Leave a comment

 

 

Simple Forex Program

Leave a comment

HOW TO MAKE MONEY IN THE FOREX MARKET Simple Forex Program http://onlinemazacorner.com

via Simple Forex Program.

About onlinemaza

Leave a comment

Daily News Paper Urdu Health Care Eye Care Your Health Urdu

Pakistan News Indian Pakistani Drama Lahore Videos Cancer Care Health
Live TV Channel Online indian Pic Gallery Nargis Mujra Songs Skin Care

New Fashion Trends Health And Homeopathy Islamic sites Make Money Home

Free SEO Tools Google Adsense Urdu Seo training Free SMS
islamic wallpaper
Nausha Ganj Bakhsh Qadri (ra)
PEER Latif Noushahi Istikhara
Urdu Islamic Books Zia Rohani Health Instal Softwares Free tecnology
UFONE ZONG Online Courses Easy English Learn
Online Insurance Online Jobs Pakistan

Online Maza Corner.com
Free Online Maza & Maste Corner

تحفظ ناموس رسالت

Leave a comment

تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم

تحفظ ناموسِ رسالت ؐ اور ہماری ذمہ داری

شکریہ ڈاکٹر انیس احمد

پاکستان کی داخلی سیاست میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد، خصوصاً ایسے مواقع پر جب ملک کو سخت معاشی بحران اور سیاسی انتشار کا سامنا ہو، بعض ایسے معاملات کو جو غیرمتنازع اور اُمت کے اندر اجماع کی حیثیت رکھتے ہوں ،نئے سرے سے کھڑا کر دیا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ کو معاشی اور سیاسی مسائل سے ہٹا کر ان معاملات میں اُلجھا دیا جائے اور غیرمتنازع امور کو متنازعہ بنا دیاجائے۔ اس سلسلے میں الیکٹرونک میڈیا باہمی مسابقت اور بعض دیگر وجوہ سے مسئلے کو اُلجھانے میں اور ان سوالات کو اُٹھانے میں سرگرم ہوجاتا ہے جو نام نہاد حقوق انسانی کے علَم بردار اور سیکولر لابی کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔

ان موضوعات میں ایک قانونِ ناموس رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس میں سیکولر لابی اور بیرونی امداد کے سہارے چلنے والی این جی اوز اور انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے والے بعض ادارے نہ صرف خصوصی دل چسپی لیتے ہیں بلکہ منظم انداز میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ملک کو تصادم کی طرف دھکیلنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کل ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حوالے سے ملکی صحافت اور ٹی وی چینل عوام الناس کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مروجہ قانون ایک انسانی قانون ہے۔ یہ کوئی الٰہی قانون نہیں ہے، اس لیے اسے تبدیل کرکے شاتمِ رسولؐ کے لیے جو سزا قانون میں موجود ہے، اسے ایسا بنادیا جائے جو ’مہذب دنیا‘ کے لیے قابلِ قبول ہوجائے (حالانکہ اس ’مہذب دنیا‘کے ہاتھوں دنیا کے گوشے گوشے میں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے، اسی ’مہذب دنیا‘ نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر پوری دنیا میں دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے جس سے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں اور اب بھی ہزاروں کو محض شبہے کی بنیاد پر گولیوں اور میزائل کا نشانہ بنایا جارہا ہے)۔ واضح رہے کہ موصوفہ کا معاملہ ابھی عدالتِ عالیہ میں زیرسماعت ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک طوفان برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گورنر پنجاب نے بھی اپنے اخباری بیان میں اسی بات پر زور دیا کہ یہ ایک انسان کا بنایا ہوا قانون (بلکہ العیاذ باللہ ان کے الفاظ میں: ’کالا قانون‘) ہے اور اسے تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وہ اپنے منصب کے دستوری تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے جیل میں پہنچ گئے اور ملزمہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس تک منعقد کرڈالی جو ملک میں نافذ دستور اور نظامِ قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف تھی۔ ہم چاہیں گے کہ اس موضوع پر انتہائی اختصار کے ساتھ معاملے کے چند بنیادی پہلوؤں کی طرف صرف نکات کی شکل میں اشارتاً کچھ عرض کریں۔

مسئلے کا سب سے اہم اور بنیادی پہلو وہی ہے جسے ایک صوبائی گورنر نے متنازعہ بنانا چاہا ہے، یعنی شاتمِ رسولؐ کی سزا کیا انسانوں کی طے کی ہوئی شے ہے، یا یہ اللہ کا حکم ہے جس کی بنیاد قرآن و سنت کی واضح ہدایات اور نصوص ہیں، نیز کیا یہ حکم اسلام کے ساتھ خاص ہے یا یہ الٰہی قانون تمام مذاہب اور تہذیبوں کی مشترک میراث ہے۔ مناسب ہوگاکہ قرآن کریم یا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے سے قبل یہ دیکھ لیا جائے کہ کیا قبلِ اسلام اس نوعیت کا کوئی الہامی یا الٰہی حکم پایا جاتا تھا یا نہیں۔

یھودیت اور عیسائیت میں

یہودی اور عیسائی مذہب کی مقدس کتابوں عہدنامہ قدیم اور عہدنامہ جدید پر نظر ڈالی جائے تو عہدنامہ قدیم میں واضح طور پر یہ الفاظ ملتے ہیں:

you shall not revile God (Exodus 22: 28)

اس کا مفہوم یہ ہوگا: ’’تو خدا کو نہ کوسنا‘‘ اور بُرا بھلا نہ کہنا‘‘ (ملاحظہ ہو، کتاب مقدس پرانا اور نیا عہدنامہ، لاہور ۱۹۹۳ء، بائبل سوسائٹی، ص ۷۵)۔ عہدنامہ قدیم میں آگے چل کر مزید وضاحت اور متعین الفاظ کے ساتھ یہ بات کہی گئی: اور جو خداوند کے نام پر کفر بکے ضرور جان سے مارا جائے۔ ساری جماعت اسے قطعی سنگسار کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جب وہ پاک نام پر کفر بکے تو وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ (ایضاً احبار، باب ۲۴:۱۵۔۱۷، ص ۱۱۸)

انگریزی متن کے الفاظ بھی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے:

And he that blasphemeth the name of the Lord, he shall surely be put to death, and all the congregation shall certainly stone him: as well as the stranger, as he that is born in the Land, when he blashphemeth the name of the Lord, shall be put to death. (Leveticm 24: 11-16).

میثاقِ جدید کے یہ الفاظ بھی قابلِ غور ہیں:

Wherefore I say unto you, all manner of sin and blasphemy shall be forgiven unto men: but to blasphemy against the Holy Christ, shall not be forgiven unto men. (Mathen 12:31).

اس کا مفہوم یہ ہوگا: ’’اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روحِ مقدس کے بارے میں ہو، وہ معاف نہ کیا جائے گا‘‘ (متی باب ۱۲: ۳۱، کتاب مقدس، مطبوعہ بائبل سوسائٹی، انارکلی لاہور،۱۹۹۳ء، میثاقِ جدید،ص ۱۵)

قرآن و سنت کی رو سے

اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو شخص بغاوت (treason) کرتا ہے، قرآن کریم نے اس کی سزا کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے چنانچہ فرمایا گیا:

اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o (المائدہ ۵:۳۳)جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلاوطن کردیے جائیں۔

سورۂ مجادلہ میں بھی اس طرف اشارہ کیا گیا، چنانچہ فرمایا:

اِِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ کُبِتُوْا کَمَا کُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَقَدْ اَنْزَلْنَآ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ ط وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ o (المجادلہ ۵۸:۵) جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل کیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کیے گئے تھے اور ہم نے صاف اور کھلی آیتیں نازل کر دی ہیں جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا۔

گویا الٰہی قانون میں توہینِ رسالت (blasphemy )کی سزا بنی اسرائیل کے لیے، عیسائی مذہب کے پیروکاروں کے لیے، اور اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یکساں طور پر مجرم کا قتل کیا جانا ہے۔

ایک لمحے کے لیے اس پہلو پر بھی غور کرلینا مفید ہوگا کہ کیا ایسی سزا کا نفاذ ایک ایسی ہستیؐ کے مزاج، طبیعت اور شخصیت سے مناسبت رکھتا ہے جسے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تمام عالَموں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہو، جو خون کے پیاسوں کو قبائیں دینے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو اپنے چچاؓ کے قاتلوں کو بھی معاف کردینے کا دل گردہ رکھتا ہو۔ بات بڑی آسان سی ہے۔ سیرتِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے تابناک ابواب میں سے فتح مکہ کے باب کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ہرممکنہ ظلم مکّی دور میں آپؐ پر کیا، حضرت یوسف ؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپؐ نے ان سب کو معاف کر دیا، لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ___ لیکن بات یہاں رُک نہیں گئی ___ اس عظیم معافی کے باوجود وہ چار افراد جو ارتداد اور توہینِ رسالتؐ کے مرتکب ہوئے پیش کیے گئے تو ان کے قتل کا فیصلہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا اور ان تین مردوں اور ایک خاتون کو موت کی سزا دی گئی۔ ان میں سے خاتون قریبہ جو ابن اخلی کی لونڈی تھی مکہ کی مغنیہ تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ہجو پر مبنی گیت اس کا وتیرہ تھے۔ (ملاحظہ ہو: بخاری، فتح مکہ اور شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ، جلد اوّل، اعظم گڑھ، مطبع معارف، ۱۹۴۶ء، ص ۵۲۵)

یہ محض ایک واقعے سے استدلال نہیں، نبی اکرمؐ کے ایک قانونی فیصلے کا معاملہ ہے جو اُمت کے لیے ہمیشہ کے لیے حجت ہے۔

قرآن و سنتِ رسولؐ کے ان نصوص کے بعد قرآن اور حدیث کو سند اور حجت ماننے والا کوئی شخص کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ شاتمِ رسولؐ کی سزا قتل کے علاوہ کچھ اور ہوسکتی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر اُمت مسلمہ کا اجماع ہے۔ چنانچہ وہ اہلِ سنت ہوں یا اہلِ تشیع، ۱۵ سو سال میں اس مسئلے پر کسی کا اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اس سلسلے میں فقہاے اُمت میں علامہ ابن تیمیہ کی الصارم المسلول علی شاتم الرسولؐ، تقی الدین سبکی کی السیف المسلول علی من سب الرسولؐ، ابن عابدین شامی کی تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیرالانامؐ ان چند معروف کتب میں سے ہیں جو اس اجماعِ اُمت کو محکم دلائل اور شواہد کے ساتھ ثابت کرتی ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیکولر لابی عموماً اس معاملے میں اپنا نزلہ مولویوں پر ہی گراتی ہے کہ یہ ان کا پیدا کردہ مسئلہ ہے ورنہ جو لوگ روشن خیال، وسیع القلب اور تعلیم یافتہ شمار کیے جاتے ہیں، وہ اس قسم کے معاملات میں نہ دل چسپی رکھتے ہیں اور نہ ایسے مسائل کی توثیق کرتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ اس حوالے سے صرف دو ایسی شخصیات کا تذکرہ کردیا جائے جنھیں سیکولر لابی کی نگاہ میں بھی ’روشن خیال‘، ’وسیع القلب‘ اور’ تعلیم یافتہ‘ تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ مغربی قانون اور فلسفۂ قانون پر ان کی ماہرانہ حیثیت بھی مسلّم ہے۔ گویا کسی بھی زاویے سے انھیں مولویوں کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا، یعنی بانیِ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح اور تصورِ پاکستان کے خالق اور شارح علامہ ڈاکٹر محمد اقبال۔

اس خطے میں جب غازی علم الدین شہید نے ایک شاتمِ رسولؐ کو قتل کیا تو ملزم کا وکیل کوئی ’مولوی‘ نہیں وہی ’روشن خیال‘ برطانیہ میں تعلیم پانے والا، اصول پرست اور کھرا انسان محمد علی جناح تھا جس نے کبھی کوئی جھوٹا یا مشتبہ مقدمہ لڑنا پسند نہیں کیا اور اپنے ملزم کے دفاع میں اور ناموسِ رسولؐ کے دفاع میں اپنی تمام تر صلاحیت کو استعمال کیا۔ اور جب غازی علم الدین کی تدفین کا مرحلہ آیا تو ’روشن دماغ‘ علامہ اقبال نے یہ کہہ کر اسے لحد میں اُتارا کہ’’ایک ترکھان کا بیٹا ہم پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا‘‘۔

سوچنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ کیا یہ دو ماہر قانون دان ’حریت بیان‘، ’قلم کی آزادی‘ ، ’انسان کے پیدایشی حقِ اظہار‘ سے اتنے ناواقف تھے کہ ’جذبات‘ میں بہہ گئے۔

بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی

معاملے کا دوسرا پہلو حقوقِ انسانی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر انسان کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی راے کا اظہار کرے اور اگر کوئی چیز قابلِ تنقید ہو تو اس پر تنقید بھی کرے، لیکن کسی بھی انسان کو آزادیِ قلم اور حریت بیان کے بہانے یہ آزادی نہیں دی جاسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد کی عزت، ساکھ، معاشرتی مقام اور کردار کو نشانہ بناکر نہ صرف اس کی بلکہ اُس سے وابستہ افراد کی دل آزاری کا ارتکاب کرے۔

اگر یورپ کے بعض ممالک میں (مثلاً ڈنمارک، اسپین، فن لینڈ، جرمنی، یونان، اٹلی، آئرلینڈ، ناروے، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا وغیرہ) آج تک blasphemy یا مذہبی جذبات مجروح کرنے پر قانون پایا جاتا ہے اور برطانیہ جیسے رواداری والے ملک میں ملکہ کے خلاف توہین blasphemy کی تعریف میں آتی ہے، تو کیا کسی کارٹونسٹ یا کم تر درجے کے ادیب یا ادیبہ بلکہ کسی بھی فرد کو یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ گھٹیا ادب کے نام پر جو ہرزہ سرائی چاہے کرے۔ معاملہ تحریر کا ہو یا تقریر کا، ہر وہ لفظ اور ہر وہ بات جو ہتک آمیز ہو، اسے ’آزادیِ راے‘ کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ ایسی بدیہی حقیقت ہے جس کا انکار کوئی عقل کا اندھا ہی کرسکتا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں آزادیِ راے کے نام پر کسی دوسرے کے حقِ شہرت، حقِ عزت کو پامال نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ھولوکاسٹ پر تنقید جرم

سیکولر اور آزاد خیال دنیا جس چیز کو اہم سمجھتی ہے، اس پر حرف گیری کو جرم قرار دیتی ہے اور عملاً اپنے پسندیدہ تصورات اور واقعات پر تنقید، محاسبے اور بحث و استدلال تک کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

آج جو لوگ اللہ کی مقدس کتابوں کی تحقیر و تذلیل اور اللہ کے پاک باز رسولوں کو سب و شتم کا نشانہ بنانے سے روکنے کو آزادیِ راے اور آزادیِ اظہار کے منافی قرار دیتے ہیں اور ان گھناؤنے جرائم کے مرتکبین کو پناہ دینے میں شیر ہیں، ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جرمنی میں ہٹلر کے دور میں یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے اور جنھیں بین الاقوامی قانون اور سیاست کی اصطلاح میں ’ہولوکاسٹ‘ کہا جاتا ہے محض یہودیوں اور صہیونیت کے علَم برداروں کو خوش کرنے کے لیے ان پر تنقید کو اپنے دستور یا قانون میں جرم قرار دیتے ہیں۔ ایسے محققین، مؤرخین اور اہلِ علم کو جو دلیل اور تاریخی شہادتوں کی بنا پر ’ہولوکاسٹ‘ کا انکار نہیں صرف اس کے بارے میں غیرحقیقی دعووں پر تنقید و احتساب کرتے ہیں، نہ صرف انھیں مجرم قرار دیتے ہیں بلکہ عملاً انھیں طویل مدت کی سزائیں دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر آسٹریا کا قانون National Socialism Prohibition Law 1947 amended 1992کی رُو سے جو مندرجہ ذیل جرم کا ارتکاب کرے گا:

Whoever denies, grossly plays down, approves, or tries to excuse the National Socialist genocide or other National Socialist crimes against humanity in print publication, in broadcast or other media….will be punished with imprisonment from one to ten years, and in cases of particularly dangerous suspects or activity be punished with upto twenty years imprisonment

جو کوئی طباعتی، نشری یا کسی اور میڈیا میں انسانیت کے خلاف قومی سوشلسٹ جرائم یا قومی سوشلسٹ نسل کشی کا انکار کرتا ہے، یا اسے بہت زیادہ کم کر کے بیان کرتا ہے یا اس کے لیے عذر فراہم کرتا ہے، اسے ایک تا ۱۰ سال کی سزاے قید اور خصوصی طور پر خطرناک مجرموں کو یا سرگرمیوں پر ۲۰سال تک کی سزاے قید دی جاسکے گی۔

آسٹریا میں یہ قانون کتابِ قانون کی صرف زینت ہی نہیں ہے بلکہ عملاً دسیوں محققین، اہلِ علم، صحافیوں اور سیاسی شخصیات کو سزا دی گئی ہے اور برسوں وہ جیل میں محبوس رہے ہیں۔ اس سلسلے کے مشہور مقدمات میں مارچ ۲۰۰۶ء میں برطانوی مؤرخ ڈیوڈ ارونگ کو ایک سال کی سزا اور جنوری ۲۰۰۸ء میں وولف گینگ فرولچ کو ساڑھے چھے سال کی سزا دی گئی اور عالمی احتجاج کے باوجود انھیں اپنی سزا بھگتنی پڑی۔ حقوقِ انسانی کے کسی علَم بردار ادارے یا ملک نے ان کی رہائی کے لیے احتجاج نہیں کیا اور نہ سیاسی پناہ دے کر ہی انھیں اس سزا سے نجات دلائی۔ یورپ کے جن ممالک میں محض ایک تاریخی واقعے کے بارے میں اظہار یا تخفیف کے اظہار کو جرم قرار دیا گیا ان میں آسٹریا کے علاوہ بلجیم۱؂ ، چیک ری پبلک ۲؂، فرانس ۳؂، جرمنی۴؂، ہنگری۵؂ ،سوئٹزرلینڈ۶؂،لکسمبرگ۷؂ ، ہالینڈ۸؂ اور پولینڈ۹؂میں قوانین موجود ہیں۔ اسی طرح اسپین،پرتگال اور رومانیہ میں بھی قوانین موجود ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ایک عام آدمی کی عزت کی حفاظت کے لیے Law of Libel and Slander آزادیِ اظہار کے خلاف نہیں اور ہولوکاسٹ کے انکار یا بیان میں تحقیر یا تخفیف کو جرم قابلِ سزا تسلیم کیا جاتا ہے تو اللہ کے رسولوں اور انسانیت کے محسنوں اور رہنماؤں کی عزت و ناموس کی حفاظت کے قوانین نعوذ باللہ ’کالے قوانین‘ کیسے قرار دیے جاسکتے ہیں۔

رہی آج کی مہذب دنیا جو انسانی جان، آزادی اور اظہار راے کی محافظ اور علَم بردار بن کر دوسرے ممالک اور تہذیبوں پر اپنی راے مسلط کرنے کی جارحانہ کارروائیاں کررہی ہے، وہ کس منہ سے یہ دعویٰ کر رہی ہے جب اس کا اپنا حال یہ ہے کہ محض شبہے کی بنیاد پر دوچار اور دس بیس نہیں لاکھوں انسانوں کو اپنی فوج کشی اور مہلک ہتھیاروں سے موت کے گھاٹ اُتار رہی ہے۔ بیسویں صدی انسانی تاریخ کی سب سے خوں آشام صدی رہی ہے۔ جس میں صرف ایک صدی میں دنیا کی کُل آبادی کا ۳ء۷ فی صد استعماری جنگوں اور مہم جوئی کی کارروائیوں میں لقمۂ اجل بنا دیا گیا ہے اور اکیسویں صدی کا آغاز ہی افغانستان اور پاکستان میں بلاامتیاز شہریوں کو ہلاک کرنے سے کیا گیا ہے ؂

اتنی نہ بڑھا پاکیِ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

قانون توھینِ رسالتؐ کی ضرورت

تیسرا قابلِ غور پہلو اس قانون کا اجماعی قانون ہونا ہے۔ یہ کسی آمر کا دیا ہوا قانون ہے یا پارلیمنٹ کا پاس کردہ، اس پر تو ہم آگے چل کر بات کریں گے۔ یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ اس قانون کی ضرورت کم از کم چار وجوہات کی بنا پر تھی:

اوّل، یہ قانون ملزم کو عوام کے رحم و کرم سے نکال کر قانون کے دائرے میں لاتا ہے۔ اس طرح اسے عدلیہ کے فاضل ججوں کے بے لاگ اور عادلانہ تحقیق کے دائرے میں پہنچا دیتا ہے۔ اب کسی کے شاتم ہونے کا فیصلہ کوئی فرد یا عوامی عدالت نہیں کرسکتی۔ عوام کے جذبات اور دخل اندازی کی گنجایش ختم ہوجاتی ہے۔ جب تک فاضل عدالت پوری تحقیقات نہ کرلے، ملزم کو صفائی کا موقع فراہم نہ کرے، کوئی اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے یہ قانون سب سے زیادہ تحفظ ملزم ہی کو فراہم کرتا ہے اور یہی اس کے نفاذ کا سب سے اہم پہلو ہے۔
دوم، یہ قانون دستورِ پاکستان کا تقاضا ہے کیونکہ دستورِ پاکستان ریاست کو اس بات کا ذمہ دار ٹھیراتا ہے کہ وہ اسلامی شعائر کا احترام و تحفظ کرے اور ساتھ ہی مسلمان اور غیرمسلم شہریوں کے حقوق کو پامال ہونے سے بچائے۔
سوم، یہ قانون پاکستان کی ۹۵ فی صد آبادی کے جذبات کا ترجمان ہے جس کا ہر فرد قرآن کریم اور حدیثِ رسولؐ کے ارشادات کی رُو سے اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اپنی جان، اپنے والدین، دنیا کی ہرچیز والد والدہ اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ رکھے۔ (بخاری ، مسلم)

یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ National Commission for Justice & Peace کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ۱۹۸۶ء سے ۲۰۰۹ء تک اس قانون کے حوالے سے پاکستان میں کُل ۹۶۴ مقدمات زیرسماعت آئے جن میں ۴۷۹ کا تعلق مسلمانوں سے، ۳۴۰ کا احمدیوں سے، ۱۱۹ کا عیسائیوں سے، ۱۴ کا ہندوؤں سے اور ۱۲ کا دیگر مسالک کے پیروکاروں سے تھا۔ ان تمام مقدمات میں سے کسی ایک میں بھی اس قانون کے تحت عملاً کسی کو سزاے موت نہیں دی گئی۔ عدالتیں قانون کے مطابق انصاف کرانے کے عمل کے تمام تقاضے پورا کرتی ہیں، جب کہ سیکولر لابی ہر ملزم کو مظلوم بناکر پیش کرتی ہے۔ انصاف کے عمل کو سبوتاژ کیا جاتا ہے۔ میڈیاوار اور بیرونی حکومتوں، اداروں اور این جی اوز کا واویلا قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے، قانون کی عمل داری اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو ناکام کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک شخص اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہتک، توہین، سب و شتم کا ارتکاب کرتا ہے تو عدالت کو حقیقت کو جاننے اور اس کے مطابق مقدمے کا فیصلہ کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ صحافت اور الیکٹرونک میڈیا اور این جی اوز اس کی ہمدردی اور ’مظلومیت‘ میں رطب اللسان ہوجاتے ہیں، حالانکہ مسئلہ ایک عظیم شخصیت انسانِ کامل اور ہادیِ اعظم کو نشانہ بنانے کا اور کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا ہے۔ کیا اہانت اور استہزا کو محض ’آزادیِ قلم و لسان‘ قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا اسی کا نام عدل و رواداری ہے؟

حقیقی مظلوم کون ہے؟

جو کھیل ہمارے یہ آزادی کے علَم بردار کھیل رہے ہیں وہ نہ اخلاق کے مسلّمہ اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ انصاف کے تقاضوں سے ان کا کوئی تعلق ہے۔ یہ محض جانب داری اور من مانی کا رویہ ہے۔ اسلام ہر فرد سے انصاف کا معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے اور ایک شخص اس وقت تک صرف ملزم ہے مجرم نہیں جب تک الزام عدالتی عمل کے ذریعے ثابت نہیں ہوجاتا۔ لیکن جس طرح عام انسانوں کا جذبات کی رو میں بہہ کر ایسے ملزم کو ہلاک کردینا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، اسی طرح ایسے فرد کو الزام سے عدالتی عمل کے ذریعے بری ہوئے بغیر مظلوم قرار دے کر اور سیاسی اور بین الاقوامی دباؤ کو استعمال کر کے عدالتی عمل سے نکالنا بلکہ ملک ہی سے باہر لے جانا بھی انصاف کا خون کرنا ہے اور لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔

حالیہ مقدمہ اور قانون کی تنسیخ کا مطالبہ

قانونِ توہینِ رسالتؐ پر جس کیس کی وجہ سے گرد اُڑائی جارہی ہے، اب ہم اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرتے ہیں:

آسیہ کیس کے بارے میں دی نیوز کی وہ رپورٹ بڑی اہمیت کی حامل ہے جو ۲۶نومبر کے شمارے میں شائع کی گئی ہے اور جس میں اس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ یہ واقعہ جون ۲۰۰۹ء کا ہے جس کو ایس پی پولیس کی سطح پر واقعے کے فوراً بعد شکایت کرنے والے ۲۷ گواہوں اور ملزمہ کی طرف سے پانچ گواہوں سے تفتیش کے بعد سیشن عدالت میں دائر کیا گیا۔ ملزمہ نے ایک جرگے کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی کی درخواست کی۔ مقدمے کے دوران کسی ایسے دوسرے تنازعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے اب وجہِ تنازع بنایا جا رہا ہے۔ جس جج نے فیصلہ دیا ہے وہ اچھی شہرت کا حامل ہے اور ننکانہ بار ایسوسی ایشن کے صدر راے ولایت کھرل نے جج موصوف کی دیانت اور integrity کا برملا اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بات بھی صاف الفاظ میں درج ہے کہ:

علاقے کی بار ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ اصل فیصلے کو پڑھے بغیر شوروغوغا کیا جا رہا ہے، حالانکہ عدالت میں ملزمہ کے بیان میں کسی دشمنی یا کسی سیاسی زاویے کا ذکر نہیں جس کا اظہار اب کچھ سیاست دانوں یا حقوقِ انسانی کے چیمپئن اور این جی اوز کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اصل فیصلے کے مندرجات کو یکسر نظرانداز کر کے اس کیس کو سیاسی انداز میں اُچھالا جارہا ہے اور قانون ناموسِ رسالتؐ کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ہم اس رپورٹ کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی عدالتی عمل کے اہم مراحل موجود ہیں۔ ہائی کورٹ میں اپیل اور سپریم کورٹ سے استغاثہ وہ قانونی عمل ہے جس کے ذریعے انصاف کا حصول ممکن ہے اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکتا ہے۔ لیکن اس عمل کو آگے بڑھانے کے بجاے ایک گروہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور اس سے بھی زیادہ قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون ہی کی تنسیخ یا ترمیم کا کو رَس برپا کیا جا رہا ہے جو ایک خالص سیکولر اور دین دشمن ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کی حکومت اور قوم کو اس کھیل کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دینا چاہیے۔

آزادیِ اظہار کے نام پر جرم کی تحلیل اور مجرموں کی توقیر کا دروازہ کھلنے کا نتیجہ بڑی تباہی کی شکل میں رونما ہوسکتا ہے۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا یہ قانون ایک حصار ہے اور ایک طرف دین اور شعائر دین کے تحفظ کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف سوسائٹی میں رونما ہونے والے کسی ناخوش گوار واقعے کو قانون کی گرفت میں لانے اور انصاف کے عمل کا حصہ بنانے کا ذریعہ ہے ورنہ معاشرے میں تصادم، فساد اور خون خرابے کا خطرہ ہوسکتا ہے جس کا یہ سدباب کرتا ہے۔ قانون اپنی جگہ صحیح، محکم اور ضروری ہے۔ قانون کے تحت پورے عدالتی عمل ہی کے راستے کو ہر کسی کو اختیار کرنا چاہیے، نہ عوام کے لیے جائز ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ ان طاقت ور لابیز کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ قانون کا مذاق اُڑائیں اور عدالتی عمل کی دھجیاں بکھیرنے کا کھیل کھیلیں۔ معاشرے میں رواداری، برداشت اور قانون کے احترام کی روایت کا قیام ازبس ضروری ہے اور آج ہر دو طرف سے قانون کی حکمرانی ہی کو خطرہ ہے۔

حق تو یہ ہے کہ یہ قانون نہ صرف اہلِ ایمان بلکہ ہر ایسے انسان کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو رواداری، عدل و انصاف اور معاشرے میں افراد کی عزت کے تحفظ پر یقین رکھتا ہو۔ یہ معاملہ محض خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے لیے ہر نبی اور ہر رسول کی عزت و ناموس محترم ہے۔ اس لیے اس قانون کو نہ تو اختلافی مسئلہ بنایا جاسکتا ہے اور نہ اسے یہ کہہ کر کہ یہ محض ایک انسانی قانون ہے، تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اگر کہیں اس کے نفاذ کے حوالے سے انتظامی امور یا کارروائی کو زیادہ عادلانہ بنانے کے لیے طریق کار میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہو، تو دلیل اور تجربے کی بنیاد پر اس پر غور کیا جاسکتا ہے اور قانون کے احترام اور اس کی روح کے مطابق اطلاق کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری اقدام ہوسکتے ہیں تاکہ عدالت جلد اور معقول تحقیق کرنے کے بعد فیصلے تک پہنچ سکے۔ بیرونی دباؤ اور عالمی استعمار اور سیکولر لابی کی ریشہ دوانیوں کے تحت قانون کی تنسیخ یا ترمیم کا مطالبہ تو ہمارے ایمان، ہماری آزادی، ہماری عزت اور ہماری تہذیب کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہی نہیں ان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے جن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ معذرت خواہانہ رویہ دراصل کفر کی یلغار اور دشمنوں کی سازشوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

توھینِ رسالتؐ کے قانون میں ترمیم کا بل

میڈیا،این جی اوز، عیسائی اور احمدی لابی اور پیپلزپارٹی کے گورنر اور ترجمانوں کی ہاؤ ہو کو ناکافی سمجھتے ہوئے اور استعماری قوتوں کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے پیپلزپارٹی کی ایک رکن پارلیمنٹ نے عملاً قومی اسمبلی میں توہینِ رسالتؐ کے قانون میں ترامیم کی نام پر ایک شرانگیز مسودہ قانون جمع کروا دیا ہے، جو اَب قوم کے سامنے ہے اور اس کے ایمان اور غیرت کا امتحان ہے۔ اس قانون کے دیباچے میں قائداعظم کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو ایک بار پھر اس کے اصل پس منظر اور مقصد سے کاٹ کر اپنے مخصوص نظریات کی تائید میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور سارا کھیل یہ ہے کہ دین و مذہب کا ریاست اور قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قانون سازی کو شریعت کی گرفت سے باہر ہونا چاہیے حالانکہ یہ اس بنیادی تصور کی ضد ہے جس پر تحریکِ پاکستان برپا ہوئی اور جس کے نتیجے میں پاکستان قائم ہوا ہے اور جسے قرارداد مقاصد میں تسلیم کیا گیا، وہ قراردادِ مقاصد جسے سیکولر لابی کی تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود پاکستان کے دستور کی بنیاد اور اساسی قانون (grundnorm) تسلیم کیا گیا ہے۔

قائداعظم کی اس تقریر کو قائداعظم کی دوسری تمام متعلقہ تقاریر کے ساتھ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس تقریر کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں کہ تقسیمِ ملک کے خوں آشام حالات میں قائداعظم نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جو وہ اس سے پہلے ہی بارہا دے چکے تھے اور جو پوری پاکستانی قوم کا عہد ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ مذہب کا اور شریعت کا قانون سے کوئی تعلق نہیں اور ریاست پاکستان قانون سازی کے باب میں اسی طرح آزاد ہے جس طرح ایک لادین ملک ہوتا ہے تو یہ حقیقت کے خلاف اور اقبال اور قائداعظم پر ایک بہتان ہے۔

۲۴ نومبر ۲۰۱۰ء کو پارلیمنٹ میں جو بل داخل کیا گیا ہے اس میں محرک نے یہ درخواست کی ہے کہ مروجہ قانونِ توہینِ رسالتؐ 295-C اور اس سے متعلقہ دیگر دفعات میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں۔ بل میں جو تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں ان کا مقصد ترمیم نہیں، بلکہ اس قانون کی عملی تنسیخ ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترمیم کی ضرورت پر غور کرلیا جائے۔ ترمیم کا عمومی مقصد قانون کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے کسی ایسے پہلو کا دُور کرنا ہوتا ہے جو قانون کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہو یا کسی ایسے پہلو کی تکمیل مقصود ہو جو مروجہ قانون میں رہ گیا ہو۔ اس حیثیت سے اگر حالیہ قانون کی دفعہ 295-C اور مجوزہ ترمیم کے الفاظ کا مقابلہ کیا جائے تو صورت حال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ مروجہ قانون میں 295-B میں ارتکاب جرم کرنے والے کے لیے سزا عمرقید ہے، shall be punishable with imprisonment to life۔ 295 میں الفاظ ہیں: shall be punished with deathجب کہ مجوزہ بل میں 295-B کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ ہیں: shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to five years or with fine or both.۔ اسی طرح 295-C کے لیے جو متبادل الفاظ تجویز کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں:

shall be punishable with imprisonment of either description for a term which may extend to ten years or with fine or with both.

گویا دونوں مجوزہ دفعات میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف قید کی مدت، یعنی 295-B میں حد سے حد پانچ سال ، 295-CV میں حد سے حد ۱۰ سال! جو بھلا انسان بھی باہوش و حواس اس تقابل کو دیکھے گا وہ یہی کہے گا کہ اس تجویز کا اصل کام ’تنسیخ‘ ہے ترمیم نہیں۔ واضح رہے کہ اس میں قید اور جرمانہ کے درمیان’یا‘ کا رشتہ قائم کیا گیا ہے۔ گویا سزا کے بغیر صرف جرمانہ، جس کا بھی تعین نہیں کیا گیا ادا کرکے کوئی بھی شاتمِ رسولؐ اُمت مسلمہ کے جذبات کا خون اور اُن کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے۔

اس تجویز میں ناموسِ رسالتؐ کو پامال کرنے والے کے لیے قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کے فیصلے کی جگہ ملزم کو معصوم اور بے گناہ تصور کرتے ہوئے ساری ہمدردی اسی کے پلڑے میں ڈال دی گئی ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ناموسِ رسالتؐ یا قرآن کریم کی بے حُرمتی کرنا ایک اتنا ہلکا سا جرم ہے کہ اگر حد سے حد پانچ سال یا ۱۰ سال کی قید دے دی جائے یا صرف چند روپے جرمانہ کردیا جائے تو اس گھناؤنے جرم کی قرارواقعی سزا ہوجائے۔ یہ بھی نہ بھولیے کہ اس سزا کو چندلمحات بعد کوئی نام نہاد صدرِ مملکت معاف بھی کر دے تو اُمت مسلمہ بری الذمہ ہوجائے گی!

ہمارے خیال میں کسی مسلمان سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ اگر اس کے نسب کے بارے میں ایک بُرا لفظ منہ سے نکالا جائے تو وہ کہنے والے کی زبان کھینچنے کو اپنا حق نہ سمجھے لیکن اگر قرآنِ کریم یا خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حملہ ہو اور کھلی بغاوت ہو تو ’رواداری‘ اور ’عفوودرگزر‘ میں پناہ دی جائے۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجویز پیش کرنے والوں کے خیال میں کسی کی عزت، جذبات، شخصیت اور مقام پر حملہ کرنا تو ’انسانی حق‘، ’آزادی راے‘ اور ’اقلیتی حقوق‘ کی بنا پر ایک نادانستہ غلطی مان لیا جائے، اور جس پر یہ حملہ کیا جا رہا ہے، جس کی شخصیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کے ساتھ اس زیادتی کو نہ ظلم کہا جائے، نہ اسے انسانی حقوق کی پامالی سمجھا جائے، بلکہ الزام تراشی کرنے والے کو معصوم ثابت کرنے اور جرم کی سنگینی اور گھناؤنے ہونے کو کم سے کم کیا جائے اور عملاً اس جرم پر گرفت ایک سنگین جرم بنا دیا جائے۔ گویا ع

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہ بل ملت اسلامیہ کے ایمان، حبِ رسولؐ اور عظمتِ قرآن کے ساتھ ایک ہتک آمیز مذاق کی حیثیت رکھتا ہے ،اور اقلیتوں کے ’تحفظ‘ کے نعرے کے زور سے اُمت مسلمہ کی اکثریت کو بے معنی قرار دیتے ہوئے اس کی روایات اور قرآن و سنت کے واضح فیصلوں کی تردید بلکہ تنسیخ کرتا ہے۔

اس موقع پر یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان ہی میں نہیں، پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان مسلم ممالک میں غالب اکثریت رکھتے ہیں غیرمسلموں کا تحفظ ان کا دینی فریضہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسولؐ نے ان کا ذمہ لیا ہے، اس لیے کوئی مسلمان ان کی جان، مال اور عزت کو اپنے لیے حلال نہیں کرسکتا لیکن کوئی شخص مسلمان ہو یا غیرمسلم، اسے یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ برسرِعام جب چاہے قرآن اور صاحبِ قرآن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے حُرمتی کا مرتکب بھی ہو اور اس پر کوئی قانونی کارروائی بھی نہ کی جائے کہ ایسا کرنے سے بعض پڑوسی ناراض ہوجائیں گے۔

یہ پہلو بھی قابلِ غور ہے کہ بل میں اے۔۲۰۳ میں یہ اضافہ کرنے کی تجویز کی گئی ہے کہ:

Anyone making a false or frivolous accusation under any of the sections 295-A, 295 B and 295-c, of the Pakistan Penal Code shall be punished in accordance with similar punishment prescribed in the Section under which the false or frivolous accusation was made.

حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے افراد قانون کی پاسبانی کا دعویٰ کرتے ہیں جو قانون کے بنیادی تصورات کو کھلے عام پامال کرنے پر آمادہ ہیں۔ ملزم کے ساتھ تمام تر ہمدردی کے باوجود کیا ۱۵ سو سال میں ایک واقعہ بھی ایسا پیش کیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص نے کسی پر بدکاری کا الزام لگایا جس کے ثابت ہونے کی شکل میں بدکار کو سنگسار کیا جانا تھا لیکن الزام ثابت نہ ہوسکا تو الزام لگانے والے کو سنگسار کر دیا گیا ہو۔ قذف کا قانون اسلامی قانون کا حصہ ہے لیکن وہ نصوص پر مبنی ہے اور صرف زنا کے ایک جرم کے ساتھ خاص ہے۔ البتہ اتہام، جھوٹی شہادت وغیرہ تعزیری جرم ہوسکتے ہیں اور ان پر ضرورت اور حالات کے مطابق غور کیا جاسکتا ہے مگر جھوٹے گواہ کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ قبول گواہ قرار دینا اسلام کے تعزیری قانون کا حصہ ہے۔ لیکن جس طرح یہاں ان نامساوی چیزوں کو برابر برابر (juxtapose) کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ قانون کا صحیح نفاذ نہیں بلکہ قانون سے جان چھڑانے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ جو تصور اس ترمیم میں پیش کیا گیا ہے کیا تمام تعزیری قوانین پر اس کا اطلاق ہوگا؟ اس کا اصولِ قانون و انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو جنگل کے قانون کی طرف مراجعت کا نسخہ معلوم ہوتا ہے! کیا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ ہمارا حکمران طبقہ اس معاملے میں شاید اُس مقامِ زوال تک پہنچ گیا ہے جہاں عقل کا استعمال قابلِ دست اندازی پولیس جرم تصور کر لیا جائے گا؟

اسلامی قانون میں قذف کی سزا کی موجودگی میں نہ تو حد میں اضافہ ہوسکتا ہے اور نہ قذف کے ملزم پر زنا کی حد جاری کی جاسکتی ہے۔ ایک پارلیمنٹ کے رکن کی جانب سے ردعمل کی بنیاد پر یہ تجویز بنیادی انسانی حقوق اور قانون کے فطری اصولوں کے ساتھ گھناؤنا مذاق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو سمجھ بوجھ سے نوازے تاکہ وہ اپنی فکری غلطیوں کو محسوس کرسکے۔

قوم کا امتحان

ایک ایسے قانون کو جسے ملک کی وفاقی شرعی عدالت نے تجویز کیا ہو، جسے پارلیمنٹ اور سینیٹ کے اجلاس نے متفقہ طور پر قانون کا درجہ دیا ہو، محض یہ کہہ کر ایک طرف رکھ دینا کہ یہ فلاں فوجی آمر کے دور میں پارلیمنٹ نے بنایا، ہرگز قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ نیز یہ دستورِ پاکستان کے ساتھ ایک مذاق کے مترادف ہے۔

۱۸۶۰ء سے ۱۹۹۲ء تک جو قانون عوامی ضرورت کی بنا پر وجود میں آیا جس میں ناموسِ رسولؐ کے تحفظ کے لیے اضافی قانون شامل کیا گیا وہ ایک غیر متنازع اور متفق علیہ معاملہ ہے۔ اسے ایسے وقت میں ایک اختلافی مسئلہ بنا کر پیش کرنا جب ملک کو شدید معاشی زبوں حالی اور سیاسی انتشار کا سامنا ہے، ملک کے باشندوں کے ساتھ بے وفائی اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کی ایک ناپاک کوشش ہے۔

اس امر کی ضرورت ہے کہ یک طرفہ پروپیگنڈے بلکہ ایک نوعیت سے کروسیڈ کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا جائے۔ اس موقع پر اہلِ حق کی خاموشی ایک جرم کا درجہ رکھتی ہے۔ اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اس سے ان عناصر کو شہ ملے گی جو دلیل، قانون اور سیاسی عمل کے ذریعے اصلاح سے مایوس ہوکر تشدد کے راستے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ جہاں قانون کا منصفانہ نفاذ وقت کی ضرورت ہے اور عوام و خواص سب کی تعلیم اور راے عامہ کی استواری ضروری ہے، وہیں اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک مبنی برحق قانون کو جھوٹے سہاروں اور نفاذ کے باب میں مبینہ بدعنوانیوں کے نام پر قانون کو مسخ کرنے کی کوشش کا دلیل اور عوامی تائید کے ذریعے مقابلہ کیا جائے ۔ میڈیا پر ناموسِ رسالتؐ کے قانون کا مؤثر دفاع اوراس کی ضرورت اور افادیت کے تمام پہلوؤں کو اُجاگر کیا جائے، وہیں عمومی تعلیم اور انتظامیہ، پولیس اور عدالت سب کے تعاون سے اس قانون کے غلط استعمال کو جہاں کہیں بھی ہو، قانون اور عدل و انصاف کے معروف ضابطوں کے مطابق روکا جائے، اور جو عناصر مسلمانوں کے ایمان اور ان کے جذبات سے کھیلنے پر تلے ہوئے ہیں اور جو کردار ان کے آلۂ کار بننے کو تیار ہوں ان کی سرپرستی اور بیرونِ ملک آبادکاری کے مذموم کھیل میں مصروف ہیں، ان کی ہر شرارت کا دروازہ بند کیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف اہلِ علم اور اہلِ قلم اپنی ذمہ داری ادا کریں تو اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے وہیں مسجد اور منبر سے بھی پورے توازن اور ذمہ داری کے ساتھ اس آواز کو اُٹھایا جائے۔ نیز پارلیمنٹ کے ارکان تک حق کی آواز کو مؤثر انداز میں پہنچایا جائے اور ہرہرحلقے میں اہلِ علم اور سیاسی کارکن اپنے امیدواروں کو پاکستان کے دستور اور اسلام کے شعائر کی حفاظت کے لیے مضبوطی سے سرگرم عمل ہونے کی دعوت دیں۔

قائداعظم کی ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کو بددیانتی اور دیدہ دلیری سے استعمال کیا جارہا ہے۔ قراردادِ مقاصد کے خلاف جو فکری جنگ برپا ہے اس کا بھرپور مقابلہ کیا جائے اور قائداعظم کے بیان کو آج جس طرح اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس کا پردہ چاک کیا جائے۔ اس لیے کہ قائداعظم نے قیامِ پاکستان کی ساری جنگ دو قومی نظریے، مسلمانوں کی نظریاتی قومیت، دین پر مبنی ان کی شناخت اور اسلامی نظریے کے لیے پاکستان کو تجربہ گاہ بنانے کے مسلسل وعدوں پر لڑی تھی۔ آج سیکولر لابی اس عظیم تاریخی تحریک کو جس کے دوران ملّت اسلامیہ ہند نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے محض معاشی مفادات کا کھیل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے جو تاریخ کے ساتھ مذاق، قائداعظم سے بے وفائی اور اُمت مسلمہ اور پاکستان کے لیے قربانی دینے والوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

قائداعظم کا تصورِ پاکستان

قائداعظم نے پاکستان کس مقصد اور کس عہد وپیمان پر قائم کیا تھا وہ بار بار سامنے لانا ضروری ہے۔ ہم قائداعظم ہی کے چند زریں اقوال پر ان گزارشات کا خاتمہ کرتے ہیں تاکہ ناموسِ رسولؐ کی حفاظت کے قانون پر ان تازہ حملوں کے لیے قائداعظم کے نام کو استعمال کرنے والوں کی بدباطنی سب پر آشکارا ہوجائے۔ کاش! وہ خود بھی اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیں اور قائداعظم کا سہارا لے کر اپنے اس شیطانی کھیل سے اجتناب کریں۔

قائداعظم نے ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر کے بعد اکتوبر ۱۹۴۷ء میں ان تمام غلط فہمیوں کو خود دور کر دیا تھا جو مخالفین پیدا کر رہے تھے بلکہ واضح الفاظ میں پاکستان کے قیام کے مقاصد اور اس عمرانی معاہدے کا برملا اعلان کیا تھا جو انھوں نے ملّت اسلامیہ پاک و ہند سے کیا تھا:

پاکستان کا قیام جس کے لیے ہم ۱۰ سال سے کوشاں تھے بفضلہ تعالیٰ اب ایک زندہ حقیقت ہے لیکن خود اپنی آزاد مملکت کا قیام ہمارے اصل مقصد کا صرف ایک ذریعہ تھا، اصل مقصد نہ تھا۔ ہمارا اصل منشا و مقصود یہ تھا کہ ایک ایسی مملکت قائم ہو جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہیں، جس کو ہم اپنے مخصوص مزاج اور اپنی ثقافت کے مطابق ترقی دیں اور جس میں اسلامی عدل اجتماعی کے اصولِ آزادی کے ساتھ برتے جائیں۔

قائداعظم اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام محض عقائد اور عبادات کا نام نہیں بلکہ وہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو تطہیر افکار اور تعمیر اخلاق کے ساتھ اجتماعی زندگی کی نئی صورت گری کا تقاضا کرتا ہے اور جس میں قانون، معاشرت اور معیشت سب کی تشکیل کو قرآن و سنت کے مطابق ہونا ہی اصل مطلوب ہے۔ معاملہ حدود قوانین کا ہو یا تحفظ ناموسِ رسالتؐ کے قانون کا، زکوٰۃ و عشر کے قوانین ہوں یا اسلام کا قانونِ شہادت، یہ سب پاکستان کے مقصدِ وجود کا تقاضا ہیں اور قائداعظم کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ ان کا ارشاد ہے:
ان لوگوں کو چھوڑ کر جو بالکل ہی ناواقف ہیں ہر شخص جانتا ہے کہ قرآن مسلمانوں کا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔ مذہبی، معاشرتی، دیوانی، معاشی، عدالتی، غرض یہ کہ ہماری مذہبی رسومات سے لے کر روز مرہ زندگی کے معاملات تک، روح کی نجات سے جسم کی صحت تک، اجتماعی حقوق سے انفرادی حقوق تک، اخلاقیات سے جرائم تک کو دنیاوی سزاؤں سے لے کر آنے والی زندگی کی جزا وسزا تک کے تمام معاملات پر اس کی عمل داری ہے اور ہمارے پیغمبرؐ نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ ہرشخص اپنے پاس قرآن رکھے اور خود رہنمائی حاصل کرے۔ اس لیے اسلام صرف روحانی احکام اور تعلیمات اور مراسم تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہ ایک کامل ضابطہ ہے جو مسلم معاشرے کو مرتب کرتا ہے۔

۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کی تقریر سے قبل دہلی میں پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے پہلے قائداعظم نے بہت صاف الفاظ میں اس وقت کے صوبہ سرحد میں استصواب کے موقع پر جو عہدوپیمان قوم سے کیا تھا خود اس کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں۔ یہ کوئی عام تقریر نہیں بلکہ سرحد کے مسلمانوں کے ساتھ ایک عہد (covenant)ہے جس کے مطابق انھوں نے خان عبدالغفار خان کے موقف کو رد کیا اور قائداعظم کے موقف پر اعتماد کرکے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا:

خان برادران نے اخبارات میں ایک اور زہریلا نعرہ بلند کیا ہے کہ مجلس دستور ساز پاکستان، شریعت کے بنیادی اصولوں اور قرآنی قوانین کو نظرانداز کردے گی۔ یہ بھی ایک بالکل نادرست بات ہے۔ ۱۳ سے زیادہ صدیاں بیت گئیں،اچھے اور بُرے موسموں کا سامنا کرنے کے باوجود، ہم مسلمان نہ صرف اپنی عظیم اور مقدس کتاب قرآن کریم پر فخر کرتے رہے، بلکہ ان تمام ادوار میں جملہ مبادیات کو حرزِ جاں بنائے رکھا۔۔۔ معلوم نہیں کہ خان برادران کو اچانک اسلام اور قرآنی قوانین کی علَم برداری کا دورہ کیسے پڑا ہے، اور انھیں اُس ہند مجلس دستور ساز پر اعتبار ہے کہ جس میں ہندوؤں کی ظالمانہ اکثریت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ صوبہ سرحد کے مسلمان واضح طور پر یہ سمجھ لیں کہ وہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پٹھان۔ (قائداعظم: تقاریر و بیانات، ج۴، ترجمہ اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ص ۳۴۶۔۳۴۷)

دیکھیے بات بہت واضح ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی اور زندگی کے پورے نظام کو ان اصولوں اور ہدایات کے مطابق منظم اور مرتب کرنا تھا۔ اس لیے آج ایشو یہ ہے کہ کیا ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت اور توہینِ رسالتؐ کے خلاف قانون قرآن و سنت کا حکم اور اقتضا ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے تو پھر اس سلسلے میں کسی معذرت کی ضرورت نہیں۔ قانون کی تنسیخ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف بغاوت ہوگی اور قانون میں ایسی ترمیم جس سے وہ محض ایک نمایشی چیز بن کر رہ جائے قرآن و سنت سے مذاق اور ذاتِ رسالت مآبؐ سے بے وفائی ہوگی۔ بلاشبہہ قانون کا نفاذ اس طرح ہونا چاہیے کہ کوئی شاتمِ رسولؐ اپنے جرم کی سزا سے بچ نہ سکے اور کوئی معصوم فرد ذاتی، گروہی ، معاشی مفادات کے تنازعے کی وجہ سے اس کی زد میں نہ آسکے۔ انصاف سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپؐ کی ذاتِ مبارک کے بارے میں کسی کو بھی تضحیک اور توہین کی جرأت نہ ہو۔ پھر انصاف معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ ضروری ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلم، مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ناخواندہ کہ مجرم اور صرف مجرم قانون کے شکنجے میں آئے۔ نہ عام انسان قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں اور نہ کسی کو قانون کی گرفت سے نکلوانے کے لیے سیاسی وڈیروں، دولت مند مفاد پرستوں، سیکولر دہشت گردوں یا بین الاقوامی شاطروں کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے۔ اس سلسلے میں جن انتظامی اصلاحات یا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جن تدابیر کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں نہ ماضی میں کوئی مشکل حائل تھی اور نہ آج ہونی چاہیے۔ لیکن ترمیم کے نام سے قانون کو بے اثر کرنے اور امریکا و یورپ اور عالمی سیکولر اور سامراج کے کارندوں کو کھل کھیلنے کا موقع دینا ہمارے ایمان، آزادی، عزت اور حمیت کے خلاف ہے اور اس کی یہ قوم کبھی اور کسی کو بھی اجازت نہیں دے گی۔ اس لیے کہ ؂

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

محرم الحرام کے روزوں کی فضیلت

Leave a comment

محرم کے روزوں کی فضیلت

عاشورہ کا روزہ اور اس کی فضیلتیں
سب دنوں سے افضل روزہ عاشوراء یعنی دسویں محرم کا روزہ ہے۔ اس میں ایک سال گزشتہ کے گناہوں کی مغفرت ہے۔ (مسلم شریف)
حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب مدینہ میں تسریف لائے۔ یہودیوں کو عاشوراء کے دن روزہ دار پایا۔ ارشاد فرمایا ” یہ کیا دن ہے کہ تم روزہرکھےہو۔” عرض کی کہ یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالٰی نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو بودیا۔ لہٰذا موسٰی علیہ السلام نے بطور شکر اس دن کا روزہ رکھا تو ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: “موسٰی علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ سبت تمہارے ہم زیادہ حقدار اور زیادہ قریب ہیں۔” توحضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمایا۔ (بخاری مسلم)اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جس روز اللہ زوجل کوئی خاص نعمت عطا فرمائے اس کی یادگار قائم کرنا درست و محبوب بلکہ شرعا مطلوب ہے کہ اس سے وہ نعمت خاصہ یاد آئے گی اور اس پر زبان سے بے ساختہ شکر خدا ادا ہوگا تو گویا یہ یادگار شکر ادا کرنے کا بھی ذریعہ ہوا۔ خود قرآن عظیم میں ارشاد باری تعالٰی ہے:
واذکروا ایام اللہ
خدا (کے انعام) کے دنوں کو یاد کرو۔
دوسری جگہ فرمایا :
وذکرھم بایام اللہ
انہیں اللہ کے دن یاد دلادو۔
یعنی وہ دن جن میں بڑی بڑی نعمتیں اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے مختلف قوموں کو عطا ہوتی رہیں۔ مثلا حکومت و اقتدار اور دشمنوں سے گلوخلاصی، آفتوں سے نجات یا جو بڑی بڑی مصیبتیں مختلف قوموں کو قدرت کی طرف سے پیش آتی رہیں مثلا وبا و قحط ان کی محکومی و غلامی یا تباہی و بربادی۔ غرض یہ کہ ایام اللہ کے تحت ہر قسم کے اہم تاریخی واقعات آجاتے ہیں۔
اور شک نہیں کہ ہم مسلمانوں کےلیے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے بہتر کون ساون ہوگا جس کی یادگار قائم کریں کہ دنیا و آخرت میں ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی تمام نعمتیں تمام راحتیں انہیں*کے طفیل انہیں کے صدقے میں ہیں۔ میلاد پاک کی محفلیں برپا کرنے کا ایک عظیم واہم مقصد یہ بھی ہے۔ وہابیہ اس میں رکاوٹیں ڈال کر ہم مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ اللہ پناہ میں رکھے۔
مسئلہ: بہتر یہ ہے کہ عاشوراء کے دن روزہ رکھیں تو اس کے ساتھ نویں کا بھی رکھیں۔ حدیث شریفمیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: “عاشوراء کا روزہ رکھو اور یہودیوں کی مخالفت کرو (یں کہ) ایک دن پہلے روزہ رکھو اور ایک دن بعد۔” (مرقات)
روزہ عاشوراء کے فضائل بہت کچھ احادیث کریمہ میںآئے۔ چنانچہ علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے تحریر فرمایا کہ عاشوراء کا دن وہ دن ہے جس میں اللہ تعالٰی نے انبیائے کرام علیہم السلام کی ایک جماعت کو عزت و کرامت سے نوازا یہی وہ دن ہے جس میں اللہ تعالٰی نے:
(1) حضرت آدم علیہ السلام کو تمام مخلوقات پر برگزیدہ کیا۔
(2) حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا۔
(3) سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کو کوہ جودی پر ٹھہرایا۔
(4) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، ان پر نارنمرود کو گلزار کیا۔
(5) سیدنا داؤد علیہ السلام کی لغرش کو معاف کیا۔
(6) سیدنا ایوب علیہ السلام سے بلا کودفع فرمایا۔
(7) سیدنا یونس علیہ السلام کو بطن حوت (مچھلی کے پیٹ) سے نکالا۔
(8) سیدنا یعقوب اور سیدنا یوسف علیہما السلام کو باہم ملایا۔
(9) سیدنا عیسٰی علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور پھر آسمان پر اٹھایا۔
(10) آدم و حوا علیہما السلام کو پیدا کیا۔
(11) حضرت موسٰی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے بچایا۔
غرض عاشوراء کادن، بارگاہ الٰہی میں مقبول دنوں میں ایک دن ہے اور اعمال صالحہ و صدقہ و خیرات کی قبولیت کا روز، اسی لیے حضرات صوفیائے کرام کا ارشاد گرامی ہے کہ:
(1) جو آج کے روز کسی فقیر پر صدقہ کرے، گویااس نے تمام فقراء پر صدقہ کیا۔
(2) جو آج کسی بھولے بھٹکے راہ رو کو سیدھے راستے پر ڈال دے، رب عزوجل اس کے دل کو نور ایمان سے معمور فرمائے۔
(3) جو آج غصہ کو ضبط کرے، اللہ تعالٰی اسے ان میں لکھ دے جو راضی برضا ہیں۔
(4) جو آج کسی مسکین کی عزت بڑھائے وہ مالک و مولا قبر میں اسے کرامت بخشے۔
یہی وہ دن ہے جس کے متعلق نبی رحمت صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(1) جو شخص آج اپنے اہل و عیال پر کشادہ دلی سے خرچ کرے۔ اللہ تعالٰی اسے تمام سال کےلیے فراخی نصیب فرمائے۔ (بیہقی) حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ہم نے پچاس سال اس کا تجربہ کیا اور ہر سال فراخی پائی۔
(2) جو شخص آج کے دن غسل کرے، مرض الموت کے علاوہ اس سال کسی اور مرض میں مبتلا نہ ہو اور جو آج (بہ حسن نیت) سرمہ لگائے اس کی آنکھیں کبھی دکھنے میں نہ آئیں یعنی اس کی چشم بصیرت، دل کی آنکھ روشن رہے۔
(3) جو عاشوراء کی شب قیام و ذکر میں اور اس کا دن روزے میں گزارے، جب مرے گا تو اسے اپنی موت کا پتا بھی نہ چلے گا۔ (یعنی نزع کی سختی سے محفوظ رہے گا)
(4) جو شخص عاشوراء کے دن (محض رضائے الٰہی کے حصول کی نیت سے) روزہ رکھے گویا اس نے تمام سال کے روزے رکھے۔
(5) جو مسلمان آج کے روز صدقہ کرے اسے ایک سال کے صدقے کے برابر ثواب ملے۔
(6) جو شخص آج کسی یتیم کے سرپر شفقت سے ہاتھ پھیرے (اور اس کی دلجوئی کرے اس کی حاجت برلائے) اللہ تعالٰی ہر بال کے عوض جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے۔
(7) جو آج کے دل صلہ رحمی کرے وہ حضرت یحٰیی اور حضرت عیسٰی علیہما السلام کے ساتھ جنت میں ہوگا (اور ان کی خدمت کا شرفپائے گا) (نزہتہ المجالس وغیرہ)
الغرض عاشوراء کا دن وہ مبارک و بابرکت دن ہے جس کے فضائل سے کتابیں مالا مال ہیں۔ مبارک ہیں وہ بندے جو اس ماہ محرم کا جسے حدیث شریف میں اللہ تعالٰی کا مہینہ فرمایا، احترام بجالائیں اور اپنے ظاہر و باطن سے خدا اور رسول کی طرف متوجہ ہوں، اعمال صالحہ میں بیش از بیش مشغول رہیں۔
(8) عزیزو! عمرکاکیا اعتبار اور کسے معلوم کہ اسے کب اس دنیا سے کوچ کرنا ہے۔ دنیامیں آدمی آتا ہے تو اپنے مقدر کا اپنے ساتھ لاتا ہے لیکن جب جاتا ہے تو اعمال کے علاوہ اور کوئی اس کا ساتھی نہیں*ہوتا، اعمال نیک کا توشہ ساتھ ہے تو قبر بھی روش اور حشر میں بھی اجالا اور بول بالا۔
یہ ہے عاشوراء کے دن روزہ رکھنے کی اصل۔ جس پر تمام مسلمانوں کا عمل آج تک ہے۔ اب کہیں کہیں یہ آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ عاشوراء کے روز یزید کی ماں نے روزہ رکھا تھا اس لیے آج روزہ نہ رکھا جائے۔ یہ اور اس قسم کی ساری باتیں مہمل اور بے اصل ہیں جو رافضیوں نے مسلمانوں پر پھیلائیں۔ مسلمان بیبیاں ہر گز ایسی بے سروپا باتوں پر دھیان نہ دیں کہ اس سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں، اور گناہ لازم آتا ہے۔ 

یومِ عاشورہ کے اہم واقعات

میرے پیارے آقا کے پیارے دیوانو! عاشورہ کے دن کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جو اسلامی تاریخ کے صفحات کی زینت بنے ہوئے ہیں ، اختصار کے ساتھ ان میں سے چند واقعات ہم ذکر کر رہے ہیں :

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق عرش پر اِستوا فرمایا۔

٭اسی دن پہلی بارش نازل ہوئی۔

٭اسی دن پہلی رحمت نازل ہوئی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ادریس علیہ السلام کو اس مقام بلند کی طرف اٹھا لیا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہرا دیا۔

٭اسی دن حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کو نارِ نمرود سے محفوظ فرمایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔

٭اسی دن حضرتِ سلیمان علیہ السلام کو حکومت واپس ملی۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ ایوب علیہ السلام کی تکلیف دور فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن حضرتِ موسیٰ علیہ السلام جادوگروں پر غالب آئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ موسیٰ علیہ السلام کو سلامتی کے ساتھ سمندر پار کرایا۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ یونس علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا فرمائی۔

٭اسی دن حضرتِ یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی۔

٭اسی دن حضرتِ یوسف علیہ السلام کنویں سے نکلے ۔

٭اسی دن حضرتِ یوسف علیہ السلام قید سے آزاد ہوئے ۔

٭اسی دن حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ۔

٭اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لیا تھا۔

٭اسی دن حضور نبیِ ا کرم ا نے حضرتِ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔

٭اسی دن حضرتِ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مرتبۂ شہادت ملا۔

٭اسی دن قیامت آئے گی۔

سلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے ۔ محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں جنگ و قتال حرام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں عاشورہ کا دن بہت معظم ہے یعنی دسویں محرم کا دن ۔ (فضائل الایام والشہور صفحہ ٢٥١) 

محرم کی پہلی رات کے نوافل:

ماہِ محرم کی پہلی شب میں چھ رکعات تین سلام کے ساتھ ادا کرے ۔ اس کی ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد گیارہ مرتبہ سورۃ اخلاص اور تین بار سُبْحَانَ الْمَلِکُ الْقُدُّوْسٌ پڑھے۔ اس کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ پھرمحرم کے مہینے کی ہر شب سوبار پڑھے:


لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، لَا شَرِیْکَ لَہ، ۔ لَہ، الْمُلْکُ وَلَہ، الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَہُوَ حَیٌّ الَّا یَمُوْتُ اَبْدًا ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ اَللّٰہُمَ لَا مَانِعُ لِمَا اَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذُالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُ

(ترجمہ) سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ملک اُسی کا ہے، تعریف اُسی کے لیے ہے۔ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ زندہ ہے اور نہیں مرے گا۔ صاحبِ جلا ل اور اکرام ہے ۔ اے اللہ اس چیز کا جو تونے دی کوئی مانع نہیں ہے اور جس چیز کو تونے روک دیا اسے کوئی نہیں دے سکتا اور صاحب دولت کو تجھ سے بے نیاز ہونا کوئی نفع نہیں دیتا۔ (لطائف اشرفی، صفحہ ٣٣٢)
تمام سال کی حفاظت اور برکت
یکم محرم شریف کے دن دو رکعت نماز نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین بار سورۃ الاخلاص پڑھے۔ سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے:

اَللّٰہُمَّ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَبَدُ الْقَدِیْمُ ہٰذِہ سَنَہٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَالْاَمَانَ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَابِرِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَّمِنَ الْبَلَاءِ وَ الْاٰفَاتِ وَاَسْئَلُکَ الْعَوْنَ وَالْعَدْلَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِشْتِغَالِ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ اِلَیْکَ یَا بَرُّ یَا رَءُ وْفُ یَا رَحِیْمُ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
 

جو شخص اس نماز کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اوپر دو فرشتے مقرر فرمادے گا تاکہ وہ اس کے کاروبار میں اس کی مدد کریں۔ اور شیطان لعین کہتا ہے کہ افسوس میں اس شخص سے تمام سال ناامید ہوا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٨، ٢٦٩)

دعائے محرم الحرام:

پہلی محرم الحرام کو جو یہ دعا پڑھے تو شیطانِ لعین سے محفوظ رہے اور سارا سال دو فرشتے اس کی حفاظت پر مقرر ہوںگے ۔ دعا یہ ہے:

اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَبَدِیُّ الْقَدِیْمُ وَہٰذِہ سَنَۃٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ وَاَوْلِیَائِہ وَالْعَوْنَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِ شْتِغَالَ بِمَا یُقَرِّ بُنِیْ اِلَیْکَ یَا کَرِیْمُ (فضائل الایام الشہور صفحہ ٢٦٧، بحوالہ نزہۃ المجالس)

نوافل برائے شبِ عاشورہ: 

٭ جو شخص اس رات میں چار رکعات نماز پڑھے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد پچاس ٥٠ مرتبہ سورہئ اخلاص پڑھے تو اللہ عزوجل اس کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس سال آئندہ کے گناہ بخش دیتا ہے۔ اور اس کے لئے ملاءِ اعلیٰ میں ایک محل تیار کرتا ہے۔

٭ اس رات دو ٢ رکعات نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ جو آدمی اس رات میںیہ نماز پڑھے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت تک ا س کی قبر روشن رکھے گا۔

ایصالِ ثواب برائے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ 

امیر المومنین امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے ایصال ثواب کیلئے دورکعات نماز ادا کرے اور دونوں رکعتوں میں فاتحہ کے بعد دس بار سورہ اخلاص پڑھے ۔ سلام کے بعد نو ٩ نو ٩ بار آیت الکرسی اور درود شریف پڑھے۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس روز دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ اس کی پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد اَلَمْ نَشْرَحْ اور دوسری میں اِذَاجَآءَ پچیس پچیس بار پڑھے۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

ہر حاجت پوری ہوگی (انشاء اللہ) 

جو شخص عاشورے کے روز حاجت کے لیے یہ دعا مانگے اس کی حاجت پوری ہوگی

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اِلٰہِیْ بُحُرْمَتِ الْحُسَیْنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّّہِ وَ اَبِیْہِ وَجَدِّہِ وَ بَنِیْہِ فَرِّجْ عَمَّا اَنَا فِیْہِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ  مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ  اَجْمَعِیْنَ

(ترجمہ) اللہ کے نام سے شروع بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ اے اللہ! حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُن کے بھائی، اُن کی والدہ، اُن کے والد اور اُن کے نانا کی حرمت کے واسطے سے میں جس حاجت میں ہوں وہ مجھ پر کھول دے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بہترین خلائق محمدا پر اور آپ ا کی تمام آل پر رحمت فرما۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

یومِ عاشورہ کے ممنوعات:

عاشورہ کے دن سیاہ کپڑے پہننا، سینہ کوبی کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، پیٹنا، چھری چاقو سے بدن زخمی کرنا جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے حرام اور گناہ ہے اِیسے افعال شنیعہ سے اجتناب ِ کلی کرنا چاہیے۔ ایسے افعال پر سخت ترین وعیدیں آئی ہیں جن میں سے چند تحریر کی جاتی ہیں:

حدیث ١:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے کہ ہمارے طریقے پر وہ نہیں ہے جو رخساروں کو مارے اور گریبان پھاڑے اور پکارے جاہلیت کا پکارنا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٤۔ بحوالہ مشکوۃ صفحہ ١٥٠)

حدیث ٢:
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پر بے ہوشی طاری ہوگئی پس آئی اس کی عورت جس کی کنیت ام عبداللہ تھی اس حال میں رونے کے ساتھ آواز کرتی تھی۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو کہا کیا تو نہیں جانتی اور تھے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو اس کو خبر دے رہے تھے کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: میں بیزار ہوں اس شخص سے جو بال منڈائے اور بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے۔

حدیث ٣:
سیدنا حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں میری امت میں جاہلیت کے کام سے پائی جاتی ہیں فخر کرنا، اپنے حسب میں طعن کرنا، عیب نکالنا لوگوں کی نسب میں، بارش طلب کرنا ستاروں سے اور ماتم میں نوحہ کرنا ۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی مرنے سے قبل توبہ نہ کرے تو قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی اس حال میں کہ گندھک کی قمیص اس پر ہوگی اور ایک قمیص خارش والی ہوگی۔

ایک سال تک زندگی کا بیمہ (دعائے عاشورہ)

یہ دعا بہت مجرب ہے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص عاشورہ محرم کے طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک اس دعا کوپڑھ لے یا کسی سے پڑھوا کر سن لے تو ان شاء اللہ تعالیٰ یقینا سال بھر تک اس کی زندگی کا بیمہ ہو جائے گا۔ ہرگز موت نہ آئے گی اور اگر موت آنی ہی ہے تو عجیب اتفاق ہے کہ پڑھنے کی توفیق نہ ہوگی۔ وہ دعا یہ ہے :۔

یَا قَابِلَ تَوْبَۃِ اٰدَمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا فَارِجَ کَرْبِ ذِی النُّوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا جَامِعَ شَمْلِ یَعْقُوْبَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا سَامِعَ دَعْوَۃِ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا مُغِیْثَ اِبْرَاہِیْمَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔ یَا رَافِعَ اِدْرِیْسَ اِلَی السَّمَآءِ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔۔۔۔۔۔ یَا مُجِیْبَ دَعْوَۃِ صَالِحٍ فِی النَّاقَۃِ یَوْمَ عَاشُوْرَآئَ۔۔۔۔۔۔یَا نَاصِرَ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ عَاشُوْرَآءَ ۔۔۔۔۔ یَا رَحْمٰنَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ رَحِیْمُھُمَا صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ صَلِّ عَلٰی جَمِیْعِ الْاَنْبِیَآءِ وَ الْمُرْسَلِیْنَ وَاقْضِ حَاجَاتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ وَ اَطِلْ عُمُرَنَا فِیْ طَاعَتِکَ وَ مَحَبَّتِکَ وَ رِضَاکَ وَ اَحْیِنَاحَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَّ تَوَفَّنَا عَلَی الْاِیْمَانِ وَ الْاِسْلَامِ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط اَللّٰھُمَّ بِعِزِّ الْحَسَنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہ وَ جَدِّہ وَ بَنِیْہ فَرِّجْ عَمَّا مَا نَحْنُ فِیْہِ ط

پھر سات بار پڑھے :

سُبْحَانَ اللّٰہِ مِلْءَ الْمِیْزَانِ وَ مُنْتَھَی الْعِلْمِ وَ مَبْلَغَ الرِّضٰی وَ زِنَۃِ الْعَرْشِ لَا مَلْجَاءَ وَ لَا مَنْجَاءَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ ط سُبْحَانَ اللّٰہِ الْشَفْعِ وَ الْوِتْرِ وَ عَدَدَ کَلِمَاتِ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط وَ ھُوَ حَسْبُنَا وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ط نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ ط وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ط وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہ وَ صَحْبِہ وَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ عَدَدَ ذَرَّاتِ الْوُجُوْدِ وَ عَدَدَ مَعْلُوْمَاتِ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ط

محرم الحرام شریف میں رونما ہونے والے اہم واقعات


٭عاشورہ کا روزہ رکھنے کا آپ ا نے حکم فرمایا ٭سیدتنا امّ کلثوم بنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت عثمان ذوالنورین سے۔۔۔۔۔۔٣ھ ٭غزوہئ خیبر۔۔۔۔۔۔٦ھ ٭عام الوفود (ساٹھ وفود آئے جنہیں سرکار علیہ الصلوٰۃ و السلام نے تعلیم دی اور تحائف بھی دیئے۔۔۔۔۔۔٩ھ ٭طاعون عمواس۔۔۔۔۔۔١٨ھ ٭وفات ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ ٭امارت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔١٩ھ ٭مصر میں عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کا داخلہ۔۔۔۔۔۔٢١ھ ٭فتح نہاوند۔۔۔۔۔۔٢٢ھ ٭شہادت حضرت امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ۔۔۔۔۔۔٢٤ھ٭خلافت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٢٤ھ ٭فتح سابور ۔۔۔۔۔۔٢٦ھ ٭فتح قبرص۔۔۔۔۔۔٢٨ھ ٭واقعہ صفین۔۔۔۔۔۔٣٧ھ ٭وفات خوات رضی اللہ تعالی عنہ و عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٤٠ھ ٭فتوحاتِ افریقہ۔۔۔۔۔۔٤٥ھ ٭وفات حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥١ھ ٭وفات عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥٣ھ ٭وفات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٥٥ھ ٭وفات ام المؤمنین حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔۔۔٥٦ھ ٭وفات سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٦٠ھ ٭سانحہ کربلا(سیدنا امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ١٤٦ اصحاب کی شہادت عمل میں آئی)۔۔۔۔۔۔٦١ھ ٭وفات مسلم بن عقبہ (فاتح افریقہ)۔۔۔۔۔۔٦٤ ھ ٭خلافت مروان۔۔۔۔۔۔٦٥ھ ٭وفات عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔۔۔۔٧٤ھ ٭فتح فرغانہ ۔۔۔۔۔۔٨٨ھ ٭فتح میورقہ و منورقہ۔۔۔۔۔۔٨٩ھ ٭وفات کریب موٹی بن عباس۔۔۔۔۔۔٩٨ھ ٭فتح غور۔۔۔۔۔۔١٠٨ھ ٭زید بن علی کی شہادت۔۔۔۔۔۔١٢٢ھ ٭مراکش و الجیریا میں جنگ۔۔۔۔۔۔١٢٣ھ ٭میسرہ کی مغرب میں بغاوت۔۔۔۔۔۔١٢٤ھ ٭ضحاک خارجی کا خروج اور قتل۔۔۔۔۔۔١٢٨ھ ٭ابو مسلم کا خراسان پر قبضہ۔۔۔۔۔۔١٣١ھ ٭بنو امیہ کا قتل عام ۔۔۔۔۔۔١٣٣ھ٭کوفہ سے انبار کو دار الخلافہ منتقل کیا گیا۔۔۔۔۔۔١٣٤ھ ٭وفات عطاء بن السائب الکونی۔۔۔۔۔۔١٣٦ھ ٭خلافت منصور العباسی۔۔۔۔۔۔١٣٧ھ ٭قیصر روم کی شکست۔۔۔۔۔۔١٣٨ھ ٭عطیہ کی دوبارہ آبادی۔۔۔۔۔۔١٣٩ھ ٭قلعہ مصیصہ کی تعمیر جدید۔۔۔۔۔۔١٤٠ھ ٭فرقہ راوندیہ کی ابتداء۔۔۔۔۔۔١٤١ھ ٭بغاوتِ ویلم ۔۔۔۔۔۔١٤٣ھ ٭محمد بن السفاح کی بغاوت۔۔۔۔۔۔١٤٤ھ ٭قبرص پر مکمل قبضہ۔۔۔۔۔۔١٤٦ھ ٭کفار آرمینا کی بغاوت۔۔۔۔۔۔١٤٧ھ ٭استاذ سیلس کا دعوائے نبوت۔۔۔۔۔۔١٥٠ھ ٭وفات محمد بن اسحق اخباری۔۔۔۔۔۔١٥١ھ ٭افریقہ میں اباضیہ کا زور۔۔۔۔۔۔١٥٣ھ ٭وفات سعید بن ابی عروبہ ۔۔۔۔۔۔١٥٦ھ ٭خالد برمکی پر جرمانہ۔۔۔۔۔۔١٥٨ھ ٭مسجد نبوی میں توسیع۔۔۔۔۔۔١٦١ھ ٭جنگ روم۔۔۔۔۔۔١٦٢ھ ٭وفاتِ خلیفہ المہدی العباسی۔۔۔۔۔۔١٦٩ھ ٭وفات عبدالواحد بن زید البصری۔۔۔۔۔۔١٧٧ھ ٭جعفر برمکی کا قتل ۔۔۔۔۔۔١٨٧ھ ٭ہارون کے فتوحاتِ روم۔۔۔۔۔۔١٩٠ھ ٭آزر بائیجان میں خرامیہ کا ظہور۔۔۔۔۔۔١٩٢ھ ٭امین اور مامون کے درمیان جنگ۔۔۔۔۔۔١٩٥ھ ٭وفات ابو نواس شاعر۔۔۔۔۔۔١٩٦ھ ٭خلیفہ امین الرشید کا قتل و غارت۔۔۔۔۔۔١٩٨ھ ٭عباسیوں کی مردم شماری۔۔۔۔۔۔٢٠٠ھ ٭دولت اغلبیہ کی ابتدائ۔۔۔۔۔۔٢٠١ھ ٭وفات یحییٰ بن مبارک نحوی۔۔۔۔۔۔٢٠٢ھ ٭وفات طاہر ذوالیمینن۔۔۔۔۔۔٢٠٧ھ ٭تفضیلِ علی کا سرکاری حکم۔۔۔۔۔۔٢١١ھ ٭وفات اسد بن انصرات المغربی۔۔۔۔۔۔٢١٣ھ ٭شہر طوانہ کی تعمیر ۔۔۔۔۔۔٢١٨ھ ٭بابک الخرمی کا قتل۔۔۔۔۔۔١٢٣ھ ٭فرغانہ میں شدید زلزلہ۔۔۔۔۔۔١٢٤ھ ٭مکہ میں سخت گرانی۔۔۔۔۔۔٢٢٨ھ ٭شہادت احمد الخزاعی۔۔۔۔۔۔٢٣١ھ ٭عراق میں آندھی۔۔۔۔۔۔٢٣٤ھ ٭وفات اسحق موصلی الندیم۔۔۔۔۔۔٢٣٥ھ ٭متوکل نے کربلا کے تمام نشانات مٹادئیے۔۔۔۔۔۔٢٣٦ھ ٭وفات حافظ احمد الاشقر۔۔۔۔۔۔٢٤٣ھ ٭وفات وعبل الشاعر ۔۔۔۔۔۔ ٢٤٦ھ ٭قتل المستعین و خلافت المعتز۔۔۔۔۔۔٢٥٢ھ ٭وفات حافظ احمد بن سعید الدارمی۔۔۔۔۔۔٢٥٣ھ ٭دولت صفاریہ کی ابتداء۔۔۔۔۔۔٢٥٤ھ ٭بصرہ میں زنگیوں کی شورش۔۔۔۔۔۔٢٥٧ھ ٭واسط میں زنگیوں کا فساد۔۔۔۔۔۔٢٦٤ھ ٭وفات ابو معشر المنجم۔۔۔۔۔۔٢٧١ھ ٭مصر میں زلزلہ ۔۔۔۔۔۔٢٧٢ھ ٭جنگ مابین خمارویہ و ابن الساج۔۔۔۔۔۔٢٧٦ھ ٭وفات ابو حاتم الرزی۔۔۔۔۔۔٢٧٧ھ ٭قرامطہ کا ظہور۔۔۔۔۔۔٢٧٨ھ ٭منجموں کی بندش۔۔۔۔۔۔٢٧٩ھ ٭سرکاری جشنِ نوروز کی ممانعت۔۔۔۔۔۔٢٨٣ھ ٭قرمطیوں سے جنگ۔۔۔۔۔۔٢٨٧ھ ٭وفات ثابن بن قرۃ الحکیم۔۔۔۔۔۔٢٨٨ھ ٭وفات محدث ابوبکر البزاز صاحب المسند۔۔۔۔۔۔٢٩٢ھ ٭وفات ابو العباس، الشاعر المتکلم۔۔۔۔۔۔٢٩٣ھ ٭شام میں قرامطہ کے مظالم۔۔۔۔۔۔٢٩٤ھ ٭وفات ابو العباس ابن مسروق ۔۔۔۔۔۔٢٩٨ھ ٭وزیر ابن الفرات کی گرفتاری۔۔۔۔۔۔٢٩٩ھ ٭وفات زندیق الراوندی۔۔۔۔۔۔ ٣٠١ھ ٭رومیوں کے خلاف جہاد۔۔۔۔۔۔٣٠٤ھ ٭رومیوں کا سفیر بغداد آیا۔۔۔۔۔۔٣٠٥ھ ٭وفات محدث ابو یعلی الموصلی صاحب المسند۔۔۔۔۔۔٣٠٧ھ ٭مصر پر عباسیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔ ٣٠٩ھ ٭بصرہ میں قرامطہ کے مظالم۔۔۔۔۔۔٣١١ھ ٭فتح فرغانہ ۔۔۔۔۔۔٣١٢ھ ٭ابوعلی بن مقلہ وزیر ہوا ۔۔۔۔۔۔٣١٦ھ ٭ابو منصور القاھر العباسی کی صرف دو یوم کی خلافت۔۔۔۔۔۔٣١٨ھ ٭وفات شیخ المعتزلہ الکعبی۔۔۔۔۔۔٣١٩ھ ٭ویلمیوں کا فارس پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٣٢٠ھ ٭اصفہان میں قحط۔۔۔۔۔۔ ٣٢٤ھ ٭خلیفہ ئ عباسی کے قبضہ میں صرف بغداد رہ گیا۔۔۔۔۔۔٣٢٥ھ ٭البیریدی وزیر ہوا ۔۔۔۔۔۔٣٢٦ھ ٭بغداد میں قحط اور وباء ۔۔۔۔۔۔٣٣٠ھ ٭وفت حافظ ابن عقدہ۔۔۔۔۔۔٣٣٢ھ ٭بغداد میں سیلاب۔۔۔۔۔۔٣٣٧ھ ٭شعیہ سنی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٣٨ھ ٭قرامطہ کا استیصال ۔۔۔۔۔۔ ٣٤٠ھ ٭وفات ابو علی اصفار النحوی۔۔۔۔۔۔٣٤١ھ ٭سیف الدولہ کی رومیوں پر فتح۔۔۔۔۔۔٣٤٢ھ ٭وفات شیخ الکوفہ ابو الحسن۔۔۔۔۔۔٣٤٣ھ ٭عراق میں روزبہاں کی بغاوت۔۔۔۔۔۔٣٤٥ھ ٭عراق و شام پر رومیوں کا حملہ ۔۔۔۔۔۔٣٤٧ھ ٭شعیہ سنی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٤٨ھ ٭دو٢ لاکھ تُرک اسلام پر ایمان لائے۔۔۔۔۔۔٣٤٩ھ ٭وفات فاتک مجنون رومی۔۔۔۔۔۔٣٥٠ھ ٭شام پر رومیوں کے حملے اور مظالم ۔۔۔۔۔۔٣٥١ ٭نوحہ، ماتم اور مراسم محرم کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔٣٥٢ھ ٭وفات ابو علی السکن۔۔۔۔۔۔٣٥٣ھ ٭وفات ابو بکر الحداد مصری ۔۔۔۔۔۔ ٣٥٤ھ ٭وفات قاضی منذر البلوطی۔۔۔۔۔۔٣٥٥ھ ٭سرکاری طور پر جبراً ماتم۔۔۔۔۔۔٣٥٦ھ ٭وفا احمد السندی۔۔۔۔۔۔٣٥٩ھ ٭دمشق پر فاطمیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔٣٦٠ھ ٭وفات معرمول خلیفہ المطیع العباسی۔۔۔۔۔۔٣٦٤ھ ٭وفات ابو بکر احمد ختلی۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭نوبت بجنے کی ابتداء۔۔۔۔۔۔٣٦٨ھ ٭وفات حافظ ابو الشیخ۔۔۔۔۔۔٣٦٩ھ ٭وفات ابن خالویہ نحوی۔۔۔۔۔۔٣٧٠ھ ٭بغداد میں شدید قحط۔۔۔۔۔۔٣٧٢ھ ٭شمس الدولہ ابن البویہ کی ولادت۔۔۔۔۔۔٣٧٣ھ ٭دنیا کی سب سے بڑی رصد گاہ بغداد میں تعمیر کی گئی۔۔۔۔۔۔٣٧٨ھ ٭وفات ابو جعفر المتکلم الجوہری۔۔۔۔۔۔٣٧٩ھ ٭وفات الوزیر الیہودی بن کلبی۔۔۔۔۔۔٣٨٩ھ ٭جے پال سے دوسری جنگ۔۔۔۔۔۔٣٨١ھ ٭بغداد میں فوجی فسادات۔۔۔۔۔۔٣٨٢ھ ٭وفات فقیہ ابن بطۃ العکبری۔۔۔۔۔۔٣٨٧ھ ٭شدتِ سرما(بغداد)۔۔۔۔۔۔٣٨٨ھ ٭وفات ابو عمر و الباجی۔۔۔۔۔۔٣٩٦ھ ٭ظہور ابورکوہ مدعی امامت۔۔۔۔۔۔٣٩٧ھ ٭بغداد میں فسادات۔۔۔۔۔۔٣٩٨ھ ٭وفات ابن میمون الطلیطلی ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٠ھ ٭موصل میں فاطمی خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٠١ھ ٭تحقیق نسب نامہئ عبیدین۔۔۔۔۔۔٤٠٢ھ ٭وفات حافظ سلیمان البیکندی ۔۔۔۔۔۔ ٤٠٤ھ ٭اندلس میں علی الناصر بن جمود حاکم ہوا۔۔۔۔۔۔٤٠٧ھ ٭بغداد میں فسادات۔۔۔۔۔۔٤٠٨ھ ٭وفات قاضی منصور ہراتی۔۔۔۔۔۔٤١٠ھ ٭ایک مصری باطنی نے حجر اسود کو ہتھوڑا مار کر توڑ دیا۔۔۔۔۔۔٤١٣ھ ٭وفات ابو عبداللہ الغفاری ۔۔۔۔۔۔٤١٤ھ ٭وفات ابو اسحق الاسفرائینی۔۔۔۔۔۔٤١٨ھ ٭عراق میں شدید ژالہ باری۔۔۔۔۔۔٤٢٠ھ ٭مسعود غزنوی نے اصفہان کو تاراج کیا۔۔۔۔۔۔٤٣٢ھ ٭وفات امام المفسرین ابو اسحق۔۔۔۔۔۔٤٢٧ھ ٭وفات ابو بکر الاصبہانی صاحب۔۔۔۔۔۔٤٢٨ھ ٭وفات ابو یعقوب القراب۔۔۔۔۔۔٤٢٩ھ ٭وفات ابو نعیم الاصبہانی۔۔۔۔۔۔٤٣٠ھ ٭فاطمیوں نے ابو بکر نام رکھنے کی ممانعت کردی۔۔۔۔۔۔٤٣١ھ ٭وفات امیر قرطبہ جمہور بن محمد ۔۔۔۔۔۔٤٣٥ھ ٭بغداد میں اذان کے ساتھ نوبت۔۔۔۔۔۔٤٣٦ھ ٭وفات ابو علی المالکی صاحب الرومنہ۔۔۔۔۔۔٤٣٨ھ ٭مراکش میں الجیریا میں دوبارہ عباسی خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٤٩ھ ٭بغداد میں فرقہ وارانہ فسادات۔۔۔۔۔۔٤٤٣ھ ٭وفات ابو القاسم التنوخی۔۔۔۔۔۔٤٤٧ھ ٭مصر میں قحط اور وبائ۔۔۔۔۔۔٤٤٨ھ ٭عراق میں شدید قحط اور وباء۔۔۔۔۔۔٤٤٩ھ ٭وفات ابو القاسم الغفاف۔۔۔۔۔۔٤٥٠ھ ٭وفات ابو الفضل بن عمروس۔۔۔۔۔۔٤٥٢ھ ٭وفات محمد بن حمدون السلمی۔۔۔۔۔۔٤٥٥ھ ٭وفات خدیجہ بغدادیہ٤٦٠ھ ٭وفات ابو القاسم محمود الفورانی۔۔۔۔۔۔٤٦١ھ ٭شام میں زلزلہ۔۔۔۔۔۔٤٦٢ھ ٭قتل ابو شجاع۔۔۔۔۔۔٤٦٥ھ ٭عراق مین زبردست سیلاب۔۔۔۔۔۔٤٦٦ھ ٭طلیطلہ پر عیسائیوں کا قبضہ ۔۔۔۔۔۔٤٧٨ھ ٭حرمین میں عباسیوں کے نام کا خطبہ۔۔۔۔۔۔٤٧٩ھ ٭شہادت عبدالملک الیصری ۔۔۔۔۔۔٤٨٤ھ ٭شہادت نظام الملک الوزیر۔۔۔۔۔۔٤٨٥ھ ٭وفات شیخ الاسلام الہکاری۔۔۔۔۔۔٤٨٦ھ ٭وفات المقتدی العباسی و خلافت المستظہر۔۔۔۔۔۔٤٨٧ھ ٭وفات ابو الفضل ابن خیرون۔۔۔۔۔۔٤٨٨ھ ٭وفات ابو طاہر الباقلانی۔۔۔۔۔۔٤٨٩ھ ٭وفات العقبہ نصر النابلسی۔۔۔۔۔۔٤٩٠ھ ٭عیسائیوں نے شام میں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔۔۔۔۔۔٤٢٩ھ ٭حسن بن صباح کا خوف چھاگیا۔۔۔۔۔۔٤٩٤ھ ٭فرنگیوں کا عکہ پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٤٩٧ھ ٭نہاوند مجیں ایک مدعی نبوت کا قتل۔۔۔۔۔۔٤٩٩ھ ٭وفات یوسف بن تاشفین بانی مراکش۔۔۔۔۔۔٥٠٠ھ ٭فخر الاسلام قاضی الرویانی کو باطنیوں نے جامع آملہ میں قتل کردیا۔۔۔۔۔۔٥٠٢ھ ٭وفات ابو الحسن لکیاہراسی۔۔۔۔۔۔٥٠٤ھ ٭وفات ابو الحسن العلاف۔۔۔۔۔۔٥٠٥ھ ٭وفات ابو الحسن الدامغانی ۔۔۔۔۔۔٥١٣ھ ٭ایوان حکومت میں آگ لگ گئی (بغداد)۔۔۔۔۔۔٥١٥ھ ٭خلیفہ المسترشد نے دبیس کوشکست دی۔۔۔۔۔۔٥١٧ھ ٭شہر صور پر فرنگیوں کا قبضہ۔۔۔۔۔۔٥١٨ھ ٭دمشق میں قتل عام ۔۔۔۔۔۔٥٢٣ھ ٭بغداد میں اڑنے والے بچھو پیدا ہوگئے۔۔۔۔۔۔٥٢٤ھ ٭قتل ابو الحسن بن ابی یعلی ۔۔۔۔۔۔٥٢٦ھ ٭وفات ابو علی الفارقی۔۔۔۔۔۔٥٢٨ھ ٭وفات علی بن عطیہ الشاعر۔۔۔۔۔۔٥٢٩ھ ٭سلطان سنجر اور کفار تاتار میں جنگ عظیم۔۔۔۔۔۔٥٣٦ھ ٭وفات عبدالوہاب الانماطی۔۔۔۔۔۔٥٣٨ھ ٭وفات ابو منصور الجوالیقی۔۔۔۔۔۔٥٤٠ھ ٭طرابلس میں فرنگیوں کا قبضہ ۔۔۔۔۔۔٥٤١ھ ٭نورالدین محمود زنگی نے فرنگیوں سے تین قلعے واپس لئے۔۔۔۔۔۔٥٤٢ھ٭وفات محمد بن غلام الفرس الدانی۔۔۔۔۔۔٥٤٧ھ ٭بغداد میں کئی بار آگ لگی۔۔۔۔۔۔٥٥١ھ ٭شام کے تیرہ شہر زلزلہ سے تباہ ہوگئے۔۔۔۔۔۔٥٥٢ھ ٭نور الدین کے سامنے سے فرنگیوں کی فراری۔۔۔۔۔۔٥٥٨ھ ٭بغداد میں رافضیوں کی بے اعتدالیاں۔۔۔۔۔۔٥٦١ھ ٭وفات ہبۃ اللہ الدقاقی۔۔۔۔۔۔٥٦٢ھ ٭شام میں زلزلہ (٨٠ہزار ہلاک)۔۔۔۔۔۔٥٦٥ھ ٭نور الدین کی فتوحات ۔۔۔۔۔۔٥٦٦ھ ٭آخری فاطمی امام العاضد کی معزولی اور عباسی خطبہ کا اجرائ٭٥٦٧ھ ٭مسلمانوں نے یمن اور طرابلس الغرب فتح کیا۔۔۔۔۔۔٥٦٨ھ ٭وفات و عبل بن کارہ الفقیہ الحریمی۔۔۔۔۔۔٥٦٩ھ ٭فصیل قاہرہ کی بنیاد۔۔۔۔۔۔٥٧٢ھ ٭واقعہ الرملہ(فرنگیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کیا) ۔۔۔۔۔۔٥٧٣ھ ٭بغداد میں ابن فرایا کا قتل۔۔۔۔۔۔٥٧٤ھ ٭پرنس ارناٹ کی مدینہ منورہ کی طرف فوج کشی اور عزیزالدین فرخشاہ کی مدافعت ازناٹ کی شکست۔۔۔۔۔۔٥٧٧ھ ٭وفات اسد بن المطران الطیب۔۔۔۔۔۔٥٨٧ھ ٭علاؤالدین خوارزم شاہ کا بخارا پر قبضہ۔۔۔۔۔۔٥٩٤ھ ٭وفات عماؤالدین الملک العزیز۔۔۔۔۔۔٥٩٥ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٥٩٧ھ ٭وفات القاضی ابو بکر الاموری۔۔۔۔۔۔٥٩٩ھ ٭وفات روز یہاں صوفی مفسر۔۔۔۔۔۔٦٠٦ھ ٭وفات اثیر الدین الاخسکیتی۔۔۔۔۔۔٦٠٨ھ ٭حکومت ناصر الدین محمود(دہلی) ۔۔۔۔۔۔٦٤٤ھ ٭وفات سیف الدین امیر لاچین پدر امیر خسرو۔۔۔۔۔۔٦٥١ھ ٭ہلاکو خان نے بغداد کو تاراج کردیا۔۔۔۔۔۔٦٥٦ھ ٭خلافت الحاکم الاول عباسی۔۔۔۔۔۔٦٦١ھ ٭وفات حضرت بابا فرید گنج شکر(پاک پٹن شریف) ۔۔۔۔۔۔٦٦٤ھ ٭وفات یحییٰ حلی فقیہ شعیہ۔۔۔۔۔۔٦٧٩ھ ٭شام پر تاتاریوں کا حملہ اور شکست۔۔۔۔۔۔٦٨١ھ ٭تخت نشینی عثمان بانی دولت عثمانیہ۔۔۔۔۔۔٦٩٩ھ ٭قتل زید یق فتح الدین ۔۔۔۔۔۔٧٠١ھ ٭حکومت قطب الدین مبارک خلجی۔۔۔۔۔۔٧١٦ھ ٭وفات ملا کمال کاشی۔۔۔۔۔۔ ٧٢٠ھ ٭حکومت فیروز تغلق۔۔۔۔۔۔٧٥٢ھ ٭وفات خلیل بن کیکلدی۔۔۔۔۔۔٧٦١ھ ٭تخت نشینی بایزید یلدرم عثمانی و محمد تغلق۔۔۔۔۔۔٧٩٢ھ ٭وفات سعد الدین تفتازانی۔۔۔۔۔۔٧٩٢ھ ٭وفات جمالدین البہنسی۔۔۔۔۔۔٨٠٥ھ ٭وفات شمس الدین محمد الشویکی۔۔۔۔۔۔٨١٣ھ ٭شہادت علامہ ابن الخاس مصنف مصارح العشاق۔۔۔۔۔۔٨١٤ھ ٭وفات شہاب الدین بن حجی۔۔۔۔۔۔٨١٦ھ ٭مصر میں طاعون اور قحط۔۔۔۔۔۔٨١٨ھ ٭قتل نسیم الدین شیخ الحروفیہ۔۔۔۔۔۔٨٢٠ھ ٭وفات برہان الدین ابن عذار۔۔۔۔۔۔٨٢٥ھ ٭مدینہ منورہ میں سنیوں کا قتل۔۔۔۔۔۔٨٢٩ھ ٭وفات شمس الدین عجلوکی۔۔۔۔۔۔٨٣١ھ ٭وفات زین الدین ابن الخراط الشاعر۔۔۔۔۔۔٨٤٠ھ ٭وفات قاسم انوار۔۔۔۔۔۔٨٤٥ھ ٭وفات شمس الدین القایاتی۔۔۔۔۔۔٨٥٠ھ ٭خلافت حمزہ القاسم و تخت نشینی محمد الفاتح عثمانی۔۔۔۔۔۔٨٥٥ھ ٭وفات جلال الدین المحل۔۔۔۔۔۔٨٦٤ھ ٭خلافت المتوکل ثانی ۔۔۔۔۔۔٨٨٤ھ ٭وفات قاضی ابن الشحنہ حنفی۔۔۔۔۔۔٨٩٠ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٨٩٢ھ ٭مصر میں قحط۔۔۔۔۔۔٨٩٤ھ ٭وفات حضرت مولانا عبد الرحمن جامی (عاشق رسول ا)۔۔۔۔۔۔٨٩٨ھ ٭فتح الباری شرح بخاری مکہ سے یمن (زبیدہ) لائی گئی ۔۔۔۔۔۔٩٠١ھ ٭وفات عبدالرحمن الہجرانی۔۔۔۔۔۔٩٠٣ھ ٭وفات جلال الدین دوانی۔۔۔۔۔۔٩٠٨ھ ٭یمن میں شدید طوفان بادوباراں۔۔۔۔۔۔٩١١ھ ٭وفات کبیر داس ۔۔۔۔۔۔٩١٥ھ ٭وفات امام قسطلانی شارح بخاری۔۔۔۔۔۔٩٢٣ھ ٭وفات نور الدین الاشمونی ۔۔۔۔۔۔ ٩٢٩ھ ٭وفات خوند میر (قانون ہمایوں)۔۔۔۔۔۔٩٤٢ھ ٭حکومت شیر شاہ سوری۔۔۔۔۔۔٩٤٧ھ ٭قتل ہیمول بقال۔۔۔۔۔۔٩٦٤ھ ٭کشمیر میں حکومت غازی خاں چوک۔۔۔۔۔۔٩٦٧ھ ٭وفات محمد غوث گوالیاری۔۔۔۔۔۔٩٧٠ھ ٭مکہ مکرمہ میں سیلاب۔۔۔۔۔۔٩٧١ھ ٭وفات عبداللہ الغاکہی ۔۔۔۔۔۔٩٧٢ھ ٭وفات سراج الدین عمر العید روس (عدن)۔۔۔۔۔۔١٠٠٠ھ ٭وفات فیضی علامہ ۔۔۔۔۔۔ ١٠٠٤ھ ٭قتل نور اللہ شوستری۔۔۔۔۔۔١٠١٩ھ ٭وفات صائب تبریزی۔۔۔۔۔۔١٠٨٠ھ ٭خلافت سلیمان ثانی۔۔۔۔۔۔١٠٩٩ھ ٭وفات باقر مجلسی۔۔۔۔۔۔١١١٠ھ ٭وفات نعمت خان عالی ۔۔۔۔۔۔١١٢٠ھ ٭وفات مرزا عبدالقادر بیدل۔۔۔۔۔۔١١٣٣ھ ٭وفات کلیم اللہ جہاں آبادی ۔۔۔۔۔۔١١٤٠ھ ٭محمد بن سعود اور محمد بن عبدالوہاب نجدی نے تلوار کے زور سے وہابیت پھیلانا شروع کی۔۔۔۔۔۔١١٥٩ھ ٭کریم خان زند نے صفوی حکومت ختم کردی (حسین ثانی) ۔۔۔۔۔۔١١٦٦ھ ٭ولادت ٹیپو سلطان شہید ۔۔۔۔۔۔١١٦٦ھ ٭وفات امیر تقی خیالؔ۔۔۔۔۔۔١١٧٠ھ ٭وفات میر قاسم صوبہ دار بنگالہ ۔۔۔۔۔۔١١٩١ھ ٭وفات مرزا مظہر جان جانان۔۔۔۔۔۔١١٩٥ھ ٭وفات کمالؔ گیاوی (کمال الحکمۃ)۔۔۔۔۔۔ ١٢١٥ھ ٭سعود بن عبد العزیز فاتحانہ مکہ میں آیا ۔۔۔۔۔۔١٢١٨ھ٭وفات میر تقی میرؔ ۔۔۔۔۔۔١٢٢٥ھ ٭وفات حافظ دراز پشاوری (شارح پشاوری) ۔۔۔۔۔۔١٢٦٣ھ ٭قتل علی محمد باب قرۃ العین۔۔۔۔۔۔١٢٦٦ھ ٭وفات مرزا دبیر لکھنوی۔۔۔۔۔۔١٢٩٢ھ ٭وفات سوامی دیانند سرسوتی(بانی آریہ دھرم) ۔۔۔۔۔۔١٣٠٢ھ ٭وفات واجد علی شاہ (کلکتہ)۔۔۔۔۔۔١٣٠٥ھ ٭وفات حاجی وارث علی۔۔۔۔۔۔١٣٢٣ھ ٭وفات محمد حسین آزاد۔۔۔۔۔۔١٣٢٨ھ ٭وفات شمس الحق عظیم آبادی (شارح ابو داؤد)۔۔۔۔۔۔١٣٢٩ھ ٭وفات مفتی لطف اللہ علیگڑھ۔۔۔۔۔۔١٣٣٥ھ ٭قیام جامعہ ملیہ اسلامیہ۔۔۔۔۔۔١٣٣٩ھ ٭وفات اکبر ؔالہ آبادی۔۔۔۔۔۔١٣٤٠ھ ٭وفات انور شاہ کشمیری (دیوبندی)۔۔۔۔۔۔١٣٥١ھ ٭آزادی مصر ۔۔۔۔۔۔ ١٣٥٥ھ ٭قتل لیاقت علی خاں وزیر اعظم پاکستان۔۔۔۔۔۔١٣٧١ھ٭آزادی صومالیہ ۔۔۔۔۔۔ ١٣٨٠ھ ٭یمن میں جمہوریت۔۔۔۔۔۔١٣٨٣ھ ٭وفات سید عبدالاحد فائق۔۔۔۔۔۔١٣٨٤ھ ٭ وصال مفتی اعظم شہزادئہ اعلیٰ حضرت علامہ محمد مصطفی رضا خان صاحب علیہ الرحمہ ١٤٠٢ھ

محرم الحرام میں وفات پانے والے صحابہ کرام اور اولیائے کرام
رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین


یکم محرم الحرام
٭خلیفہ دوم امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ،٭حضرت ابو بکر محمد بن ابراہیم سوسی ٣٨٦ھ ٭حضرت شیخ الشیوخ ابو حفص شہاب الدین عمر سہروردی ٦٣٢ھ ٭حضرت شاہزادہ محمد داراشکوہ قادری ١٠٧٠ھ ٭حضرت جیو مجددی پشاوری 

٢ محرم الحرام
٭حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی محکم الافلاک ٢٠٠ھ ٭حضرت ابو عبدالرحمن حاتم اصم ٢٣٧ھ ٭حضرت احمد بن عبدالواسع ٦٠٩ھ ٭حضرت سید عقیق اسواد ابدال ١٠٠٠ھ ٭حضرت خواجہ معین الدین نقشبندی کشمیری ١٠٨٥ھ

٣محرم الحرام
٭حضرت شیخ سعید قیروانی ٢١١ھ ٭حضرت شیخ تقی الدین احمر صوفی ٥٩٥ھ ٭حضرت مخدوم سالار نوشہ صفات فیض آبادی ٩٨٩ھ ٭حضرت شاہ محی الدین دہلوی ١٢٨٩ھ ٭حضرت حافظ عبدالستا خالصپوری ١٢٩٨ھ ٭حضرت ابو الحسن تہکاری

٤ محرم الحرام
٭امام الاولیا حضرت سیدنا خواجہ حسن بصری ٭حضرت سید حمید لاہوری ١٠٩٠ھ ٭حضرت اخون درویزد نگرہاری ٨٩٧ھ ٭حضرت میر محمد بن احمد کشمیری ١٠١١ھ ٭حضرت میر فضل علی لاہوری ١١٦٠ھ ٭

٥ محرم الحرام
حضرت رفیع الدین مجذوب قلندری٭حضرت شیخ حجاج سرقندی ٣٤٢ھ حضرت ابو الفرح یوسف طرطوسی ٤٦١ھ ٭حضرت عوض علی شاہ ٭حضرت فردالاولیا شیخ العالم خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر ٦٦٤ھ ٭حضرت ابو اسحق لاہوری٩٨٥ھ ٭حضرت خواجہ احمد مہروی چشتی ١٣٣٠ھ

٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ بن مسلمہ قعبنی ٢٢١ھ ٭حضرت ابو القاسم ابراہیم نصرآبادی ٣٦٧ھ

٧ محرم الحرام
٭حضرت سید امام مہدی بن امام حسین رضی اللہ عنہ،٭حضرت امام احمد غزالی ٥١٧ھ ٭حضرت سید شہاب الدین احمد قسطلانی ٩٢٣ھ ٭حضرت حاجی محمد ہاشم گیلانی لاہوری ١٠٨٧ھ ٭حضرت شیخ محمد عاشق معشوف صفات ١١٩٩ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق ١٢٥١ھ ٭حضرت فضیل بن عیاض

٨ محرم الحرام
٭حضرت سیدی ابی نعیم احمد اصفہانی (صاحب مستخرج صحیح مسلم) ٤٠٣ھ ٭حضرت شیخ ابو الفتح بغدادی ٩٥٩ھ ٭حضرت شیخ محمد طاہر لاہوری ١٠٤٠ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق نقشبندی مجددی ١٢٥١ھ ٭مناظر اہلسنّت مولانا حشمت علی خاں ١٣٨٠ھ ٭شیخ عبدالغفور اخوند

٩ محرم الحرام
٭حضرت شیخ جعفر کوفی ٢٢٢ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم میردانی٢٧٨ھ ٭حضرت شمس الدین مرزا مظہر جان جانان الملقب بہ حبیب اللہ ٥٩٠ھ ٭حضرت سید بہاؤالدین عرف محمود کرخی ٦٠٢ھ ٭حضرت ابو الفتح حفظی کنتوری لکھنوی١٢٠٤ھ ٭حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری ١٢٤٣ھ ٭حضرت سیدنا علی ہجویری داتا گنج بخش

١٠ محرم الحرام
٭ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا٭ حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عہنما ٦٠ھ ٭حضرت خواجہ ابو الفر بُشر حافی بغدادی ٢٢٧ھ٭حضرت شیخ فارس ٣٤٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی فرقانی ٤٤٥ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین یحییٰ مقبول سہروردی ٥٧٧ھ ٭حضرت اوحد الدین عبداللہ بلیانی ٦٨٦ھ ٭حضرت شاہ لطف اللہ ٨٧١ھ ٭مولوی برکت اللہ مارہروی ١١٤٢ھ٭حضرت اخوند حافظ عبدالعزیز دہلوی١٢٩٦ھ ٭حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی ١١٤٣ھ

١١ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمد رازی ٣١٠ھ ٭حضرت شیخ بنان جمال مصری ٣١٦ھ ٭حضرت احمد بن محمد معروف بہ شیخ جعفر الخداد بصری ٣٤١ھ ٭حضرت عبداللہ شامی ٣٥٧ھ ٭حضرت ابو الفضائل عین القضاہ عبداللہ ہمدانی ٥٣٣ھ ٭حضرت ابو عمر و عثمان قرشی ٥٦٤ھ ٭حضرت سلمان ملتانی ٧٣٧ھ ٭حضرت خواجہ محمد یحییٰ بن خواجہ احرار ٩٠٦ھ ٭حضرت شیخ حسین خوارزمی ٩٥٦ھ ٭حضرت سید نورالدین بغدادی ٩٩٩ھ ٭حضرت حافظ برخوردار گنگوہی ١١٦٢ھ ٭حضرت خواجہ عبدالباقی حیات الجسد ١٢٠١ھ ٭حضرت مولانا غریب شاکر آزاد ١٢٦٧ھ

١٢ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد سہیل بن عبداللہ تستری ٢٨٣ھ ٭حضرت ابو بکر علی طرطوسی ٣٧٤ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٦٢٧ھ ٭حضرت محی الدین عربی مکی ٦١٣ھ ٭حضرت شیخ فخر الدین محبوبی ٧٢٧ھ ٭حضرت شیخ محمد سعدی وجوب حیرت ٨١٩ھ ٭حضرت ابو الفضل محمد بغدادی ٨٤٦ھ ٭حضرت سید غیاث اللہ کانپوری ١١٣٧ھ ٭حضرت حاجی عبداللہ آبریز مکی ١٢٠٠ھ ٭شیخ صفی الموسوی٭حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی

١٣ محرم الحرام
٭حضرت شیخ غلان واسطی ٢٨٦ھ٭حضرت ابو بکر محمد واسطی مروزی ٣٠٨ھ ٭حضرت سید کریم مشغول سمنانی ٤٧٥ھ ٭حضرت عماد الدین عمار یا سر سہروردی ٥٩٩ھ ٭حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی دہلوی ٧٣٣ھ ٭حضرت محمد معزالدین اجودہنی ٧٤٩ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٧٨٢ھ٭حضرت شاہ محمد بلخی ٨٩٩ھ ٭حضرت عبدالرحمن یمنی ٩٠٨ھ ٭حضرت عبدالقادر قدرت حق بغدادی ٩٦٩ھ ٭حضرت مولوی خیر الدین ١١٤٧ھ ٭حضرت علامہ غلام حید راجکوٹی ١٣٧٩ھ

١٤ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن مالکی ٢٧٧ھ٭حضرت خواجہ کریم الدین علو ممشاد دینوی ٢٩٩ھ ٭حضرت خواجہ ابو محمد ٣٢١ھ ٭حضرت ابو بکر محمد مصری ٣٤٥ھ ٭حضرت خواجہ اختیار الدین عمر ٨٩٠ھ ٭حضرت شیخ سلیمان مندوی ٩٤٤ھ ٭حضرت شیخ محمد حیات ٩٩٤ھ ٭حضرت شیخ عبدالکریم انصاری ١٠٢٤ھ ٭حضرت اخون الہ دل ١١٥٧ھ ٭حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی ١١٩٨ھ ٭حضرت سید محمد عبداللہ بغدادی ١٢٠٧ھ ٭حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفٰی رضا نوری بریلوی ٭حضرت سید عبدالقدیر میاں ٭حضرت شاہ عبداللہ بغدادی

١٥ محرم الحرام
٭حضرت شیخ ابو محمد بن ابی نصر٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ عیسی مغربی ١٠٩٧ھ ٭مولوی مظہر حسین کاندھلوی ١٢٨٢ھ٭حضرت میاں علی محمد چشتی

١٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ صاحب مسند داری سمرقندی ٢٥٥ھ ٭حضرت ابو الفرح فراغی بصری٤٩٧ھ ٭حضرت درویش محمد بن قاسم اودہے ٨٩٩ھ ٭حضرت شاہ قطب الدین ١٠٢١ھ ٭حضرت بابا نصیب الدین غازی کشمیری ١٠٤٧ھ ٭حضرت سید نتھے خان جی مفاد الاکرام ١١٩٥ھ ٭پیر چراغ علی شاہ ١٣٨٩ھ

١٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد کشادن روح ٧٩٣ھ ٭حضرت شاہ فضیل مرتبہ الوہیت ٩٩٩ھ ٭حضرت گلزار شاہ کشوی ١٢٦٨ھ ٭مولوی غلام محمد ترنم امرتسری ١٣٧٩ھ ٭حضرت پیر سید جماعت علی شاہ٭حضرت شاہ ابو الرضا محمد

١٨ محرم الحرام
٭حضرت امام المسلمین سیدنا علی زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ٩٤ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین احمد الزاہد ٢٢٩ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم بن غیاث الدین ٥١١ھ ٭حضرت نور الدین عبدالرحمن جامی ٨٩٨ھ ٭حضرت مخدوم شاہ صفی عرف عبدالصمد ٩٤٥ھ ٭حضرت دیوان محمد ابراہیم اجودہنی ١٠٣١ھ ٭حضرت قطب الدین بن مولانا فخر ١٢٣٣ھ ٭

١٩ محرم الحرام
٭حضرت سیدنا احمد جیلانی٭حضرت احمد قدیر ٥٣٧ھ ٭حضرت میر سید احمد جیلانی ٨٥٣ھ ٭حضرت مولانا درویش محمد اسفراری ٩٧٠ھ ٭حضرت مولانا محمد درویش ہراتی ٩٨٥ھ ٭حضرتر شیخ محمد صادق گنگوہی ١٠٥٣ھ ٭حضرت محی الدین بن یوسف یحییٰ چشتی مدنی ١١١٣ھ ٭حضرت شاہ غلام نبی لاہوری ١٢٤٧ھ ٭

٢٠ محرم الحرام
٭حضرت کرکم ضحاک بصری ٦٠٦ھ

٢١ محرم الحرام
٭حضرت او العباس عبداللہ بُستی ٣٠٤ھ ٭حضرت ابوالعباس احمد حریثی ٣١١ھ ٭حضرت ابو بکر قطبی ٣٦٨ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل تلمسانی ٣٩٧ھ ٭حضرت شیخ الحرمین ابوالمعالی عبدالملک مکی ٥٤٦ھ ٭حضرت شیخ عدی بن مسافر شامی ہنکاری ٥٥٧ھ ٭حضرت شیخ یونس سیستانی ٦١٩ھ ٭حضرت ظہیر الدین عبدالرحمن بن علی برغش ٧١٦ھ ٭حضرت شاہ سید احمد بخاری ٧٩٩ھ ٭حضرت کرم عدیم بن قاسم انوار ٨٢٣ھ ٭حضرت عبدالنعیم سالک نیشاپوری ٨٤٢ھ ٭حضرت شیخ محمد شریف شوک بابا کشمیری ١٠٢٧ھ ٭حضرت اکسیر عشق ابو المجد پیر محمد سلونی ١٠٩٩ھ ٭خواجہ عبدالرسول قصوری ١٢٩٤ھ ٭حضرت شاہ ابو الفیاض (پٹنہ)

٢٢ محرم الحرام
٭ حضرت شیخ ابو الفتح حمصی٣٠٧ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل نیشاپوری ٥١٣ھ ٭حضرت محمد شاہ نیک اختر نوشاہی ١٣٣٧ھ ٭حضرت سید اصغر حسین ١٣٦٤ھ ٭حضرت سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ،

٢٣ محرم الحرام
٭حضرت مجد الدین بغدادی ٦١٩ھ ٭حضرت شیخ امام الدین قادری پلوسی

٢٤ محرم الحرام
٭حضرت سید حمزہ اصغر بغدادی ٭شاہ ابو الحسن پھلواری ١٣٦٥ھ

٢٥ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن علی ہنکاری ٤٨٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی بن محمد٤٨٦ھ ٭حضرت حافظ عبدالوہاب خالصپوری ١٣١٢ھ ٭حافظ محمد خلیل الرحمن قادری نقشبندی ١٣١٩ھ ٭مولوی مفتی غلام جان ہزاروی ١٣٧٩ھ ٭حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی

٢٦ محرم الحرام
٭حضرت قاضی عبدالمقتدر دہلوی ٧٩١ھ ٭حضرت بابا تاج الدین ناگ پوری

٢٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمدابن داؤد ٣٥٤ھ٭حضرت ابو العباس احمد اسود دینوری ٣٦٧ھ ٭حضرت شیخ ابو داؤد سنجانی طوسی ٤٦٧ھ ٭حضرت ابو سعید شیخ بخاری٥٠١ھ ٭حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ٨٠٨ھ ٭حضرت شیخ اسلم کشمیری ١٢١٢ھ

٢٨ محرم الحرام
٭حضرت ابی الحسن علی دمشقی ٢٨٦ھ ٭حضرت انس بن مالک صخادم ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٥٤ھ٭حضرت شیخ ابو حدین شعیب مغربی ٥٩٠ھ ٭مولوی چراغ علی شاہ قادری محبت پوری ١٣٦٢ھ ٭حضرت شاہ مظفر حسین (پٹنہ)

٢٩ محرم الحرام
٭حضرت خواجہ محمد صالح بلخی ١٠٤٨ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ٭حضرت مولوی شاہ عبدالغنی دہلوی ١٢٩٦ھ ٭حضرت خواجہ فقیر محمد چورہ شریف ١٣١٥ھ٭حضرت سید علی میراں داتا ٭حضرت محمد نقشبند٭حضرت عبید اللہ احرار

٣٠ محرم الحرام
٭حضرت روز بہان بقلی شیرازی ٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ زاہد بن علی مرغابی ٧٩١ھ ٭حضرت سید زین الدین رکنابادی ٧٩٣ھ ٭

 

رضی اللہ تعالیٰ عہنم اجمعین و رحمہما الل

آملہ کے فوائد

Leave a comment

آملہ کے فوائد

آملہ معدے کی تیزابیت اور انفکشن سے محفوظ رکھتا ہے

برسبین  : عام طور پر جڑی بو ٹی آملہ کو با لوں کی مضبو طی ،چمک اور گر تے با لوں کے علا ج کے لئے استعما ل کیا جا تا ہے لیکن طبی ما ہر ین کا کہنا ہے آملہ نہایت صحت بخش بو ٹی ہے اور دن میں دو مر تبہ دودھ یا پا نی میں آملہ پاؤڈر اور شکر ملا کر پینے سے معدے کی تیزابیت سے چھٹکا رہ ممکن ہے۔ما ہرین کے مطا بق آملہ میں قدرتی طور پر جراثیم کش خصوصیات پا ئی جا تی ہیں جس کے باعث آملہ کا استعما ل انفکشن سے محفوظ رکھتا ہے اورقوتِ مدافعت کو بڑھا تا ہے۔یہی نہیں بلکہ آملہ کے جو س کو شہد کے ساتھ ملا کر کھانے سے بینا ئی کی کمزوری پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

محبت اہل بیت

Leave a comment

سوال نمبر ُُُُُ 1: اہل بیت میں کون کون سے حضرات داخل ہیں؟

جواب :حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نسب اور قرابت کے وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ ان اہل بیت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات (آپ کی بیبیاں، ہم مسلمانوں کی مقدس مائیں) اور حضرت خاتوں جنت فاطمہ زہرا، حضرت مولا علی مشکل کشا اور حضرت امام حسن و حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم سب داخل ہیں۔

سوال نمبر ُُُُُ 2: ازواج مطہرات کا کیا مرتبہ ہے؟

جواب :قرآن عظیم سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس بیبیاں مرتبہ میں سب سے زیادہ ہیں اور ان کا اجر سب سے بڑھ کر ہے۔ دنیا جہاں کی عورتوں میں کوئی ان کی ہمسر اور ہم مرتبہ نہیں، اگر اوروں کو ایک نیکی پر دس گنا ثواب ملے گا تو انھیں بیس گنا، کیونکہ ان کے عمل میں دو جہتیں ہیں ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی وا طاعت اور دوسرا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا جوئی و اطاعت ۔ لہٰذا انھیں اوروں سے دوگنا ثواب ملے گا۔

سوال نمبر ُُُُُ 3: پنجتن پاک کن حضرات کو کہا جاتا ہے؟

جواب :پنجتن پاک سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مولا علی اور حضرت بی بی فاطمہ زہرا(حضور کی صاحبزادی اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں۔

سوال نمبر ُُُُُ 4: اہل بیت کرام کے فضائل کیا ہیں؟

جواب :اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے فضال بہت ہیں ان حضرا ت کی شان میں جو آئتیں اور حدیثیں وارد ہوئی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ:
۱۔ اہل بیت کرام سے اللہ تعالیٰ نے رجس و ناپاکی کو دور فرمایا اور انھیں خوب پاک کیا اور جو چیز ان کے مرتبہ کے لائق نہیں اس سے ان کے پرور دگار نے انھیںمحفوظ رکھا۔
۲۔ اہل بیت رسول پر دوزخ کی آگ حرام کی۔
۳۔ صدقہ ان پر حرام کیا گیا کہ صدقہ دینے والوں کا میل ہے۔
۴۔ اوّل گروہ جس کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے حضور کے اہل بیت ہیں۔
۵۔ اہل بیت کی محبت فرائض دین سے ہے اور جو شخص ان سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔
۶۔ اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے۔ جو اس میں سوا ر ہوا اس نے نجات پائی اور جو اس سے کترایا ،ہلاک وبردبا ہوا۔
۷۔ اہل بیت کرام اللہ کہ وہ مضبوط رسی ہیں جسے مضبوطی سے تھامنے کا ہمیں حکم ملا۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں جب تک تم انھیں نہ چھوڑ و گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے ایک کتاب اللہ (قرآن کریم) ایک میری آل۔
ایک اور حدیث شریف میںہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو تین خصلتیں سکھاؤ، اپنے نبی کی محبت اور اہل بیت کی محبت اور قرآن پاک کی قرا ت۔
غرض اہل بیت کرام کے فضائل بے شمار ہیں۔

سوال نمبر ُُُُُ 5: حضرت بی بی فاطمہ کے فضائل کیا ہیں؟

جواب :حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ اس لیے رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے ساتھ محبت کرنے والوں کو دوزخ سے خلاصی عطا فرمائی۔ ایک حدیث میںہے کہ حضرت فاطمہ پاک دامن ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان پر اور ان کی اولاد پر دوزخ کو حرام فرمایا۔
ایک حدیث میں ہے کہ فاطمہ میرا جز ہیں جو انھیں ناگوار ، وہ مجھے ناگوار اور جو انھیں پسندوہ مجھے پسند۔ ایک اور حدیث میںہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ ! تمہارے غضب سے غضبِ الٰہی ہوتا ہے ، اور تمھاری رضا سے اللہ راضی۔
ایک اور حدیث میں حضورپر نور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے فاطمہ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم ایمان ولی عورتوں کی سردار ہو۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: مجھے اپنے اہل میں سے سب سے زیادہ پیاری فاطمہ ہیں۔

سوال نمبر 6: حضرت امام حسن اور امام حسین کے کیا فضائل ہیں؟

جواب :حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :
۱۔ حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔
۲۔ جس نے ان دونوں (حضرت امام حسن اور امام حسین) سے محبت کی ، مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے عداوت کی اس نے مجھ سے عداوت کی۔
۳۔ حسین و حسن جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔
۴۔ جو شخص نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں کے والد اور والدہ سے محبت رکھی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔
الغرض اہل بیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہم اہلسنت و جماعت کے متقداء ہیں جو ان سے محبت نہ رکھے وہ بارگاہ الٰہی سے مردور و ملعون ہے اور حضرت حسنین یقینا اعلیٰ درجہ کے شہیدوں میں ہیں۔ ان میں سے کسی کی شہادت کا انکار کرنے والا گمراہ بددین ہے۔

سوال نمبر ُُُُُ 7: صحابہ کرام کی محبت کے بغیر اہل بیت کی محبت کام آئے گی یا نہیں؟

جواب :حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے آل اور اصحاب سے محبت اور ان دونوں کے ادب وتعظیم کو لازم جاننا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ تو جس طرح اہل بیت کرام کی محبت کے بغیر آدمی مسلمان نہیں رہ سکتا اسی طرح صحابہ کرام کی محبت کے بغیر بھی ایمان قائم نہیں رہ سکتا۔ دل میں ان دونوں کی محبت و عقیدت کو جگہ دینا فرائض دین سے ہے اور دونوں کی تعظیم و تکریم حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر میں داخل ہے۔ اہل بیت کرام اس امت کے لیے اگر کشتی کی مانند ہیں تو صحابہ کرام ستاروں کی رہنمائی حاصل کئے بغیر چلنے والی کشتیاں ساحل مراد تک پہنچنے سے پہلے ہی طوفان کی نذر ہو جاتی ہیں۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ حضرت مولا علی کی محبت اور ابو بکر و عمر کا بغض کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتا۔

سوال نمبر ُُُُُ 8: یزید کون تھا؟

جواب :یزید بنی امیہ میں وہ بد نصیب شخص ہے جس کی پیشانی پر اہل بیت کرام کے بے گناہ قتل کا سیاہ داغ ہے اور جس پر رہتی دنیا تک دنیائے اسلام ملامت کرتی رہے گی اور تاقیامت اس کا نام حقارت و نفرت سے لیا جائے گا ۔ یہ بد باطن، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے گھر پیدا ہوا، نہایت موٹا، بد نما ، بد اخلاق، شرابی، بد کار، ظالم و گستاخ تھا۔ اس کی بیہود گیاں ایسی ہیں جن سے بدمعاشوں کو بھی شرم آئے۔ سود وغیرہ کو اس بے دین نے علانیہ رواج دیا اور مدینہ طیبہ و مکہ مکرمہ کی بے حرمتی کرائی۔ البتہ اس پلید کو کافر کہنے اور اس پر نام لے کر لعنت کرنے میں احتیاط چاہیے۔ اس بارے میں ہمارے امام اعظم کا مسلک (طریقہ) سکوت (خاموشی) یعنی ہم اسے فاسق و فاجر کہنے کے سوا نہ کافر کہیں اور نہ مسلمان۔
اور یہ جو آج کل بعض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل ہے ہمارے وہ (حضرت اما م حسین) بھی شہزادے ، اور وہ (یزید پلید) بھی شہزادے، ایسا بکنے والا خارجی ہے اور جہنم کا مستحق۔

سوال نمبر ُُُُُ 9: اہل بیت کے ائمہ دوازدہ (بارہ امام) کون کون ہیں؟

جواب :ائمۂ اہل بیت میں سب سے اول امام حضرت مولیٰ علی ہیں، پھر حضرت امام حسن، پھر حضرت امام حسین، پھر حضرت امام زین العابدین، پھر حضرت امام باقر، پھر حضرت امام جعفر صادق، پھر حضرت امام موسیٰ کاظم، پھر حضرت امام علی موسیٰ رضا، پھر حضرت امام محمد تقی، پھر حضرت اما م نقی، پھر حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور پھر حضرت امام مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو قرب قیامت میں ظاہر ہوں گے۔

 

Older Entries