ویکسین ۔۔۔۔حفاظت بھی ضرورت بھی

دنیا میں ہر سال 1.3ملین بچے ایسی بیماریوں سے ہلاک ہوتے ہیں جنہیں ویکسین کے ذریعے بڑی اسانی سے روکا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحت کے جدید تصور میں دوسری حفاظتی تدابیر کے ساتھ ساتھ ویکسینشن کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے اورعالمی سطح پر ایمو نائزیشن کے ذریعے کئی مہلک بیماریوں کی شرح میں بڑی حدتک کمی کی گئی ہے۔ ویکسینیشن کے نتیجے میں 1980 ءمیں دنیا سے چیچک کا خاتمہ کیا گیا ۔ اسی طرح ترقیافتہ ممالک میںخناقDeptheria ، پولیو اور بچوں کے تشنج Tetanusکا تقریباً خاتمہ کیا گیا ہے۔ امریکہ میں ویکسینشن کی وجہ سے گردن توڑبخار اور ہیمو فیلس اینفلوئنزا بی کی شرح 95% تک گر گئی ہے ۔امریکہ میں 90% اور کینڈا میں 85% بچے دو سال تک تمام مجوزہ ویکسنیشن کا کورس مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔
ویکسینشن کے ذریعے انسانی جسم میں کسی بیماری کے خلاف مدافعتی نظام کو فعال بنایاجاتا ہے۔ اس طریقے کار کے لیبارٹری میں کسی مخصوص بیماری کے مردہ یا کمزور کئے گئے وائرس یا بیکٹریا جسم میں داخل کئے جاتے ہیں۔ تیار شدہ ویکسین میں موجود جر ثومے اس قابل نہیں ہوتے کہ جسم کو بیماری میں مبتلا کر دیں بلکہ اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔
وطن عزیز کی 5ملین آباد ی پانچ سال سے کم عمر کے بچوں پر مشتمل ہیں جن میں سے ہرسال4,70,000 مختلف وجوہات کی بناءپر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ملک میںبچوں کی شرح اموات عالمی معیار سے بہت نیچے ہے اور اس وجہ سے پاکستان بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے دُنیا میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ بچوں کی اموات کے اسباب میں ناقص اور ناکافی غذا، عد م صفائی اور ویکسین سے قابل تدارک بیماریاں شامل ہیں۔ ایک سروے کے مطابق صرف47% بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کیا جا تا ہے جبکہ تشنج سے بچاو کے ٹیکے صرف50% بچوں کو لگائے جاتے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کی اموات کی شرح کی بڑی وجہ بچوں کی حفاظتی ٹیکوں کا کورس کروانے سے گریز ہے۔ اکثر والدین ویکسین کی اہمیت اور افادیت سے پوری طرح اگاہ نہیں اور حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل نہیں کرواتے۔ حالانکہ اٹھ قابل تدارک جن میں پولیو،کالی کھانسی، خسرہ،ٹی بی ،خناق،گردن توڑ بخار،تشنج اور ھیمو فیلس انفلوئنزا بی شامل ہیں کے حفاظتی ٹیکے لگوا کر بچوں کی اموات میں کمی کی جا سکتی ہے۔
ہمارے ملک اور خصوصاً صوبے میں ایک طرف بچوں کی صحت کی سہولیات اور سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی ہے تو دوسری طرف غربت ، تعلیم کی کمی اور عدم آگاہی کی وجہ سے دستیاب وسائل سے بھی پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ اس وقت صوبے میں بچوں کے لئے کوئی سپیشلائنرڈ ہسپتال نہیں۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 60 اور خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 30 بستر بچوں کے لئے مخصوص ہیں۔ ان حالات میں بچوں اور ماﺅں کی صحت کے لئے صحت عامہ کے اُصولوں پر عمل اور حفاظتی طریقوں پر عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں تاکہ بچوں کو بیماریوں سے بچاکر ہسپتالوں سے رجوع کرنے کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔
عوام میں ویکسنیشن کے بارے میں آگاہی عام کرنے اور حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہنے والے بچوں کے والدین کو ویکسین کی فراہمی کے لئے آ مادہ کرنے کے لئے ایمونائزیشن کا ہفتہ منایا جارہاہے۔ اس ہفتے کی سرگرمیاں30 اپریل تک جاری رہیں گی۔یہ ہفتہ دنیا کے 21ممالک میں ایک ساتھ منایا جاتا رہاہے۔ اسکامقصد لاکھوں بچوں کو معذوری یا ہلاکت سے بچانا ہے کیونکہ ویکسینیش صحت کا سستا، موثر اور محفوظ ذریعہ ہے۔بچپن میں لگائے گئے حفاظتی ٹیکوں سے بلوغت کے بعد بھی تحفظ ملتا ہے۔
اس ہفتے کے مقاصد میں ماﺅں میں خصوصی طور پر مدافعتی ویکسین کے بارے میں آگاہی پھیلانا اورحاملہ خواتین کو ٹی ٹی کی ویکسین لگوانے کی ترغیب دینا ہے۔ اس ہفتے کو اچھی طرح منانے اور زیادہ سے زیادہ آبادی تک پہنچنے کے لئے اضلاع کی سطح پر منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ویکسین کی افادیت اجاگر کرنے کے لئے کئی سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں جن میں واک ،پمپلٹس اوربیل بورڈزکے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے پیغامات کی تشہیر شامل ہیں۔ اس مہم کا مقصد والدین کو اپنے بچوںکی حفاظتی ٹیکوں اور پو لیو کے قطروںکا کور س بروقت مکمل کروانے کا احساس دلانا ہے۔ کیونکہ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے بچے کو قابل تدارک اٹھ بیماریوںسے زندگی بھر کیلئے نجات مل سکتی ہے۔اس ہفتے کے دوران صحت کے مراکز میں حفاظتی ٹیکو کی سہولت موجود ہوگی۔
حفاظتی ویکسین میں اٹھ بیماریوں کے ٹیکے اور پولیو کے قطرے شامل ہیں۔حفاظتی ٹیکوں کے کور س کے تحت پیدائش کے فوراً بعد بچے کوبی سی جی کاٹیکہ اور پولیو کے قطرے،چھہ ہفتے کے بعد پینٹا ون اور پولیو کے قطرے،دس ہفتے کے بعد پینٹاٹو اور پولیو کے قطرے،چودہ ہفتے کے بعد پینٹا تھری اور پولیو کے قطرے، نو ماہ کے بعد خسرے کاپہلا ٹیکہ اورپولیو کے قطرے اورپندرہ ماہ کے بعد خسرے کا دوسرا ٹیکہ اورپولیو کے قطرے دئے جاتے ہیں۔اسی طرح حاملہ ماﺅں کو ٹی ٹی کے دو ٹیکے حمل کے دوران اور ایک ٹیکہ بچے کی پیدائش کے بعد لگایا جاتا ہے۔
ٹی بی کا ٹیکہ: ان میں پہلا ٹیکہ بی سی جی یا ٹی بی کا ٹیکہ ہے۔ ٹی بی بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہے اور ۰۳ سے ۰۴ فیصد بچے اس مہلک بیماری سے ہلاک ہوتے ہیں۔اس بیماری سے بچنے کیلئے پیدائش کے فوراً بعد ہی بی سی جی کا ٹیکہ لگوانا چاہیئے۔
خسرہ:  یہ ایک متعدی بیماری ہے جو سانس کے ساتھ جراثیم بدن کے اندرجانے سے ہوتا ہے۔ پہلے بخار، زکام اور کھانسی ہوتی ہے اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہے۔ بخار میں دورے پڑتے ہیں ، تین چار دن بعد سرخ رنگ کے چھوٹے چھوٹے دانے چہرے اور کانوں کے پیچھے نکلتے ہیں اور آہستہ آہستہ پورے جسم پر پھیلتے ہیں۔ اس بیماری کی وجہ سے ٹی بی بھی ہو سکتی ہے۔خسرہ کا ٹیکہ لگوانے سے اسکا روک تھام ہو سکتا ہے۔
پولیو:  یہ بیماری آلودہ خوراک کے ذریعے منہ کے راستے مخصوص وائرس کے جسم میںداخل ہونے سے لاحق ہوتی ہے۔ اس مرض کے جراثیم اعصابی نظام اور ریڑھ کی ھڈی پر اثر انداز ہو کر جسم کے کسی عضو کو ناکارہ بناتے ہیں۔اس کے ابتداءمیں زکام، ٹھنڈ اور بخار ہوتا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانے سے اس کا تدارک ہو سکتا ہے۔موثر ویکسین کے ا ستعمال کے ذریعے تقریباً پوری دنیا سے اسکا خاتمہ کیا گیا ہے،صرف گنے چنے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے میں اس کا وائرس موجود ہے۔پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاﺅ کے قطروں کے ذریعے مستقل معذوری سے بچا جا سکتا ہے۔
خناق:  اس بیماری میں بخار، گلے میں درد اور گردن میں تناﺅ کے علاوہ شدت کی صورت میں سانس لینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے جراثیم دل اور نسوںپر اثر انداز ہو کر جسم کو کمزور کرتے ہیں۔یہ بیماری موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
تشنج۔جھٹکے کی بیماری: یہ بیماری نوزائیدہ بچے کا نال گندے اوزار یا جراثیم سے آلودہ پاوڈر چھڑکنے سے ہوتا ہے۔اس بیماری کی وجہ سے بچہ منہ نہیں کھول سکتاہے اور اس کو جھٹکے لگتے ہیں۔ اس بیماری سے ۰۶ سے ۰۷فیصد بچے ہلاک ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 2007 تشنج سے 180,000 ہلا ک ہوگئے تھے۔ اسوقت 47ممالک میں یہ بیماری پائی جاتی ہے جبکہ تمام ممالک تشنج لاحق ہونے کی شرح کو ایک ہزار ولادتوں میں ایک سے بھی کم کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔اس بیماری سے بچاﺅ کے لئے بچپن ڈی پی ٹی کی تین خوراکیں پھر 4سے7سال کی عمراور 12سے 15سال کی عمر ٹی ٹی لینا چاہئے۔ یہ بیماری بڑے بچوں اور بالغ آدمی کو بھی ہو سکتی ہے۔ حاملہ ماں کو دو مرتبہ ٹی ٹی کا ٹیکہ لگوانے سے نوزائیدہ بچے اور ماں دونوں کو اس بیماری سے بچایا جا سکتا ہے۔
گردن توڑبخار:اس بیماری میں پہلے سردرداورقے کی شکایت ہوتی ہے اور پھریہ اعصابی نظام پر اثرانداز ہوتی ہے جس سے گردن میں سختی ا¿جاتی ہے۔یہ کسی بھی صنف اور کسی بھی عمر کے فرد کو ہوسکتی ہے لیکن بچے خصو صی طور پراس کا شکار ہوتے ہیں۔اس کے جراثیم نمدار اور پر ہجوم مقامات پر ہوتے ہیں۔
ہیمو فیلس اینفلوئنزا بی: یہ متعدی بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے منہ اورناک کی رطوبتوں سے لگتی ہے۔اسمیں بخار،سردرد اور سردی کے علاوہ جوڑوں،کمر اور ٹانگوں میں درد ہوتا ہے۔گلے کی خرابی اور خشک کھا نسی ا س کی نمایان علامات ہوتی ہیں۔یوں توں یہ بیماری ہرعمرکے افراد کوہو سکتی ہے لیکن دس سال تک کے بچے اس کا خصوصی طور پر شکا ر ہوتے ہیں۔نمونیہ اوراس بیمار ی کاتدارک ویکسین کے ذریعے ہوسکتا ہے۔
کالی کھانسی: اس بیماری میں دورے پڑتے ہیں۔ بچہ نڈھال ہو جاتا ہے۔چہرہ سرخ، ہونٹ پیلے اور آنکھیں باہر نکل آتی ہیں۔ دورے میں سانس بند ہونے سے بچے کا انتقال ہوجاتا ہے۔ چھ ماہ سے کم عمر کے بچوں میں یہ خطرناک بیماری ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے بچوں میں کھانسی کے ساتھ سیٹی جیسی آواز آتی ہے اور الٹیاں بھی ہوتی ہےں۔
تندرست جسم ،صحت مند خاندان اورخوشحال معاشرے کے منزل کو پانے کیلئے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو حفاظتی ویکسین کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ بیماریوں سے بچاﺅ کا یہ موثر اور سستا طریقہ ہے۔ حفاظتی ٹیکوں پر توجہ دینے سے امراض کے بوجھ کو کم کر کے ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکتا ہے۔