معدے کا السرایک خطرناک بیماری

معدے اور چھوٹی آنت کے السر بھی پیٹ کی مہلک بیماریوں میں شمار ہوتے ہیں، زخم یا السر اگر معدے میں ہو تو اسے Gastric Ulcer اورچھوٹی آنت میں ہو تو اسے Duadenal Ulcer کہتے ہیں۔ اگر السر معدہ اور آنت دونوں میں ہو تو Peptic Ulcer کہلاتاہے۔ السر کی عام دو وجوہ ہیں۔

۱۔ السر پیدا کرنے والی ادویات کااستعمال

۲۔ انفیکشن یعنی معدے میں بیکٹیریا کی موجودگی۔

دوسری وجہ یعنی HPبیکٹیریا معدے کی حفاظتی تہہ Mucins کو نقصان پہنچاتے ہیں اور معدے میں انفیکشن پیدا کرتے ہیں۔ السر کے ۰۹ فیصد مریضوں میں یہ بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔

جبکہ پہلی وجہ یعنی السر پیدا کرنے والی ادویات میں ان ادویات کا شمار ہے جو کہ سر کمر جوڑ درد، بخار، نزلہ میں اکثر استعمال ہونے والی انگریزی دوائیں ہیں۔

معدے میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ سے زخم کا خطرہ لاحق ہو جاتاہے۔ اس لئے ماہر معالج علاج کے دوران اپنے مریضوں کو تیزابیت کم کرنے والی ادویات بھی تجویز کرتے ہیں۔ عام طور پر السر کے لئے تین چیز میں بنیادی وجوہ مانی گئی ہےں۔ جلدی جلدی کھانا۔ بہت زیادہ مرغن اور مسالہ دار غذائیں کھانا اور بہت زیادہ فکر مند انسان کو السر کی جانب لے جاتی ہے۔ مرچ مسالوں والی غذائیں مستقل کھانا۔ تمباکو نوشی یا شراب نوشی وغیرہ یہ اشیاءمعدے کی جھلیوں کو کمزور کردیتی ہیں۔ جبکہ ذہنی دباو ہر وقت کڑھتا او رپے در پے صدمات کی وجوہ سے معدے کی دیواروں میںدوران خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ مستقل ذہنی پریشانیوں سے ایک مرکب ہسٹامائن بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ وہی عنصر ہے جو جلد پر الرجی کا باعث بھی بن جاتاہے۔ یعنی اوقات خاندانی اثر کی بنا پر بھی السر ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ السر کی علامات:پیٹ میں درد، پیٹ کے درمیان میں پسلیوں کے نیچے جلن سے بیمار ی کی ابتداءکا پتہ چلتا ہے اور یہ جلن بڑھتے بڑھتے درد کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس کے بارے میں اکثر مریض انگلی رکھ کر درست نشاندہی کر دیتے ہیں۔ ابتداءمیں عام طور پر سب سے پہلے معدے میں جلن ہوتی ہے، منہ میں کھٹا یا کڑوا پانی آتا ہے۔ بھوک کم ہو جاتی ہے کھانے کے بعد پیٹ میں بوجھ سا محسوس ہوتاہے۔ متلی اور قے ضروری نہیں ہوتی لیکن اگر بار بار قے آئے تو یہ مطلب ہے کہ معدے کا منہ آتوں کی طرف سے بند ہے یا اس میں جزوی طور پر رکاوٹ آگئی ہے۔ بد ہضمی السر کے مریضوں کاخاصہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ تیزابیت آہستہ آہستہ مریض کو السر کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر السر بڑھ کر پھٹ جائے تو خون بہنے لگتا ہے اور مریض بے ہوش بھی ہوجاتاہے۔ اگر مریض کو فوری طبی امداد نہ دی جائے تو مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ علاج و پرہیز:السر کے مریض میں علاج اور پرہیز دونوں ضروری ہے۔ اس لئے مریض ایسی غذائیں استعمال کریں جو معدے کو مزید تکلیف سے محفوظ رکھ سکیں۔ ٭ جو چیز بھی کھانے سے معدہ مزاحمت کرے ہاضمے میں مشکل ہو یا تکلیف بڑھ جائے اسے کھانے سے گریز کریں۔ ٭ا گر السر دواوں کی وجہ سے ہوا تو اس صورت میں ان ادویات سے گریز کریں۔ ٭ جلدی جلدی کھانے اور مرغن مسالے دار کھانے، اچار، بہت زیادہ نمکین یاسرخ مرچ کی چٹ پٹی چیزوں کواستعمال نہ کریں بلکہ غذائیں ہلکی پھیکی استعمال کریں۔ ٭السر کے مریضوں کو لیموں یا مالٹے اور سوڈا وغیرہ استعمال نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس میں قدرتی تیزابیت موجود ہوتی ہے جس سے السر کی تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ ٭دودھ کے استعمال سے السر کے مریضوں کو عارضی راحت پہنچتی ہے۔ دودھ معدے کے تیزابیت کوعارضی طور پر غیر موثر کر دیتاہے۔ اس لئے دودھ سے السر کے مریضوں کو آرام محسوس ہوتاہے۔ لیکن بعد میں دودھ میں موجود کیلشیم کے باعث تیزابیت بڑھ جاتی ہے تیزابیت کی پیداوار بڑھ جانے سے تکلیف میں اضافہ ہو سکتاہے۔ ٭ ذہنی دباواور پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کی کوششیں کریں۔ ٭ماحول کو پرسکون اور صاف ستھرا بنائیں۔ غذا اور پانی کی صفائی کاخصوصی خیال رکھیں۔ ٭کھانا کھانے کا ٹائم بنا لیں اور اپنی غذا میں سبز پتوں والی سبزیوں کا عام استعمال کریں۔ ٭سونے اور جاگنے کا وقت متعین کر لیں۔ پیدل چہل قدمی کا وقت نکالیں، ہلکی ورزش کریں۔ ٭ اگر مستقل بدہضمی کی صورت یا تیزابیت یا پیٹ میںدرد ہو تو علامات کے مد نظر ہومیوپیتھ سے رابطہ قائم کریں یا پھر ماہر امراض معدہ و امعا (آنتیں) Gastroentrologist سے رجوع کریں اور اپنا تفصیلی معائنہ کروائیں۔ ہومیو پیتھک علاج: ٭اکونائٹ Aconite: خوف و پریشانی کی حالت میں ذکی الحس معدہ، درد، تناو، چھوٹا، برداشت نہ ہو۔ پانی کے سوا ہر چیز کڑوی لگے۔ قے کردے بلغم یا خون ملے مواد کی قے، معدے میں دباو معدے سے خوراک کی نالی کے منہ تک جلن ہو۔ ٭ ایتھوزا Aethusa: معدہ میں تکلیف اور کھنچاوٹ کے ساتھ درد، قے اور زبردست کمزوری کا احساس، جلن، اور معدے میں چیرنے پھاڑنے جیسا درد ، معدہ ذکی الحس۔ ٭آرنیکا Arnica: معدہ بھاری جیسے پتھر رکھا ہوا ہو، سڑی ہوئی قے ،کھانا کھاتے وقت درد ہو، کھانے سے نفرت، ایسی علامات میں صرف یک ڈوز دیکر انتظار کریں۔ ٭برائی اونیاBryonia: پیٹ ذکی الحس ، پیٹ کے بالائی حصہ ذکی الحس ، معدہ کا درد کھانے پینے کے بعد قے کردے، ذائقہ کی حس ختم ہوجاتی ہے جلن کے ساتھ درد ، سوئی گڑنے جیسا درد ہو، قبض اور معدہ کی خرابیوں میں دیں۔ دیگر تمام ادویات میں کیلنڈولا، کلکیریا کارب، کاربوویج، کالوسنتھ، گریفائٹس، ہپریکم، کالی بائی کروم، لائیکو پوڈیم، نکس وامیکا، پلساٹیلا، رسٹاکس، تھوج وغیرہ ہومیوپیتھی کی قابل ذکر ادویات ہیں۔ جنہیں السر Ulcerکے مریضوں کو فوری طبی امدا کے طور پر بھی دی جا سکتی ہے۔ تاکہ مریض مزید تکلیف سے راحت پا سکے اور علاقائی طور پر لگنے والی ادویات مستقل استعمال کر کے مریض کو السر سے مستقل طور پر آسانی فراہم کی جا سکتی ہے۔ ٭٭٭٭٭٭