موٹاپا
جسم میں موجود چربی کے ذخیروں میں ضرورت سے زیادہ چربی کے اکٹھا ہونے کی حالت کو موٹاپا کہتے ہیں۔ یہ اہم غذائی خرابی سے پیدا ہونے والی پیچیدگی ہے جوکہ زیادہ تر دنیا کے امیر ممالک میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔
موٹاپے کی وجوہات:
عمر: یہ تمام عمر کے لوگوں میں ہوتا ہے مگر عام طور پر درمیانی عمر کے لوگ موٹاپا کا شکار زیادہ ہوتے ہیں۔
جنس: ایک اندازے کے مطابق23 فیصد مرد اور25.4 عورتیں موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔
غذائی عادات:۔ موٹاپے کا سب سے بڑا سبب زیادہ کھانا یا غلط اقسام کی غذا کھانا ہے۔
موروثی وجوہات: بہت سے کیسز میں موٹاپے کی خاندانی تاریخ بھی مثبت کردار ادا کرتی ہے۔
جسمانی سرگرمی:۔ یہ ان لوگوں میں جو سست عادات کے حامل ہوتے ہیں کام کاج سے کترانا بیٹھنے کو ترجیح دینا میں زیادہ ہوتا ہے چست عادات والے لوگ جو زیادہ بھاگ دوڑ میں لگے رہیں کم موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں
نفسیاتی وجوہات:۔ جذباتی انتشار کے نتیجے میں زیادہ کھانے کی عادت انسان میں بڑھتی ہے جوکہ موٹاپے کی طرف لے جاتی ہے۔
معاشی پس منظر:۔ ترقی پذیر ملکوں میں یہ امیروں میں عام مسئلہ ہے جوکہ اپنی خوراک میں لحمیات روغنیات اور نشاستہ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں اور سست عادات کے مالک ہوتے ہیں ۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کم معاشی حیثیت والے لوگوں کے گروہوں میں عام ہے۔
ایڈوکرائن کے سبب: اینڈوکرائن گلینڈ بلا نالی گلینڈ سے رطوبت کے اخراج جیسے ہارمون بھی کہتے ہیں کی خرابی بھی موٹاپا کا اہم سبب بنتا ہے۔تھائی رائیڈ ہارمونز کی وجہ سے اور جسم میں چکنائی کا بڑھتا ہوا تناسب وغیرہ بھی موٹاپے کا باعث ہیں۔
حمل: حمل کے دوران ایک عورت میں چربی کی مقدار بڑھتی ہے جس کی وجہ سے جسم کا وزن4.5 کلو گرام بڑھ جاتا ہے اور یہ حمل کے دوران بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
جگر:ہمارا جگر غذا میں موجود غذائی اجزاءکو کیمیائی عمل سے گزارنے اور ان کو جسم کے دوسرے حصوں تک بھیجنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے گلوکوز یا چربی کی جگہ میں غیر معمولی ترسیل ذیابیطس اور جسم میں کولیسٹرول کے بڑھ جانے کا سبب ہوتی ہے۔ چربی کی وجہ سے بڑھا ہوا جگر بھی عام طور پر ان لوگوں میں مشاہدہ میں آیا ہے جوکہ موٹے ہوتے ہیں یا جو انسولین کی مزاحمت سے متاثر ہوں جگر کے بارے میں عام خیال ہے کہ یہ دل کی بیماری کے خطرے کو کنٹرول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
جنیاتی اسباب:۔ prader-willi syndrom،پیدائشی ذ ہنی پسماندگی اور زیابطیس لارنس مون بیڈی سینڈروم موٹاپا بڑھانے کا اہم سبب بنتے ہیں
Hypothalamic Syndrom اور ہائپوتھیلمس کے زخموں اور رسولیوں کی وجہ سے Polyphagiaبہت زیادہ کھانا بسیار خوری موٹاپا بڑھتا ہے۔
موٹاپے کی اہم علامات:
1۔ نارمل جسمانی وزن سے جسم کا وزن 20 فیصد زیادہ ہونا۔
2۔ مردوں میں شانے کی نوک پر چربی کی تہہ2.5 سم سے زیادہ یا عورتوں میں ٹرائی سیپ کا درمیانی حصہ۔
طبی علامات:۔ جسم کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے اور آہستہ آہستہ جسم کی ساخت اور بناوٹ میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ چربی سارے جسم میں ایک جیسی مقدار میں تقسیم ہو جاتی ہے مگر بعض حالات میں جسے Cushing’s syndromمیں یہ سر یا گردن کندھوں اور شانوں میں بڑھ جاتی ہے اور ٹانگوں کو چھوڑ دیتی ہے(بھینس کی طرح کی تقسیم) جیسے جیسے جسم بھاری ہوتا جاتا ہے۔ حرکات آہستہ ہوتی جاتی ہیں اور کم حیاتی طاقت کی وجہ سے ذرا سی مشقت سے سانس پھول جاتا ہے۔
بعض اوقات ہوا کا اخراج بہت کم ہو جاتا ہے سانس والے عضلات کی اونچی حالت کی وجہ سے یہ موٹاپے کی وجہ Hypoventilation syndrome کہلاتا ہے۔ یا اس کو رک رک کر سانس آنے سے شناخت کیا جاتا ہے آکسیجن کی ترسیل میں کمی، جلد کا نیلا ہوجانا۔ سانس کی نالی میں سوزش ہوا کے اخراج میں خرابی، دائیں ونٹریکل میں رکاوٹ دائیں ونیٹریکل کا بڑھ جانا اور فیل ہو جانا جیسے کہ چربی میں حرارت کے زائل ہونے کے اثرات ہوتے ہیں یہ گرمیوںکے موسم میں بہت زیادہ بے آرامی کا سبب ہوتی ہے۔
خواتین میں ماہانہ نظام کی خرابی بھی موٹاپا کا اہم سبب ہو سکتی ہے۔
مریض کو اپنی ٹانگوں کے وزن پر بیٹھنے میںمشکل پیش آتی ہے کرسی پریا کسی گاڑی میں اٹھنے اور بیٹھے میں مشکل ہو سکتی ہے یا آہستہ آہستہ کچھ مریض مکمل طور چلنا پھرنا بند کر دیتے ہیں اور کسی کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔
پیچیدگیاں:
1۔ میکازکی: جسم کے زیادہ وزن کے سبب، جسم کا وزن اٹھانے والے جوڑوں مثال کے طور پر گھٹنا، ٹخنہ کولہا وغیرہ میں بھر بھرا پن اور تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ پیٹ میں ہرنیا ہو سکتا ہے ۔ ایسوفیگس میں ہرنیا وریدوں کا تنگ ہونا اور پاﺅںچپٹا ہونا جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
2۔ انفیکشن: جلد کی تہوں میں پھیلاﺅ کی وجہ سے صفائی برقرار نہیں رکھی جا سکتی اس لئے فنگس کی وجہ سے یا دوسرے انفیکشن ان جگہوں پر بہت عام ہو جاتے ہیں۔
3۔ کارڈیو وسکولر:(دل کی بیماریوں سے متعلق):
ہائپر ٹینشن(بلڈ پریشر کا بڑھ جانا) خون کی نالیوں میں کولیسٹرول کا زیادہ ہوجانا جیسی بیماریوں لاحق ہو سکتی ہیں۔ درمیانی عمر کے افراد کو انجائنا یا ہارٹ فیل ہو سکتا ہے۔
4۔ میٹابولک: ذیابیطس، خون کی نالیوں کا تنگ ہو جانا کولیسٹرول کی پتھریاں گنٹھیا وغیرہ ہو سکتے ہیں۔
5۔جسمانی پیچیدگیاں:۔ مختلف جسمانی پیچیدگیاں موٹاپا کا شکار لوگوں میں پیدا ہو سکتی ہیں
6۔ حمل کے دوران اور عمل جراحی میں بھی مختلف خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
7۔ خاص اقسام کے سرطان میں ناقابل بیان اضافہ ہو سکتا ہے خاص طور پر پتہ ‘بڑی آنت‘ اینڈ ومیٹیریم اور چھاتی وغیرہ۔
زندگی کی امید:
موٹے لوگوں میں زیادہ لمبی زندگی کی امید کم ہو جاتی ہے بانسبت ان لوگوں کے جو زیادہ موٹے نہیں ہوتے
علاج
Aغذا پر کنٹرول:
ایک متوازن غذا مریض کے متوقع وزن کے لئے مناسب ہوتی ہے۔ غذا میں بھرپور لحمیات شامل ہونی چاہئیں جبکہ چربی اور نشاستہ کم ہونا چاہئے۔1000 حراروں کی خوراک میں 100 گرام نشاستہ 50 گرام لحمیات اور 40 گرام چربی ہونی چاہئے الکوحل سے پرہیز کیا جانا چاہئے۔ معدنیات: حیاتین، پانی اور نمکیات ممنوع نہیں ہونے چاہئیں۔
B ورزش: جسمانی ورزش کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
C ادویات: بھوک روکنے کی ادویات خاص طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ میٹابولزم کے عمل کو تیز کرنے کے لئے بعض اوقات تھائی رائیڈ ہارمون بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔
Dڈائینگ یا کھانا نہ کھانا ڈائٹنگ یا فاقہ کرنا بعض اوقات معاون ثابت ہوتا ہے۔
E جراحی: مخصوص حصوں کے موٹاپے کو کم کرنے کے لئے جراحی بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ عمل جراحی کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ معدہ کو چھوٹا کرنا معدہ کا بائی پاس۔ گیسزوپلاسٹی۔ چھوٹی آنت میں عمل جراحی اور دیگر طریقہ کار طریقہ کار۔
Roux -en- Y procedure اس میں معدہ کے سائز کو چھوٹا کر دیا جاتا ہے اور اس میں بھرے ہونے کا احساس تخلیق کیا جاتا ہے قے آنا اس کا عام مضر اثر ہے۔
لائپو سکشن: جسم کے مخصوص اعضاءسے چربی کو ختم کر دیا جاتا ہے عام طور پر اس کے بعد جسم کے دوسرے حصوں کا وزن بڑھ جاتا ہے۔
F یوگا: کچھ آسن ایسے ہیں جو وزن کم کرنے میں بہت موثر ثابت ہوتے ہیں جسے سکھ آس، کندھوں کو پھیلانا، سوریا نمسکار آردھا مدسینڈر آسن،ٹدآسن فش پوز(مٹیاآسن) ساﺅ آسن کپالا بھاٹی انولوما ولوما وغیرہ۔
ہومیوپتھی طریقہ علاج:
کلکیریا کارب: یہ اس شخص کے لئے استعمال کی جاتی ہے جس کو بہت پسینہ آئے اور وہ کھانا کھانے کے فوراً بعد بھوک محسوس کرے بہت کھانا اور سست نظام ہضم، ناقابل ہضم اشیاءکی خواہش کے ساتھ بدہضمی۔ ذرا سی مشقت سے جسم کے اوپر کے حصے میں بہت زیادہ پسینہ آنا خاص طور پراہم ہے۔
سنکونا آف(چائنا): یہ موٹاپے میں بھوک کو کم کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ بدہضمی کچے پھل اور سبزیاں کھانے کے بعد یہ ان لوگوں کے لئے تجویز کی جاتی ہے۔ جن کا وزن بہت زیادہ ہو مگر وہ اندرونی طور پر کمزور ہوں۔
لائیکوپوڈیم: موٹاپا جوکہ جگر اور نظام ہضم کی خرابی کی وجہ سے بڑھے۔ میٹھے کی خواہش کم ہوجانا، بھوک کم ہونا بدہضمی پیٹ کے نچلے حصے میں گیس کی کیفیت کے ساتھ بہت بھوک لگنا مگر کچھ نوالوں کے بعد پیٹ بھرا ہوا محسوس کرنا۔
تھائیرائیڈ نیم: موٹا پا تھائی رائیڈ کی خرابی کی وجہ سے بڑھنا یہ دوائی ایک طاقتور/ پیشاب آور ہے اور مائیکسوڈیما اوراستسقاءکی دیگر اقسام میں بہت مفید ہے۔
کیلوئراپس: یہ دوائی وزن کم کئے بغیر چربی گھٹانے کےلئے استعمال ہوتی ہے جیسے کہ گوشت کم کر دیا جائے گا پٹھے سخت اور مضبوط ہوں معدہ میں جلن ایک اچھی رہنما علامت ہے۔
اینٹم کروڈ: یہ دوران مریضوں کو دی جاتی ہے جن میں موٹا ہونے کا رحجان زیادہ کھانے اور بدہضمی اور زبان پر سفید تہہ کی وجہ سے ہے۔
فائٹولیکا بیری: یہ وزن کم کرنے کی بہت عام تیار دوا ہے۔
فیوکس ویسی کولس: یہ دوا کلکیریا کا ربونیکا کے بعد دی جاتی ہے ۔ یہ مدر ٹنکچر میں دی جانی چاہئے یہ بدہضمی کے حالت میں بہت مفید ہے گیس اور قبض میں مفید ہے اور ان لوگوں کے لئے بہت موثر ہے جن کے تھائی رائیڈ غدور بڑھے ہوتے ہیں۔
گریفائیٹس: موٹی سفید عورتوں میں ماہواری نظام کے دیر سے آنے کی وجہ سے ہونے والے موٹاپے میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان لوگوں کو دی جاتی ہے جن کو قبض ‘ جلد کا کوئی نہ کوئی مسئلہ ہواور جنسی رغبت کھو چکے ہوں
کارلسباد:یہ دوا جگر پر بہت اچھا کام کرتی ہے اگر جگر کے اوپر چربی اور وزن میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہو تو یہ دوائی ایسے موٹاپا کو ختم کرنے میں بہت مفید ہے
فائٹولائن:یہ جسم میں فالتو چربی کو کم کرنے میں بہت اہم دوا ہے اور یہ ایسے مریضوں کو دی جاتی ہے جن کو چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے میں دشواری ہو اور دل کی دھڑکن نارمل سے کہیں زیادہ بڑھ جایا کرے تو بہتر کام کرتی ہے‘سانس لینے میں دشواری‘زیادہ کام کرنے پردم کشی‘معدہ میں گیس کا پر شور اخراج اور ڈکار آئیں تو یہ مدرٹنکچر میں بہت اچھے رزلٹ دیتی ہے
Esculentine : یہ دو چربی کو کم کرنے کے لئے مفید ہے جو فائٹولائن کے ساتھ ادبدل کر استعمال کی جاتی ہے اور اچھا اثر کرتی ہے جس سے موٹاپا جلد کم ہونا شروع ہوجاتا ہے اور یہ ادویات ٹنکچر کی شکل میں دی جاتی ہیں۔
ہومیوپیتھک کی دیگر ادویات میں جو مریض کی علامات کے مطابق استعمال کی جا سکتی ہیں یہ ہیں۔امونیم کارب‘امونیم میور‘آئیوڈیم‘ارجنٹم نائٹریکم‘کوفیاکروڈ‘کیپسیکم‘فیرم فاس‘اگنیشا‘کالی کارب‘کالی بائیکروم‘سٹیفی ‘اورم میٹ‘نیٹرم میوراوردیگر
اذخود ادویات کا استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے تما م ادویات اپنے معالج کی ہدایت پر استعمال کریں