کی تعمیر جدید۔۔۔۔۔۔١٤٠ھ ٭فرقہ راوندیہ کی ابتداء۔۔۔۔۔۔١٤١ھ ٭بغاوتِ ویلم ۔۔۔۔۔۔١٤٣ھ ٭محمد بن السفاح کی بغاوت۔۔۔۔۔۔١٤٤ھ ٭قبرص پر مکمل قبضہ۔۔۔۔۔۔١٤٦ھ ٭کفار آرمینا کی بغاوت۔۔۔۔۔۔١٤٧ھ ٭استاذ سیلس کا دعوائے نبوت۔۔۔۔۔۔١٥٠ھ ٭وفات محمد بن اسحق اخباری۔۔۔۔۔۔١٥١ھ ٭افریقہ میں اباضیہ کا زور۔۔۔۔۔۔١٥٣ھ ٭وفات سعید بن ابی عروبہ ۔۔۔۔۔۔١٥٦ھ ٭خالد برمکی پر جرمانہ۔۔۔۔۔۔١٥٨ھ ٭مسجد نبوی میں توسیع۔۔۔۔۔۔١٦١ھ ٭جنگ روم۔۔۔۔۔۔١٦٢ھ ٭وفاتِ خلیفہ المہدی العباسی۔۔۔۔۔۔١٦٩ھ ٭وفات عبدالواحد بن زید البصری۔۔۔۔۔۔١٧٧ھ ٭جعفر برمکی کا قتل ۔۔۔۔۔۔١٨٧ھ ٭ہارون کے فتوحاتِ روم۔۔۔۔۔۔١٩٠ھ ٭آزر بائیجان میں خرامیہ کا ظہور۔۔۔۔۔۔١٩٢ھ ٭امین اور مامون کے درمیان جنگ۔۔۔۔۔۔١٩٥ھ ٭وفات ابو نواس شاعر۔۔۔۔۔۔١٩٦ھ ٭خلیفہ امین الرشید کا قتل و غارت۔۔۔۔۔۔١٩٨ھ ٭عباسیوں کی مردم شماری۔۔۔۔۔۔٢٠٠ھ ٭دولت اغلبیہ کی ابتدائ۔۔۔۔۔۔٢٠١ھ ٭وفات یحییٰ بن مبارک نحوی۔۔۔۔۔۔٢٠٢ھ ٭وفات طاہر ذوالیمینن۔۔۔۔۔۔٢٠٧ھ ٭تفضیلِ علی کا سرکاری حکم۔۔۔۔۔۔٢١١ھ ٭وفات اسد بن انصرات المغربی۔۔۔۔۔۔٢١٣ھ ٭شہر طوانہ کی تعمیر ۔۔۔۔۔۔٢١٨ھ ٭بابک الخرمی کا قتل۔۔۔۔۔۔١٢٣ھ ٭فرغانہ میں شدید زلزلہ۔۔۔۔۔۔١٢٤ھ ٭مکہ میں سخت گرانی۔۔۔۔۔۔٢٢٨ھ ٭شہادت احمد الخزاعی۔۔۔۔۔۔٢٣١ھ ٭عراق میں آندھی۔۔۔۔۔۔٢٣٤ھ ٭وفات اسحق موصلی الندیم۔۔۔۔۔۔٢٣٥ھ ٭متوکل نے کربلا کے تمام نشانات مٹادئیے۔۔۔۔۔۔٢٣٦ھ ٭وفات حافظ احمد الاشقر۔۔۔۔۔۔٢٤٣ھ ٭وفات وعبل الشاعر ۔۔۔۔۔۔ ٢٤٦ھ ٭قتل المستعین و خلافت المعتز۔۔۔۔۔۔٢٥٢ھ ٭وفات حافظ احمد بن سعید الدارمی۔۔۔۔۔۔٢٥٣ھ ٭دولت صفاریہ کی ابتداء۔۔۔۔۔۔٢٥٤ھ ٭بصرہ میں زنگیوں کی شورش۔۔۔۔۔۔٢٥٧ھ ٭واسط میں زنگیوں کا فساد۔۔۔۔۔۔٢٦٤ھ ٭وفات ابو معشر المنجم۔۔۔۔۔۔٢٧١ھ ٭مصر میں زلزلہ ۔۔۔۔۔۔٢٧٢ھ ٭جنگ مابین خمارویہ و ابن الساج۔۔۔۔۔۔٢٧٦ھ ٭وفات ابو حاتم الرزی۔۔۔۔۔۔٢٧٧ھ ٭قرامطہ کا ظہور۔۔۔۔۔۔٢٧٨ھ ٭منجموں کی بندش۔۔۔۔۔۔٢٧٩ھ ٭سرکاری جشنِ نوروز کی ممانعت۔۔۔۔۔۔٢٨٣ھ ٭قرمطیوں سے جنگ۔۔۔۔۔۔٢٨٧ھ ٭وفات ثابن بن قرۃ الحکیم۔۔۔۔۔۔٢٨٨ھ ٭وفات محدث ابوبکر البزاز صاحب المسند۔۔۔۔۔۔٢٩٢ھ ٭وفات ابو العباس، الشاعر المتکلم۔۔۔۔۔۔٢٩٣ھ ٭شام میں قرامطہ کے مظالم۔۔۔۔۔۔٢٩٤ھ ٭وفات ابو العباس ابن مسروق ۔۔۔۔۔۔٢٩٨ھ ٭وزیر ابن الفرات کی گرفتاری۔۔۔۔۔۔٢٩٩ھ ٭وفات زندیق الراوندی۔۔۔۔۔۔ ٣٠١ھ ٭رومیوں کے خلاف جہاد۔۔۔۔۔۔٣٠٤ھ ٭رومیوں کا سفیر بغداد آیا۔۔۔۔۔۔٣٠٥ھ ٭وفات محدث ابو یعلی الموصلی صاحب المسند۔۔۔۔۔۔٣٠٧ھ ٭مصر پر عباسیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔ ٣٠٩ھ ٭بصرہ میں قرامطہ کے مظالم۔۔۔۔۔۔٣١١ھ ٭فتح فرغانہ ۔۔۔۔۔۔٣١٢ھ ٭ابوعلی بن مقلہ وزیر ہوا ۔۔۔۔۔۔٣١٦ھ ٭ابو منصور القاھر العباسی کی صرف دو یوم کی خلافت۔۔۔۔۔۔٣١٨ھ ٭وفات شیخ المعتزلہ الکعبی۔۔۔۔۔۔٣١٩ھ ٭ویلمیوں کا فارس پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٣٢٠ھ ٭اصفہان میں قحط۔۔۔۔۔۔ ٣٢٤ھ ٭خلیفہ ئ عباسی کے قبضہ میں صرف بغداد رہ گیا۔۔۔۔۔۔٣٢٥ھ ٭البیریدی وزیر ہوا ۔۔۔۔۔۔٣٢٦ھ ٭بغداد میں قحط اور وباء ۔۔۔۔۔۔٣٣٠ھ ٭وفت حافظ ابن عقدہ۔۔۔۔۔۔٣٣٢ھ ٭بغداد میں سیلاب۔۔۔۔۔۔٣٣٧ھ ٭شعیہ سنی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٣٨ھ ٭قرامطہ کا استیصال ۔۔۔۔۔۔ ٣٤٠ھ ٭وفات ابو علی اصفار النحوی۔۔۔۔۔۔٣٤١ھ ٭سیف الدولہ کی رومیوں پر فتح۔۔۔۔۔۔٣٤٢ھ ٭وفات شیخ الکوفہ ابو الحسن۔۔۔۔۔۔٣٤٣ھ ٭عراق میں روزبہاں کی بغاوت۔۔۔۔۔۔٣٤٥ھ ٭عراق و شام پر رومیوں کا حملہ ۔۔۔۔۔۔٣٤٧ھ ٭شعیہ سنی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٤٨ھ ٭دو٢ لاکھ تُرک اسلام پر ایمان لائے۔۔۔۔۔۔٣٤٩ھ ٭وفات فاتک مجنون رومی۔۔۔۔۔۔٣٥٠ھ ٭شام پر رومیوں کے حملے اور مظالم ۔۔۔۔۔۔٣٥١ ٭نوحہ، ماتم اور مراسم محرم کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔٣٥٢ھ ٭وفات ابو علی السکن۔۔۔۔۔۔٣٥٣ھ ٭وفات ابو بکر الحداد مصری ۔۔۔۔۔۔ ٣٥٤ھ ٭وفات قاضی منذر البلوطی۔۔۔۔۔۔٣٥٥ھ ٭سرکاری طور پر جبراً ماتم۔۔۔۔۔۔٣٥٦ھ ٭وفا احمد السندی۔۔۔۔۔۔٣٥٩ھ ٭دمشق پر فاطمیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔٣٦٠ھ ٭وفات معرمول خلیفہ المطیع العباسی۔۔۔۔۔۔٣٦٤ھ ٭وفات ابو بکر احمد ختلی۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭نوبت بجنے کی ابتداء۔۔۔۔۔۔٣٦٨ھ ٭وفات حافظ ابو الشیخ۔۔۔۔۔۔٣٦٩ھ ٭وفات ابن خالویہ نحوی۔۔۔۔۔۔٣٧٠ھ ٭بغداد میں شدید قحط۔۔۔۔۔۔٣٧٢ھ ٭شمس الدولہ ابن البویہ کی ولادت۔۔۔۔۔۔٣٧٣ھ ٭دنیا کی سب سے بڑی رصد گاہ بغداد میں تعمیر کی گئی۔۔۔۔۔۔٣٧٨ھ ٭وفات ابو جعفر المتکلم الجوہری۔۔۔۔۔۔٣٧٩ھ ٭وفات الوزیر الیہودی بن کلبی۔۔۔۔۔۔٣٨٩ھ ٭جے پال سے دوسری جنگ۔۔۔۔۔۔٣٨١ھ ٭بغداد میں فوجی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٨٢ھ ٭وفات فقیہ ابن بطۃ العکبری۔۔۔۔۔۔٣٨٧ھ ٭شدتِ سرما(بغداد)۔۔۔۔۔۔٣٨٨ھ ٭وفات ابو عمر و الباجی۔۔۔۔۔۔٣٩٦ھ ٭ظہور ابورکوہ مدعی امامت۔۔۔۔۔۔٣٩٧ھ ٭بغداد میں فسادات۔۔۔۔۔۔٣٩٨ھ ٭وفات ابن میمون الطلیطلی ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٠ھ ٭موصل میں فاطمی خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٠١ھ ٭تحقیق نسب نامہئ عبیدین۔۔۔۔۔۔٤٠٢ھ ٭وفات حافظ سلیمان البیکندی ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٤ھ ٭اندلس میں علی الناصر بن جمود حاکم ہوا۔۔۔۔۔۔٤٠٧ھ ٭بغداد میں فسادات۔۔۔۔۔۔٤٠٨ھ ٭وفات قاضی منصور ہراتی۔۔۔۔۔۔٤١٠ھ ٭ایک مصری باطنی نے حجر اسود کو ہتھوڑا مار کر توڑ دیا۔۔۔۔۔۔٤١٣ھ ٭وفات ابو عبداللہ الغفاری ۔۔۔۔۔۔٤١٤ھ ٭وفات ابو اسحق الاسفرائینی۔۔۔۔۔۔٤١٨ھ ٭عراق میں شدید ژالہ باری۔۔۔۔۔۔٤٢٠ھ ٭مسعود غزنوی نے اصفہان کو تاراج کیا۔۔۔۔۔۔٤٣٢ھ ٭وفات امام المفسرین ابو اسحق۔۔۔۔۔۔٤٢٧ھ ٭وفات ابو بکر الاصبہانی صاحب۔۔۔۔۔۔٤٢٨ھ ٭وفات ابو یعقوب القراب۔۔۔۔۔۔٤٢٩ھ ٭وفات ابو نعیم الاصبہانی۔۔۔۔۔۔٤٣٠ھ ٭فاطمیوں نے ابو بکر نام رکھنے کی ممانعت کردی۔۔۔۔۔۔٤٣١ھ ٭وفات امیر قرطبہ جمہور بن محمد ۔۔۔۔۔۔٤٣٥ھ ٭بغداد میں اذان کے ساتھ نوبت۔۔۔۔۔۔٤٣٦ھ ٭وفات ابو علی المالکی صاحب الرومنہ۔۔۔۔۔۔٤٣٨ھ ٭مراکش میں الجیریا میں دوبارہ عباسی خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٤٩ھ ٭بغداد میں فرقہ وارانہ فسادات۔۔۔۔۔۔٤٤٣ھ ٭وفات ابو القاسم التنوخی۔۔۔۔۔۔٤٤٧ھ ٭مصر میں قحط اور وبائ۔۔۔۔۔۔٤٤٨ھ ٭عراق میں شدید قحط اور وباء۔۔۔۔۔۔٤٤٩ھ ٭وفات ابو القاسم الغفاف۔۔۔۔۔۔٤٥٠ھ ٭وفات ابو الفضل بن عمروس۔۔۔۔۔۔٤٥٢ھ ٭وفات محمد بن حمدون السلمی۔۔۔۔۔۔٤٥٥ھ ٭وفات خدیجہ بغدادیہ٤٦٠ھ ٭وفات ابو القاسم محمود الفورانی۔۔۔۔۔۔٤٦١ھ ٭شام میں زلزلہ۔۔۔۔۔۔٤٦٢ھ ٭قتل ابو شجاع۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭عراق مین زبردست سیلاب۔۔۔۔۔۔٤٦٦ھ ٭طلیطلہ پر عیسائیوں کا قبضہ ۔۔۔۔۔۔٤٧٨ھ ٭حرمین میں عباسیوں کے نام کا خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٧٩ھ ٭شہادت عبدالملک الیصری ۔۔۔۔۔۔٤٨٤ھ ٭شہادت نظام الملک الوزیر۔۔۔۔۔۔٤٨٥ھ ٭وفات شیخ الاسلام الہکاری۔۔۔۔۔۔٤٨٦ھ ٭وفات المقتدی العباسی و خلافت المستظہر۔۔۔۔۔۔٤٨٧ھ ٭وفات ابو الفضل ابن خیرون۔۔۔۔۔۔٤٨٨ھ ٭وفات ابو طاہر الباقلانی۔۔۔۔۔۔٤٨٩ھ ٭وفات العقبہ نصر النابلسی۔۔۔۔۔۔٤٩٠ھ ٭عیسائیوں نے شام میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔۔۔۔۔۔٤٢٩ھ ٭حسن بن صباح کا خوف چھاگیا۔۔۔۔۔۔٤٩٤ھ ٭فرنگیوں کا عکہ پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٤٩٧ھ ٭نہاوند مجیں ایک مدعی نبوت کا قتل۔۔۔۔۔۔٤٩٩ھ ٭وفات یوسف بن تاشفین بانی مراکش۔۔۔۔۔۔٥٠٠ھ ٭فخر الاسلام قاضی الرویانی کو باطنیوں نے جامع آملہ میں قتل کردیا۔۔۔۔۔۔٥٠٢ھ ٭وفات ابو الحسن لکیاہراسی۔۔۔۔۔۔٥٠٤ھ ٭وفات ابو الحسن العلاف۔۔۔۔۔۔٥٠٥ھ ٭وفات ابو الحسن الدامغانی ۔۔۔۔۔۔٥١٣ھ ٭ایوان حکومت میں آگ لگ گئی (بغداد)۔۔۔۔۔۔٥١٥ھ ٭خلیفہ المسترشد نے دبیس کوشکست دی۔۔۔۔۔۔٥١٧ھ ٭شہر صور پر فرنگیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔٥١٨ھ ٭دمشق میں قتل عام ۔۔۔۔۔۔٥٢٣ھ ٭بغداد میں اڑنے والے بچھو پیدا ہوگئے۔۔۔۔۔۔٥٢٤ھ ٭قتل ابو الحسن بن ابی یعلی ۔۔۔۔۔۔٥٢٦ھ ٭وفات ابو علی الفارقی۔۔۔۔۔۔٥٢٨ھ ٭وفات علی بن عطیہ الشاعر۔۔۔۔۔۔٥٢٩ھ ٭سلطان سنجر اور کفار تاتار میں جنگ عظیم۔۔۔۔۔۔٥٣٦ھ ٭وفات عبدالوہاب الانماطی۔۔۔۔۔۔٥٣٨ھ ٭وفات ابو منصور الجوالیقی۔۔۔۔۔۔٥٤٠ھ ٭طرابلس میں فرنگیوں کا قبضہ ۔۔۔۔۔۔٥٤١ھ ٭نورالدین محمود زنگی نے فرنگیوں سے تین قلعے واپس لئے۔۔۔۔۔۔٥٤٢ھ٭وفات محمد بن غلام الفرس الدانی۔۔۔۔۔۔٥٤٧ھ ٭بغداد میں کئی بار آگ لگی۔۔۔۔۔۔٥٥١ھ ٭شام کے تیرہ شہر زلزلہ سے تباہ ہوگئے۔۔۔۔۔۔٥٥٢ھ ٭نور الدین کے سامنے سے فرنگیوں کی فراری۔۔۔۔۔۔٥٥٨ھ ٭بغداد میں رافضیوں کی بے اعتدالیاں۔۔۔۔۔۔٥٦١ھ ٭وفات ہبۃ اللہ الدقاقی۔۔۔۔۔۔٥٦٢ھ ٭شام میں زلزلہ (٨٠ہزار ہلاک)۔۔۔۔۔۔٥٦٥ھ ٭نور الدین کی فتوحات ۔۔۔۔۔۔٥٦٦ھ ٭آخری فاطمی امام العاضد کی معزولی اور عباسی خطبہ کا اجرائ٭٥٦٧ھ ٭مسلمانوں نے یمن اور طرابلس الغرب فتح کیا۔۔۔۔۔۔٥٦٨ھ ٭وفات و عبل بن کارہ الفقیہ الحریمی۔۔۔۔۔۔٥٦٩ھ ٭فصیل قاہرہ کی بنیاد۔۔۔۔۔۔٥٧٢ھ ٭واقعہ الرملہ(فرنگیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا) ۔۔۔۔۔۔٥٧٣ھ ٭بغداد میں ابن فرایا کا قتل۔۔۔۔۔۔٥٧٤ھ ٭پرنس ارناٹ کی مدینہ منورہ کی طرف فوج کشی اور عزیزالدین فرخشاہ کی مدافعت ازناٹ کی شکست۔۔۔۔۔۔٥٧٧ھ ٭وفات اسد بن المطران الطیب۔۔۔۔۔۔٥٨٧ھ ٭علاؤالدین خوارزم شاہ کا بخارا پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٥٩٤ھ ٭وفات عماؤالدین الملک العزیز۔۔۔۔۔۔٥٩٥ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٥٩٧ھ ٭وفات القاضی ابو بکر الاموری۔۔۔۔۔۔٥٩٩ھ ٭وفات روز یہاں صوفی مفسر۔۔۔۔۔۔٦٠٦ھ ٭وفات اثیر الدین الاخسکیتی۔۔۔۔۔۔٦٠٨ھ ٭حکومت ناصر الدین محمود(دہلی) ۔۔۔۔۔۔٦٤٤ھ ٭وفات سیف الدین امیر لاچین پدر امیر خسرو۔۔۔۔۔۔٦٥١ھ ٭ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کردیا۔۔۔۔۔۔٦٥٦ھ ٭خلافت الحاکم الاول عباسی۔۔۔۔۔۔٦٦١ھ ٭وفات حضرت بابا فرید گنج شکر(پاک پٹن شریف) ۔۔۔۔۔۔٦٦٤ھ ٭وفات یحییٰ حلی فقیہ شعیہ۔۔۔۔۔۔٦٧٩ھ ٭شام پر تاتاریوں کا حملہ اور شکست۔۔۔۔۔۔٦٨١ھ ٭تخت نشینی عثمان بانی دولت عثمانیہ۔۔۔۔۔۔٦٩٩ھ ٭قتل زید یق فتح الدین ۔۔۔۔۔۔٧٠١ھ ٭حکومت قطب الدین مبارک خلجی۔۔۔۔۔۔٧١٦ھ ٭وفات ملا کمال کاشی۔۔۔۔۔۔ ٧٢٠ھ ٭حکومت فیروز تغلق۔۔۔۔۔۔٧٥٢ھ ٭وفات خلیل بن کیکلدی۔۔۔۔۔۔٧٦١ھ ٭تخت نشینی بایزید یلدرم عثمانی و محمد تغلق۔۔۔۔۔۔٧٩٢ھ ٭وفات سعد الدین تفتازانی۔۔۔۔۔۔٧٩٢ھ ٭وفات جمالدین البہنسی۔۔۔۔۔۔٨٠٥ھ ٭وفات شمس الدین محمد الشویکی۔۔۔۔۔۔٨١٣ھ ٭شہادت علامہ ابن الخاس مصنف مصارح العشاق۔۔۔۔۔۔٨١٤ھ ٭وفات شہاب الدین بن حجی۔۔۔۔۔۔٨١٦ھ ٭مصر میں طاعون اور قحط۔۔۔۔۔۔٨١٨ھ ٭قتل نسیم الدین شیخ الحروفیہ۔۔۔۔۔۔٨٢٠ھ ٭وفات برہان الدین ابن عذار۔۔۔۔۔۔٨٢٥ھ ٭مدینہ منورہ میں سنیوں کا قتل۔۔۔۔۔۔٨٢٩ھ ٭وفات شمس الدین عجلوکی۔۔۔۔۔۔٨٣١ھ ٭وفات زین الدین ابن الخراط الشاعر۔۔۔۔۔۔٨٤٠ھ ٭وفات قاسم انوار۔۔۔۔۔۔٨٤٥ھ ٭وفات شمس الدین القایاتی۔۔۔۔۔۔٨٥٠ھ ٭خلافت حمزہ القاسم و تخت نشینی محمد الفاتح عثمانی۔۔۔۔۔۔٨٥٥ھ ٭وفات جلال الدین المحل۔۔۔۔۔۔٨٦٤ھ ٭خلافت المتوکل ثانی ۔۔۔۔۔۔٨٨٤ھ ٭وفات قاضی ابن الشحنہ حنفی۔۔۔۔۔۔٨٩٠ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٨٩٢ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٨٩٤ھ ٭وفات حضرت مولانا عبد الرحمن جامی (عاشق رسول ا)۔۔۔۔۔۔٨٩٨ھ ٭فتح الباری شرح بخاری مکہ سے یمن (زبیدہ) لائی گئی ۔۔۔۔۔۔٩٠١ھ ٭وفات عبدالرحمن الہجرانی۔۔۔۔۔۔٩٠٣ھ ٭وفات جلال الدین دوانی۔۔۔۔۔۔٩٠٨ھ ٭یمن میں شدید طوفان بادوباراں۔۔۔۔۔۔٩١١ھ ٭وفات کبیر داس ۔۔۔۔۔۔٩١٥ھ ٭وفات امام قسطلانی شارح بخاری۔۔۔۔۔۔٩٢٣ھ ٭وفات نور الدین الاشمونی ۔۔۔۔۔۔ ٩٢٩ھ ٭وفات خوند میر (قانون ہمایوں)۔۔۔۔۔۔٩٤٢ھ ٭حکومت شیر شاہ سوری۔۔۔۔۔۔٩٤٧ھ ٭قتل ہیمول بقال۔۔۔۔۔۔٩٦٤ھ ٭کشمیر میں حکومت غازی خاں چوک۔۔۔۔۔۔٩٦٧ھ ٭وفات محمد غوث گوالیاری۔۔۔۔۔۔٩٧٠ھ ٭مکہ مکرمہ میں سیلاب۔۔۔۔۔۔٩٧١ھ ٭وفات عبداللہ الغاکہی ۔۔۔۔۔۔٩٧٢ھ ٭وفات سراج الدین عمر العید روس (عدن)۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭وفات فیضی علامہ ۔۔۔۔۔۔ ١٠٠٤ھ ٭قتل نور اللہ شوستری۔۔۔۔۔۔١٠١٩ھ ٭وفات صائب تبریزی۔۔۔۔۔۔١٠٨٠ھ ٭خلافت سلیمان ثانی۔۔۔۔۔۔١٠٩٩ھ ٭وفات باقر مجلسی۔۔۔۔۔۔١١١٠ھ ٭وفات نعمت خان عالی ۔۔۔۔۔۔١١٢٠ھ ٭وفات مرزا عبدالقادر بیدل۔۔۔۔۔۔١١٣٣ھ ٭وفات کلیم اللہ جہاں آبادی ۔۔۔۔۔۔١١٤٠ھ ٭محمد بن سعود اور محمد بن عبدالوہاب نجدی نے تلوار کے زور سے وہابیت پھیلانا شروع کی۔۔۔۔۔۔١١٥٩ھ ٭کریم خان زند نے صفوی حکومت ختم کردی (حسین ثانی) ۔۔۔۔۔۔١١٦٦ھ ٭ولادت ٹیپو سلطان شہید ۔۔۔۔۔۔١١٦٦ھ ٭وفات امیر تقی خیالؔ۔۔۔۔۔۔١١٧٠ھ ٭وفات میر قاسم صوبہ دار بنگالہ ۔۔۔۔۔۔١١٩١ھ ٭وفات مرزا مظہر جان جانان۔۔۔۔۔۔١١٩٥ھ ٭وفات کمالؔ گیاوی (کمال الحکمۃ)۔۔۔۔۔۔ ١٢١٥ھ ٭سعود بن عبد العزیز فاتحانہ مکہ میں آیا ۔۔۔۔۔۔١٢١٨ھ٭وفات میر تقی میرؔ ۔۔۔۔۔۔١٢٢٥ھ ٭وفات حافظ دراز پشاوری (شارح پشاوری) ۔۔۔۔۔۔١٢٦٣ھ ٭قتل علی محمد باب قرۃ العین۔۔۔۔۔۔١٢٦٦ھ ٭وفات مرزا دبیر لکھنوی۔۔۔۔۔۔١٢٩٢ھ ٭وفات سوامی دیانند سرسوتی(بانی آریہ دھرم) ۔۔۔۔۔۔١٣٠٢ھ ٭وفات واجد علی شاہ (کلکتہ)۔۔۔۔۔۔١٣٠٥ھ ٭وفات حاجی وارث علی۔۔۔۔۔۔١٣٢٣ھ ٭وفات محمد حسین آزاد۔۔۔۔۔۔١٣٢٨ھ ٭وفات شمس الحق عظیم آبادی (شارح ابو داؤد)۔۔۔۔۔۔١٣٢٩ھ ٭وفات مفتی لطف اللہ علیگڑھ۔۔۔۔۔۔١٣٣٥ھ ٭قیام جامعہ ملیہ اسلامیہ۔۔۔۔۔۔١٣٣٩ھ ٭وفات اکبر ؔالہ آبادی۔۔۔۔۔۔١٣٤٠ھ ٭وفات انور شاہ کشمیری (دیوبندی)۔۔۔۔۔۔١٣٥١ھ ٭آزادی مصر ۔۔۔۔۔۔ ١٣٥٥ھ ٭قتل لیاقت علی خاں وزیر اعظم پاکستان۔۔۔۔۔۔١٣٧١ھ٭آزادی صومالیہ ۔۔۔۔۔۔ ١٣٨٠ھ ٭یمن میں جمہوریت۔۔۔۔۔۔١٣٨٣ھ ٭وفات سید عبدالاحد فائق۔۔۔۔۔۔١٣٨٤ھ ٭ وصال مفتی اعظم شہزادئہ اعلیٰ حضرت علامہ محمد مصطفی رضا خان صاحب علیہ الرحمہ ١٤٠٢ھ

محرم الحرام میں وفات پانے والے صحابہ کرام اور اولیائے کرام
رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین


یکم محرم الحرام
٭خلیفہ دوم امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ،٭حضرت ابو بکر محمد بن ابراہیم سوسی ٣٨٦ھ ٭حضرت شیخ الشیوخ ابو حفص شہاب الدین عمر سہروردی ٦٣٢ھ ٭حضرت شاہزادہ محمد داراشکوہ قادری ١٠٧٠ھ ٭حضرت جیو مجددی پشاوری 

٢ محرم الحرام
٭حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی محکم الافلاک ٢٠٠ھ ٭حضرت ابو عبدالرحمن حاتم اصم ٢٣٧ھ ٭حضرت احمد بن عبدالواسع ٦٠٩ھ ٭حضرت سید عقیق اسواد ابدال ١٠٠٠ھ ٭حضرت خواجہ معین الدین نقشبندی کشمیری ١٠٨٥ھ

٣محرم الحرام
٭حضرت شیخ سعید قیروانی ٢١١ھ ٭حضرت شیخ تقی الدین احمر صوفی ٥٩٥ھ ٭حضرت مخدوم سالار نوشہ صفات فیض آبادی ٩٨٩ھ ٭حضرت شاہ محی الدین دہلوی ١٢٨٩ھ ٭حضرت حافظ عبدالستا خالصپوری ١٢٩٨ھ ٭حضرت ابو الحسن تہکاری

٤ محرم الحرام
٭امام الاولیا حضرت سیدنا خواجہ حسن بصری ٭حضرت سید حمید لاہوری ١٠٩٠ھ ٭حضرت اخون درویزد نگرہاری ٨٩٧ھ ٭حضرت میر محمد بن احمد کشمیری ١٠١١ھ ٭حضرت میر فضل علی لاہوری ١١٦٠ھ ٭

٥ محرم الحرام
حضرت رفیع الدین مجذوب قلندری٭حضرت شیخ حجاج سرقندی ٣٤٢ھ حضرت ابو الفرح یوسف طرطوسی ٤٦١ھ ٭حضرت عوض علی شاہ ٭حضرت فردالاولیا شیخ العالم خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر ٦٦٤ھ ٭حضرت ابو اسحق لاہوری٩٨٥ھ ٭حضرت خواجہ احمد مہروی چشتی ١٣٣٠ھ

٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ بن مسلمہ قعبنی ٢٢١ھ ٭حضرت ابو القاسم ابراہیم نصرآبادی ٣٦٧ھ

٧ محرم الحرام
٭حضرت سید امام مہدی بن امام حسین رضی اللہ عنہ،٭حضرت امام احمد غزالی ٥١٧ھ ٭حضرت سید شہاب الدین احمد قسطلانی ٩٢٣ھ ٭حضرت حاجی محمد ہاشم گیلانی لاہوری ١٠٨٧ھ ٭حضرت شیخ محمد عاشق معشوف صفات ١١٩٩ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق ١٢٥١ھ ٭حضرت فضیل بن عیاض

٨ محرم الحرام
٭حضرت سیدی ابی نعیم احمد اصفہانی (صاحب مستخرج صحیح مسلم) ٤٠٣ھ ٭حضرت شیخ ابو الفتح بغدادی ٩٥٩ھ ٭حضرت شیخ محمد طاہر لاہوری ١٠٤٠ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق نقشبندی مجددی ١٢٥١ھ ٭مناظر اہلسنّت مولانا حشمت علی خاں ١٣٨٠ھ ٭شیخ عبدالغفور اخوند

٩ محرم الحرام
٭حضرت شیخ جعفر کوفی ٢٢٢ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم میردانی٢٧٨ھ ٭حضرت شمس الدین مرزا مظہر جان جانان الملقب بہ حبیب اللہ ٥٩٠ھ ٭حضرت سید بہاؤالدین عرف محمود کرخی ٦٠٢ھ ٭حضرت ابو الفتح حفظی کنتوری لکھنوی١٢٠٤ھ ٭حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری ١٢٤٣ھ ٭حضرت سیدنا علی ہجویری داتا گنج بخش

١٠ محرم الحرام
٭ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا٭ حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عہنما ٦٠ھ ٭حضرت خواجہ ابو الفر بُشر حافی بغدادی ٢٢٧ھ٭حضرت شیخ فارس ٣٤٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی فرقانی ٤٤٥ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین یحییٰ مقبول سہروردی ٥٧٧ھ ٭حضرت اوحد الدین عبداللہ بلیانی ٦٨٦ھ ٭حضرت شاہ لطف اللہ ٨٧١ھ ٭مولوی برکت اللہ مارہروی ١١٤٢ھ٭حضرت اخوند حافظ عبدالعزیز دہلوی١٢٩٦ھ ٭حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی ١١٤٣ھ

١١ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمد رازی ٣١٠ھ ٭حضرت شیخ بنان جمال مصری ٣١٦ھ ٭حضرت احمد بن محمد معروف بہ شیخ جعفر الخداد بصری ٣٤١ھ ٭حضرت عبداللہ شامی ٣٥٧ھ ٭حضرت ابو الفضائل عین القضاہ عبداللہ ہمدانی ٥٣٣ھ ٭حضرت ابو عمر و عثمان قرشی ٥٦٤ھ ٭حضرت سلمان ملتانی ٧٣٧ھ ٭حضرت خواجہ محمد یحییٰ بن خواجہ احرار ٩٠٦ھ ٭حضرت شیخ حسین خوارزمی ٩٥٦ھ ٭حضرت سید نورالدین بغدادی ٩٩٩ھ ٭حضرت حافظ برخوردار گنگوہی ١١٦٢ھ ٭حضرت خواجہ عبدالباقی حیات الجسد ١٢٠١ھ ٭حضرت مولانا غریب شاکر آزاد ١٢٦٧ھ

١٢ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد سہیل بن عبداللہ تستری ٢٨٣ھ ٭حضرت ابو بکر علی طرطوسی ٣٧٤ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٦٢٧ھ ٭حضرت محی الدین عربی مکی ٦١٣ھ ٭حضرت شیخ فخر الدین محبوبی ٧٢٧ھ ٭حضرت شیخ محمد سعدی وجوب حیرت ٨١٩ھ ٭حضرت ابو الفضل محمد بغدادی ٨٤٦ھ ٭حضرت سید غیاث اللہ کانپوری ١١٣٧ھ ٭حضرت حاجی عبداللہ آبریز مکی ١٢٠٠ھ ٭شیخ صفی الموسوی٭حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی

١٣ محرم الحرام
٭حضرت شیخ غلان واسطی ٢٨٦ھ٭حضرت ابو بکر محمد واسطی مروزی ٣٠٨ھ ٭حضرت سید کریم مشغول سمنانی ٤٧٥ھ ٭حضرت عماد الدین عمار یا سر سہروردی ٥٩٩ھ ٭حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی دہلوی ٧٣٣ھ ٭حضرت محمد معزالدین اجودہنی ٧٤٩ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٧٨٢ھ٭حضرت شاہ محمد بلخی ٨٩٩ھ ٭حضرت عبدالرحمن یمنی ٩٠٨ھ ٭حضرت عبدالقادر قدرت حق بغدادی ٩٦٩ھ ٭حضرت مولوی خیر الدین ١١٤٧ھ ٭حضرت علامہ غلام حید راجکوٹی ١٣٧٩ھ

١٤ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن مالکی ٢٧٧ھ٭حضرت خواجہ کریم الدین علو ممشاد دینوی ٢٩٩ھ ٭حضرت خواجہ ابو محمد ٣٢١ھ ٭حضرت ابو بکر محمد مصری ٣٤٥ھ ٭حضرت خواجہ اختیار الدین عمر ٨٩٠ھ ٭حضرت شیخ سلیمان مندوی ٩٤٤ھ ٭حضرت شیخ محمد حیات ٩٩٤ھ ٭حضرت شیخ عبدالکریم انصاری ١٠٢٤ھ ٭حضرت اخون الہ دل ١١٥٧ھ ٭حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی ١١٩٨ھ ٭حضرت سید محمد عبداللہ بغدادی ١٢٠٧ھ ٭حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفٰی رضا نوری بریلوی ٭حضرت سید عبدالقدیر میاں ٭حضرت شاہ عبداللہ بغدادی

١٥ محرم الحرام
٭حضرت شیخ ابو محمد بن ابی نصر٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ عیسی مغربی ١٠٩٧ھ ٭مولوی مظہر حسین کاندھلوی ١٢٨٢ھ٭حضرت میاں علی محمد چشتی

١٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ صاحب مسند داری سمرقندی ٢٥٥ھ ٭حضرت ابو الفرح فراغی بصری٤٩٧ھ ٭حضرت درویش محمد بن قاسم اودہے ٨٩٩ھ ٭حضرت شاہ قطب الدین ١٠٢١ھ ٭حضرت بابا نصیب الدین غازی کشمیری ١٠٤٧ھ ٭حضرت سید نتھے خان جی مفاد الاکرام ١١٩٥ھ ٭پیر چراغ علی شاہ ١٣٨٩ھ

١٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد کشادن روح ٧٩٣ھ ٭حضرت شاہ فضیل مرتبہ الوہیت ٩٩٩ھ ٭حضرت گلزار شاہ کشوی ١٢٦٨ھ ٭مولوی غلام محمد ترنم امرتسری ١٣٧٩ھ ٭حضرت پیر سید جماعت علی شاہ٭حضرت شاہ ابو الرضا محمد

١٨ محرم الحرام
٭حضرت امام المسلمین سیدنا علی زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ٩٤ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین احمد الزاہد ٢٢٩ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم بن غیاث الدین ٥١١ھ ٭حضرت نور الدین عبدالرحمن جامی ٨٩٨ھ ٭حضرت مخدوم شاہ صفی عرف عبدالصمد ٩٤٥ھ ٭حضرت دیوان محمد ابراہیم اجودہنی ١٠٣١ھ ٭حضرت قطب الدین بن مولانا فخر ١٢٣٣ھ ٭

١٩ محرم الحرام
٭حضرت سیدنا احمد جیلانی٭حضرت احمد قدیر ٥٣٧ھ ٭حضرت میر سید احمد جیلانی ٨٥٣ھ ٭حضرت مولانا درویش محمد اسفراری ٩٧٠ھ ٭حضرت مولانا محمد درویش ہراتی ٩٨٥ھ ٭حضرتر شیخ محمد صادق گنگوہی ١٠٥٣ھ ٭حضرت محی الدین بن یوسف یحییٰ چشتی مدنی ١١١٣ھ ٭حضرت شاہ غلام نبی لاہوری ١٢٤٧ھ ٭

٢٠ محرم الحرام
٭حضرت کرکم ضحاک بصری ٦٠٦ھ

٢١ محرم الحرام
٭حضرت او العباس عبداللہ بُستی ٣٠٤ھ ٭حضرت ابوالعباس احمد حریثی ٣١١ھ ٭حضرت ابو بکر قطبی ٣٦٨ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل تلمسانی ٣٩٧ھ ٭حضرت شیخ الحرمین ابوالمعالی عبدالملک مکی ٥٤٦ھ ٭حضرت شیخ عدی بن مسافر شامی ہنکاری ٥٥٧ھ ٭حضرت شیخ یونس سیستانی ٦١٩ھ ٭حضرت ظہیر الدین عبدالرحمن بن علی برغش ٧١٦ھ ٭حضرت شاہ سید احمد بخاری ٧٩٩ھ ٭حضرت کرم عدیم بن قاسم انوار ٨٢٣ھ ٭حضرت عبدالنعیم سالک نیشاپوری ٨٤٢ھ ٭حضرت شیخ محمد شریف شوک بابا کشمیری ١٠٢٧ھ ٭حضرت اکسیر عشق ابو المجد پیر محمد سلونی ١٠٩٩ھ ٭خواجہ عبدالرسول قصوری ١٢٩٤ھ ٭حضرت شاہ ابو الفیاض (پٹنہ)

٢٢ محرم الحرام
٭ حضرت شیخ ابو الفتح حمصی٣٠٧ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل نیشاپوری ٥١٣ھ ٭حضرت محمد شاہ نیک اختر نوشاہی ١٣٣٧ھ ٭حضرت سید اصغر حسین ١٣٦٤ھ ٭حضرت سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ،

٢٣ محرم الحرام
٭حضرت مجد الدین بغدادی ٦١٩ھ ٭حضرت شیخ امام الدین قادری پلوسی

٢٤ محرم الحرام
٭حضرت سید حمزہ اصغر بغدادی ٭شاہ ابو الحسن پھلواری ١٣٦٥ھ

٢٥ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن علی ہنکاری ٤٨٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی بن محمد٤٨٦ھ ٭حضرت حافظ عبدالوہاب خالصپوری ١٣١٢ھ ٭حافظ محمد خلیل الرحمن قادری نقشبندی ١٣١٩ھ ٭مولوی مفتی غلام جان ہزاروی ١٣٧٩ھ ٭حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی

٢٦ محرم الحرام
٭حضرت قاضی عبدالمقتدر دہلوی ٧٩١ھ ٭حضرت بابا تاج الدین ناگ پوری

٢٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمدابن داؤد ٣٥٤ھ٭حضرت ابو العباس احمد اسود دینوری ٣٦٧ھ ٭حضرت شیخ ابو داؤد سنجانی طوسی ٤٦٧ھ ٭حضرت ابو سعید شیخ بخاری٥٠١ھ ٭حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ٨٠٨ھ ٭حضرت شیخ اسلم کشمیری ١٢١٢ھ

٢٨ محرم الحرام
٭حضرت ابی الحسن علی دمشقی ٢٨٦ھ ٭حضرت انس بن مالک صخادم ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٥٤ھ٭حضرت شیخ ابو حدین شعیب مغربی ٥٩٠ھ ٭مولوی چراغ علی شاہ قادری محبت پوری ١٣٦٢ھ ٭حضرت شاہ مظفر حسین (پٹنہ)

٢٩ محرم الحرام
٭حضرت خواجہ محمد صالح بلخی ١٠٤٨ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ٭حضرت مولوی شاہ عبدالغنی دہلوی ١٢٩٦ھ ٭حضرت خواجہ فقیر محمد چورہ شریف ١٣١٥ھ٭حضرت سید علی میراں داتا ٭حضرت محمد نقشبند٭حضرت عبید اللہ احرار

٣٠ محرم الحرام
٭حضرت روز بہان بقلی شیرازی ٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ زاہد بن علی مرغابی ٧٩١ھ ٭حضرت سید زین الدین رکنابادی ٧٩٣ھ ٭

 

رضی اللہ تعالیٰ عہنم اجمعین و رحمہما الل