اَلحَمدُ لِلہِ رَبِ العَالَمِینَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ المُرسَلِینَ اَمَّا بَعدُ فَاَعُوذُ بِاللہِ مِنَ الشَیطٰنِ الرَّجِیمِ- بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
سرکارِ مدینہ کا ارشادِ پاک ہے۔
اللہ عزوجل کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مصافحہ کریں اور نبی  پر دُرُود بھیجیں تو اُن کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ بحوالہ، مسند ابی یعلٰی ، مسند انس بن مالک ، ج ۳ ، ص۹۵
شرک کی تعریف
شرک کا معنیٰ ہے اللہ عزوجل کے سوا کسی کو واجبُ الوجود یا مستحق ِ عبادت جاننا یعنی اُلُوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا ۔ بہار شریعت ، حصہ ۱ ، ص ۹۶
واجبُ الوجود ایسی ذات کو کہتے ہیں جس کا وجود ضروری اور عدم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ، جس کو کبھی فنا نہیں ، کسی نے اس کو پیدا نہیں کیا اسی نے سب کو پیدا کیا ہے۔ جو خود اپنے آپ سے موجود ہے اور یہ صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ ہمارا اسلام ، حصہ سِوُم، ص ۹۵
شرک کی اقسام
شرک فی الذات ۔
شرک فی العبادات ۔
شرک فی الصفات
شرک فی الذات۔ اللہ عزوجل کے سوا کسی کو ازلی ابدی مستقل غیر محتاج تسلیم کرنا۔
شرک فی العبادات۔ کسی کو ازلی ابدی سمجھ کر اُس کی بندگی کرنا۔
شرک فی الصفات۔ کسی غیر اللہ میں اللہ جیسی صفتِ ذاتی و ازلی و ابدی تسلیم کرنا۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایک ہوتی ہے عبادت اور ایک ہوتی ہے عبادت ۔ کسی کی تعظیم کرنا شرک نہیں مثلاً والدین کو آتا دیکھ کر تعظیماً اُٹھنا شرک نہیں ہے ۔ یا کسی بزرگ کو آتا دیکھ کر اُٹھنا شرک نہیں ہے۔ بعض کم فہم لوگ تعظیم کو بھی شرک ٹھہراتے پھرتے ہیں مگر خود اپنے استاذ کو آتا دیکھ کر اُٹھ کر کھڑے بھی ہو جاتے ہیں اور اُن کے آگے جھکتے بھی نظر آتے ہیں۔ اگر اِن کی بات مان ہی لی جائے کے تعظیم شرک ہے تو اللہ عزوجل نے قرآن میں تعظیم کا حکم کیوں دیا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔
وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِیۡ وَعَزَّرْتُمُوۡہُمْ سورہ مائدہ ، آیت ۱۲
ترجمہ ۔ میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَعَزَّرُوۡہُ وَنَصَرُوۡہُ وَاتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوۡنَ سورہ الاعراف ، آیت ۱۵۷

ترجمہ ۔ وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اُترا وہی بامراد ہوئے
وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ سورہ حج ، آیت ۳۰
ترجمہ ۔ اور جو اللّٰہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلا ہے
وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ سورہ حج ، آیت ۳۲
ترجمہ ۔ اور جو اللّٰہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے اس کے علاوہ بھی اللہ تعالٰی نے کئی مقامات پر تعظیم کا حکم فرمایا ہے اگر تعظیم کرنا شرک ہوتا تو اللہ تعالٰی قرآن میں تعظیم کا حکم کیوں ارشاد فرماتا؟ یہی کم فہم لوگ شرک فی الصفات کو آڑ بنا کر اپنے کم فہمی کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو اللہ کے سوا کوئی نہیں دیتا اس کے سوا کسی سے مانگنا شرک ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی کو حاجت روا ماننا شرک ہے اللہ کے سوا کسی سے مدد مانگنا شرک ہے۔ تو یہ بات ذہن نشین کر لیجئے کہ اس طرح ہر کسی کو مشرک کہتے پھرنا خود ایمان سے پھرنے کی دلیل ہے۔ اگر کوئی اللہ کے علاوہ کسی کو بالذات مدد کرنے والا تسلیم کرتا ہے تو وہ بلا شبہ کافر ہے مگر یہ نہیں کہ اب کسی سے مدد مانگ ہی نہیں سکتے یہ بلکل غلط ہے۔ جیسے حضور داتا علی ہجویری رحمت اللہ علیہ کو داتا کہا جائے تو دشمنان اسلام اس کو کفر و شرک کہنا شروع کر دیتے ہیں کہتے ہیں داتا تو اللہ ہے کسی بندے کو داتا کہنا کفر ہے تو سنو میرا رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔
اِنَّ اللہَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْبَصِیۡرُ سورہ مؤمن ، آیت ۲۰
ترجمہ ۔ بیشک اللّٰہ ہی سنتا دیکھتا ہے۔
اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ نَّبْتَلِیۡہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا سورہ دہر ، آیت ۲
ترجمہ ۔ بے شک ہم نے آدمی کو پیدا کیا ملی ہوئی منی سے کہ وہ اسے جا نچیں تو اسے سنتا دیکھتا کردیا یہاں دیکھو اللہ عزوجل نے قرآن میں اپنے لئے سمیع اور بصیر کا لفظ استعمال فرمایا اور آدمی کیلئے بھی سمیع اور بصیر کا لفظ استعمال فرمایا ہے یقیناً سمجھ والوں کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہو گی کہ لفظ ایک جیسے آ سکتے ہیں مگر معنیٰ میں برابری نہیں آ سکتی ۔ اللہ جب دیتا ہے تو کسی سے لے کر نہیں دیتا لیکن جب کسی ولی اللہ سے مانگا جائے تو خود سے نہیں دیتے بلکہ وہ اللہ سے لے کر دیتے ہیں اللہ کی صفت ذاتی ہے اور مخلوق میں ہر کسی کی صفت عطائی ہے۔ اگر اب کوئی کہے کہ داتا صاحب تو وہ کافر نہیں ہے ۔ اللہ بھی داتا ہے لاہور والے بھی داتا ہیں لفظوں میں برابری ہے مگر معنیٰ میں نہیں ہو سکتے ۔ کہ اللہ کو جب داتا کہا جاتا ہے تو وہ اس کی بالذات صفت ہے اور جب داتا علی ہجویری رحمت اللہ علیہ کو داتا کہا جائے تو اُن کی یہ صفت عطائی ہے۔ میرا رب عزوجل فرماتا ہے۔
اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ سورہ البقرہ ، آیت ۱۴۲
ترجمہ ۔ بیشک اللّٰہ آدمیوں پر بہت مہربان مہر والا ہے
لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ سورہ توبہ ، آیت ۱۲۸
ترجمہ ۔ بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گِراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔ اس آیت میں دیکھو اللہ عزوجل نے اپنے لیے بھی رؤف و رحیم کے الفاظ استعمال فرمائے اور اپنی نبی ﷺ کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے۔ مزید دیکھو میرا رب تعالیٰ فرماتا ہے۔
اَنۡتَ مَوْلٰىنَا فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ سورہ البقرہ ، آیت ۲۸۶
ترجمہ ۔ تُو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو مولانا کہہ کر پکارا گیا ہے اور وہابی جو کہ کہتا ہے اللہ کہ سوا کوئی مولا نہیں ہے تو وہابی اپنے مولوی کو مولانا کیوں کہتے ہیں اس آیت کی رو سے اللہ کو بھی مولانا کہا گیا ہے اب چاہیے تو یہ کہ اللہ کہ سوا کسی کو مولانا نہ کہا جائے مگر یہ کہتے ہیں ۔ اللہ بھی مولانا مگر کھاتا کچھ نہیں اور وہابی بھی مولانا مگر کچھ چھوڑتا نہیں۔ قرآن پاک میں سورہ یوسف میں وہ واقعہ موجود ہے جہاں قید خانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دو ساتھی آپ علیہ السلام سے اپنا خواب بیان کرتے ہیں تو آپ نے جوتعبیر ارشاد فرمائی اُس کو اللہ عزوجل نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔
یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُکُمَا فَیَسْقِیۡ رَبَّہٗ خَمْرًا سورہ یوسف ، آیت ۴۱
ترجمہ۔ اے قید خانہ کے دونوں ساتھیو تم میں ایک تو اپنے رب (بادشاہ)کو شراب پلائے گا اب بتاؤ کہ بادشاہ کو رب کہا گیا ہے۔ اب کیا کہو گے۔ رب کا معنٰی ہے پالنے والا ۔ اگر لفظِ رب کی نسبت اللہ کی طرف کی جائے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے رب کی عطا سے پالنے والا ۔ اور اگر اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کا معنٰی ہوتا ہے حقیقی پالنے والا۔
عقلمنداں را اشارہ کافی است