پتھروں کے خواص

برج حمل کے موافق پتھر

پکھراج

پکھراج جیسے فارسی میں قوت ارزق اور ہندی میں پو شپ راگ کہتے ہیں ۔ ایک عمدہ زردرنگ قدیمی جواہر ہے۔ زبان عبرانی میں اسے پت دوہ کہتے ہیں ۔ جس کا مصدرسنسکرت لفظ پیت (معنی زرد) معلوم ہوتا ہے۔یونانی زبان میں اسے ٹوپاسٹیوں (Topasitun)کہتے ہیں ۔جس کا مآخذ لفظ ٹپ دوہ ہے۔جو پت دوہ کا بگڑا ہوا ہے ۔ اس کا انگریزی نام ٹوپاز ایک جزیرہ کے نام پر پڑا ہے جہاں سے پہلے یہ نکلتا تھا۔یہ جزیرہ بحیرہ قلزم میں ہے اور چونکہ اس کے گرد ہمیشہ دھند و غبار رہتا ہے۔ اس لئے اس کا نام ٹوپاز پڑا۔معنی تلاش کرنا پڑا اور اسی سے لفظ ٹوباز نکلا ہے۔کئی دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جواہر زمانہ قدیم میں مروج تھا۔چناچہ بوتش لکھتا ہے کہ یہ جواہر سبزی مائل زرد رنگ کا ہے۔اور اس کے کئی ایک خواص سحری یمن و برکات مانے جاتے تھے۔یونانی حکماء لکھتے ہیں کہ ’’ پکھراج غم غصہ کو دور کرتا ہے۔بازو پر باندھنے سے جادو کا اثر نہیں ہوتا ہے۔عیاشی سے بچاؤ ہوتا ہے۔‘‘
ماہرین اس کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ایک مشرقی دوم مغربی ۔ جس پکھراج میں صرف الیو مینا مرکب ہوتا ہے وہ مشرقی اور جن اقسام میں ۵۷ حصہ الیو مینار اور باقی سلیکا اور فلورائن مرکب ہوں ا نہیں مغربی کہتے ہیں۔کتب سنکسرت میں اس کی چار ذاتیں بیان کی گئی ہیں۔سفید پکھراج ، برہمن ، سرضی مائل کھتری ، زرد رنگ ، ویش اور سیاہی مائل شودر ، متقد مین اسے چرائسو لیٹ کہتے تھے۔پکھراج کی ایک قسم پس نائیٹ نامی ہے جو الٹن برگ سے ملتی ہے۔ ایک اور قسم ہے جیسے فالیولائٹ یا پرائی فائسو لائیٹ کہتے ہیں ۔ یہ تاریک ہوتی ہے ۔ اور گر می سے سوج جاتی ہیں

خواص و ماہیت

۔پکھراج کی کافی شکل قائم الزاویہ متوازی الاضلاع اور مستطیل ہوتی ہے۔
۲۔ اس کی سختی ۸ سے ۹ تک ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ بلور کو کاٹ سکتا ہے اور الماس و نیلم سے کاٹا جاتا ہے۔
۳۔چمک اس کی بلورین ہے۔
۴۔اس کا رنگ زرد ، سفید ، نارنجی ، دار چینی ، نیلگوں ، گلابی ، پیا زی ، زرد مائل ، سفید ، پہاڑی سبز ، خوشنما ہوتا ہے۔یہ رنگ جس قدر گہرا ہو اسی قدر قیت زیادہ ہوتی ہے۔گلابی رنگ کے لحاظ سے اس کے یہ نام ہیں۔
۱) گلابی رنگ پکھراج یہ زرد رنگ پکھراج سے اس طرح بناتے ہیں کہ گہرے زرد رنگ پکھراج کو حقہ کی چلم یا کسی چھوٹی کھٹائی میں رکھ کر اور راکھ یا ریت ڈالتے ہیں ۔بعد تھوڑی آنچ دینے سے اس کا رنگ زرد سے گلابی ہو جاتا ہے۔اگر رنگ عمدہ نکلے تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔اس کو برازیل کا پکھراج کہتے ہیں۔
۲)سرخ رنگ پکھراج اس رنگ کا پکھراج کامیاب ہوتا ہے۔کرمزی رنگ اکثر دیکھے جاتے ہیں ۔
۳) نیلگوں پکھراج یہ عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے اور چنداں نا یاب بھی نہیں ہوتا ۔ہلکے رنگ کے پارے بھدراس کی بجائے خریدے جاتے ہیں۔
۴)سفید انکوائنس نوواس بھی کہتے ہیں ۔ یہ بازو بند ، مالا وغیرہ زیورات میں مزین ہوتا ہے۔
۵)وزن مخصوص ۲ ء ۳ ۔
۶)شفاف و براق۔
۷)طاقت انعکاس۔
۸) ملنے اور گرمی پہنچانے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔ پہلے پہل پکھراج برازیل کے طاقت برقی۱۷۶۰ میں کنٹن نامی ایک شخص نے دریافت کی۔ایب ہائی نے سائیر یا کے پکھراج میں ۲۰ یا ۲۴ گھنٹہ تک رہ سکتی ہے۔سر ڈیو یڈ بر یوسٹر نے ایک ایسے پکھراج کو کاٹنے میں جس میں کئی ایک نشیب تھے اور نشیبوں میں بڑی پھیلنے والی رقیق شے تھی۔ایک عجیب کیفیت دیکھی۔اس کی غرض یہ تھی کہ ایک نشیب پر شگاف لگا کر اور اسے کھول کر اس کے رقیق مادہ کو دیکھے۔نشیب کے کھلنے سے دو نہایت سر عت سے پھیلنے والے رقیق مادے جلائے ہوئے حصہ پر بہنے لگے۔ اور بتدریج پھیلنا اور سکڑنا شروع کیا۔ کبھی تو وہ سکڑ کر قطر ہن جاتے اور کبھی پھیل کر چوڑے ہو جاتے۔ے حرکت جارے رہی حتیٰ کہ و ہ بخارات بن کر اڑ گئے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حرکت اس طاقت برقی کے باعث تھی جو کاٹنے سے پیدا ہوئی۔
۹)اس میں ۳۸ء۵۸ حصہ الیومینا۔۱ہ ء ۳۴ حصہ سلیکا ۶۱ ء ۷ فلورئین مرکب ہیں۔
۱۰)اگر اسے کوئلہ پر رکھ کر پھونکنی کے ذریعہ آنچ دی جائے تو بھی نہیں پگھلتا۔
ہاں سو ہا گہ کے ساتھ اسے گرمی پہنچائی جائے تو بے رنگ شیشہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر اسے تیز گرمی دی جائے تو اس پر بلبلے نمودار ہوتیں ہیں۔ تاریک زردگلابی یا گو میدک جیسے سر خ ہو جاتے ہیں ۔تیز آب کو بالٹ سے یہ نیلے رنگ کا ہو جاتا ہے

الماس ہیرا

اسم معروف : ہیرا ۔فارسی : ماسی ۔ عربی:الماس ، ہندی : ہیرا
ماہیت : سب پتھروں میں سخت پتھر اور بہت نفیس ہے۔
طبیعت: چوتھے درجے میں سردوخشک اور بعض کے نزدیک گرم ہے۔
رنگ وبو: سفید و زرد دو سیاہ سرخ ذائقہ : پھیکا سخت ہوتا ہے۔
مضر : زہر قاتل اور مضر ہے۔ مصلح: قے کرانا تازہ دودھ پلانا
بدل: اس کی دوسری قسمیں نسبت ستارہ: منسوب ہے زہرہ سے۔
نفع خاص : تعلق اس کی مقوی قلب ۔ کامل : زہر قاتل ہے مستعمل نہیں۔
ناقص: زہر قاتل ہے ماکول نہیں۔
افعال و خواص : اس کا لٹکا نا دل کی قوت دینا اور خوف و ڈر کا مانع اور سرعت ولادت کو مفید اور شش پھل صرع کو مفید اور منجن اس کا دانتوں کا مجلی لیکن اس سے پرہیز بہتر ہے۔
قادرمطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا۔اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے ۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنا دیا ہے۔ کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کا ایک باعث ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ جواہر مشہور چلا آرہا ہے۔
ٓآج کل کے جوہری اس کی قسمیں بیان کرتے ہیں۔(۱) گلابی (گلاب جیسا سرخ) (۲) بناسپتی (سبز رنگ) ، (۳) نیل بحبر نیلگوں ، (۴)بسنت (زرد رنگ) ، (۵) گڑچ (نہایت کڑا جس پر داغ ہوں چنن چال یا ابرق کہتے ہیں۔ (۶) کٹھی (سفید) ، (۷) بھورا (خاکی رنگ) ، (۸) پیلا (زرد) ، (۹) کالا ( سیاہ رنگ)، (۱۰)کف ، پنجابی جوہری الماس کی صرف چار قسمیں بتا تے ہیں ۔ (۱) شر بتی ( ہلکا سرخ) ، (۲) نیلا ،(۳) سفید ، (۴) سیاہ ۔ ہندو عیب دار اور سیاہ ہیرا کو پہننا زبون اور نحسن سمجھتے ہیں۔ عرب اور فارس کے حکما ء اس کی قسمیں بیان کرتے ہیں۔
(۱)نو شادری ۔ نو شادر کی طرح رنگدار ، (۲) کیر اسے ، نقری رنگ ، (۳) کدونی سفید (۴) حدیدی ، آ ہنی رنگ ، یونانی حکیم الماس کو دوائی بھی استعمال کرتے ہیں۔ اور اس کے اقسام ذیل بیان کرتے ہیں ۔ (۱) شفاف ، فر عونی ،(۲) زرد تبنے ،(۳) بلوی ، آسمانی ، (۴) سبزی ، زبر جدی ، اہل یورپ کم قدر الماس کی تین قسمیں بیان کرتے ہیں۔بورٹ ۔ کاربونیڈ وار بورن ان تینوں کا بیان آگے لکھا جائے گا

خواص و ماہیت

المااس کی ہےئت ذاتی حٓلت آغاز میں جب کہ یہ کان سے نکلتا ہے عموماٌ ہشت پہلو اور مشتبہ معین دو ازدہ اضلاع ہوتے ہیں۔ اسی لئے اسے ازقم قسم ٹیسیرل بیان کرتے ہیں۔اس کی ذاتی شکل میں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ہر ایک ضلع کے اوپر کی سطح ذرا خم دار یا قبہ دار ہوتی ہے۔ در حالیکہ دیگر قلموں کی بناوٹ کے پتھروں کی سطح اکثر ہموار ہوتی ہے۔ اس کی پہلو کے متوازی ایک قدرتی چگاف ہوتا ہے جس کے عیب دار حصہ کو نکالنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے
الماس کی اکثر ذاتی شکل قائم رکھی نہیں جا تی بلکہ اسے کاٹ کر حسب ضرورت کئی شکلوں کا بنا لیتے ہیں اسے بریلینٹ روز یعنی گلابی اور ٹیل کاٹ کا بھی اکثر الماس کاٹا جاتا ہے۔چونکہ الماس میں اعلیٰ درجہ کی سختی ہوتی ہے۔اس لئے اس پر عمدہ جلا آسکتا ہے۔ اس خواص سختی کے باعث ہے بڑے بڑے قدیم زمانہ کے الماس ہمیں نصیب ہوئے اگر اس میں اتنی سختی نہ ہوتی تو وہ کوہ نور مغل اعظم وغیرہ ہزار ہا صدیوں کے ہیراہم نہ دیکھ سکتے

یا قوت

اس معروف : یا قوت ، دارسی : یا قوت ، عربی : یا قوتے ۔ ہندی ، مانک
ماہیت : معدنی چیز ہے کہ اپنے معدن میں گندھک اور خالص پارے سے بنتا ہے۔
طبیعت : حرارت اور بر ددت میں معتدل اور دوم میں خشک ہے۔
رنگ وبو: نہایت سرخ شفاف چمکدار ۔
ذائقہ : پھیکا کوئی ذائقہ غالب نہیں۔ مضر : بہت مضر نہیں ہے۔
مصلح : عنبر اور سونا وغیرہ۔
بدل : اس کی دوسری قسمیں مثل سفید کے
نسبت سیارہ: منسوب ہے مریخ سے۔
نفع خاص : مفرح مقوی دل و حرارت غریزی ۔ کامل : تین رتی تک مستعمل ہے۔ناقص: ایک یا دو رتی۔
؂افعال و خواص : مفرح ہے اور دماغ کو قوت دیتا ہے ایک درہم پلانامر گی وسواس خفقان اور طاعون کو مفید اور خون منجمند کو محلل اور نزف الدم کا مانع اور زہروں کا داغ ہوائے وبائی کے تغیر کو سو مند خون کو صاف کرتا اور حرارت غر یزی کا محافظ ہے اور اس کی انگوٹھی پہننا طاعون کو مفید اور منہ میں رکھنا پیاس کا مسکن دل کا تقوی و مفرح اور سرمہ اس کا مقوی بصر محافظ چشم ہے۔
یا قوت جسے انگریزی میں روبی اور ہندی میں مانک کہتے ہیں۔بڑا بیش قیمت جواہر ہے۔ یہ ندرت رنگت اور خوش و ضعی کے باعث سب جواہرات سے افضل گنا جاتا ہے اور نہایت ہی قبول نظر ہے۔ یہ جواہر اپنی ندرت اور خوش رنگی کے باعث نہایت ہے بے بہا ہے۔ زمانہ قدیم سے یہ عجیب جواہر نامزد عالم چلا آرہا ہے ۔کئی عالموں نے اس کی بابت طرح طرح کے بیان لکھے ہیں۔شاعر لوگ اسے استعارتاٌ اپنے شعروں میں استعمال کرتے ہیں اور خاص کر لب معشوق کو اس سے تشبہیہ دیتے ہیں۔چنانچہ ایک شاعر لکھتا ہے۔
لب لعل تو یا قوت است یا قوت است مرجان را
خم زلف تو بادام است یا دام است انسان را
بعض لوگ اس کی نسبت خیال کرتے ہیں کہ رات کہ بھی دن سا خشاں ہے اور اس لئے اس شب چراغ کہتے ہیں۔زمانہ قدیم میں آج کل سے بھی اس کی زیادہ قدر ہے

خواص و ماہیت

(۱) یا قوت ایک عمدہ خوش شکل جواہر ہے۔حالت آغاز میں اس کی معدنی شکل اور متوازی الاضلاع ہوتی ہے۔ اور اس کا ہر ایک گوشہ عموماٌ نو کیلا ہوتا ہے۔اسے بعدہ کاٹ کر حسب ضرورت اور شکل کا بنا دیتے ہیں۔
(۲)الماس سے زیادہ یہ جواہر کسی اور جواہر سے سختی میں کم نہیں ۔ اس واسطے یہ صرف الماس سے کاٹا جاسکتا ہے۔ نیلم ، زمرد ،پکھراج ، بھیکہم کو کاٹ سکتا ہے۔ اس کی سختی نو درجہ ہوتی ہے۔
(۳)چمک اس جواہر کی بلورین ہے۔ متقد مین کو اس کی چمک کا یہاں خیال تھا اور بیان کرتے ہیں کہ یہ جواہر اندھیری رات میں چراغ کا کام دیتا ہے۔
(۴)یہ جواہر عمدہ خوش رنگ ہوتا ہے۔ اس کا رنگ قرمزی ، کبوتر کے خون سا سرخ اور ارغوانی رنگ مائل ہوتا ہے۔اہل عرب ااس کی اور کئی قسمیں بیان کرتے ہیں۔مثلاٌ زردہ ، کبود ، سبز اور سفید اور ہر ایک رنگ کی مختلف قسمیں بیان کرتے ہیں۔ ان سب سے ارمانی یعنی انار کا رنگ عمدہ سمجھا گیا ہے۔ سرخ رنگ یا قوت کی قسمیں بتلاتے ہیں۔ (۱) سرخ حمری ( یعنی بڑا سرخ) (۲) سرخ اوری (گلابی ) (۳) سرخ نارنجی ( ۴) سرخ زعفرانی (۵) سرخ نیموی (یعنی پختہ لیموں رنگ) کبودرنگ کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔
(۱) کبود آسمان گون (یعنی آسمانی رنگ) ، (۲) کبود کو ہلے ( یعنی سرمہ رنگ)، (۳) کبود لا جوردی ( لا جوردرنگ) ، (۴) کبود پستائی ( پستہ رنگ) ، (۵)یا قوت شفاف ہوتا ہے ، (۶) اس کا وذن مخصوص ۶ ء۴ سے ۸ء۴ درجہ تک ہوتا ہے اور بعض ۹۹ ء ۳ سے ۲ ء ۴ درجہ تک بیان کرتے ہیں ، (۷) اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن تھوڑے درجہ کی ، (۸) ملنے سے اس میں طاقت برقی پیدا ہوتی ہے اور چند گھنٹوں تک رہتی ہے ، (۹) اس میں ۵ ء ۹۸ حصہ آکسڈ آف آئرن اور ۵ حصہ چونا مرکب ہیں ،(۱۰) بعض کی رائے ہے کہ سرخ رنگ یا قوت کو گرمی دی جائے تو اس کی چمک بڑھتی ہے ۔ اور سرخی مائل سفید رنگ یا قوت کو گرمی پہنچانے سے سرخ ہو جاتا ہے۔ در حقیقت دھواں ، پسینہ ، روغن اور بد بو یا قوت کے رنگ پر اثر کرتے ہیں ۔ یعنی اس کے رنگ کو ہلکا خراب کر دیتے ہیں ۔ لیکن گرمی پہنچانے سے یا قوت کا رنگ تیز ہو جاتا ہے ۔ تجربہ سے ثابت نہیں ہوتا ۔ بقول حکماء یونان یا قوت میں یبوست درجہ دوئم کی ہے اور زرد اقسام میں برووت اور یبوست درجہ دوئم ہے

نیلم

اس معروف نیلم ۔ فارسی نیلم۔ عربی ۔ یا قعت کبود ۔ ہندی : نیلمن۔
ماہیت : مشہور پتھر ہے معدنی اعلیٰ قسم کا جس کے نگینے وغیرہ بنائے جاتے ہیں۔
طبیعت پہلے درجے میں گرم اور تیسرے میں خشک ہے۔
رنگ و بو نیلا صاف شفاف چمکدار ۔ ذائقہ پھیکا کوئی غالب نہیں ۔
مضر : گرم مزاجوں کو مضر ہے ۔ مصلح : یا قوت سفید اور اشیا ئے سرد ۔
بدل : یا قوت سرخ یا زرد ۔ نسبت سیارہ : منسوب ہے زحل سے۔
نفع خاص : مفرح و مقوی دل و دماغ ۔ کامل : ساڑھے تین رتی تک۔
نا قص : رتی سے دور تی تک۔
افعال و خواص : مفرح ہے اور دل و دماغ کو قوت اور ایک ورم حل کر کے پلانا صرع اور وسواس اس ، خفقان ، طاعون ، نزف الدم ، دفع زہر ۔ تغیرہوائے بائی میں مفید ،خون کو صاف کرتا ہ۔حرارت غریزی اور قو ائے حیوانی کا محافظ ہے اس کا منہ میں رکھنا منہ کی بد بو کا دافع تشنگی کا مسکن ۔ مقوی دل و مفرح ہے ، سرمہ اس کا مقوی بصر اور محافظ چشم ہے۔نیلم جسے سنسکرت میں نیلا ، انگریزی میں سیفائر اور فارسی عربی میں یا قوت ارزق کہتے ہیں نہایت ہی وعمدہ نیلگوں جواہر ہے ۔ اس کی چمک دمک اور آسمانی نیلی رنگت دل کو بہت بھاتی ہے۔ یہ جواہر زمانہ قدیم سے مشہور چلا آرہا ہے اور اہل ہنو د اور اہل اسلام کی پرانی کتابوں میں اس کا ذکر آیا ہے ۔ اس جواہر کے برابر کسی ایک معبود کا نام کی نظر کرتے تھے۔ جواہر اپنی خوش رنگت اور چمک چمک کے باعث زیبائش بدنی کے لئے بہت مروج ہے۔ متقد مین چونکہ ایسے جواہر کو کاٹنا بڑا مشکل سمجھتے تھے اس لئے یہ زیورات میں کم مستعمل تھا ۔ نیلم کے پانچ اقسام بیان کئے جاتے ہیں اور اس کے پہننے کے مختلف فوائد لکھے ہیں۔
(۱) گوڈ تو ، جو مقدار میں چھوٹا اور تول میں بھاری ہو اس کے پہننے سے دل کی مرادیں بر آتی ہیں۔
(۲)سنگرت جو ہمیشہ چمکتار ہے اس کی پہننے سے دولت اور محبت بڑھتی ہے۔
(۳) ور ناڑی جسے سورج کے سامنے رکھنے سے نیلے رنگ کی کرنیں نکلیں اس کے پہننے سے مال اور اجناس حاصل ہوتے ہیں۔
(۴)پارشورت ، جس سے سنہری روپہری اور بلوی چمکیں نکلیں اس کے پہننے سے نا موری ہوتی ہے۔
(۵) رنج کیتو ، جس کو برتن میں رکھنے سے اس کی چمک کے باعث برتن نیلا دکھلائی دے، اس کے پہننے سے اولاد کو ترقی ہوتی ہے۔ ایک مہانیل نامی نیلم ہوتا ہے۔ جسے اگر اس سے سو حصہ زیادہ دودھ میں ڈال دیں تو اس کی چمک سے دودھ نیلے رنگ کا دکھلائی دیتا ہے۔ ایک اندر نیل نامی نیلم ہوتا ہے ۔ ان کے علاوہ ضرر اور نقصان متصور ہوتے ہیں وہ چھ ہیں ۔
(۱) ابرق جس کے اوپر کے حصہ میں بادل کی سی چمک ہو اس سے عمر و دولت برباد ہوتی ہے۔
(۲)تراش جس میں ٹوٹے پن کا نشان ہو ۔ اس سے ریچھ وغیرہ جانوروں سے ضرور پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
(۳)چترک جو مندرجہ بالا رنگوں سے کسی مختلف رنگ کی ہو اس کے پہننے سے قوم کے بر بادی متصور ہے۔
(۴) مرت گر یہہ جس کا مٹیلا سا رنگ ہو اس سے کئی امراض پیدا ہوتے ہیں۔
(۵) اشم گر یہہ جس میں پتھر کا سا ٹکڑا معلوم ہو۔ اس کے پہننے سے موت کا ڈر ہوتا ہے۔
(۶) روکہی جس میں پتھر چینی کی طرح داغ ہوں اس کے پہننے سے جلا وطنی کا ڈر ہے۔ آج کل کے جواہر نیلم کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں۔ اول پرانا ، دوم نیا ہر ایک تین نوعیں بتلاتے ہیں۔
(۱) سبز ین نیلا یا نیلا مائل سبزی ۔ (۲)لال پن نیلا ، (۳) خوب نیلا یعنی گہرا نیلگوں ، اہل فارس نیلم کو قوت کی ایک قسم بیان کرتے ہیں اور اس لئے یا قوت ارزق کہتے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ یا قوت سے ایک علیحدہ جواہر ہے

خواص و ماہیت

نیلم لی معدنی شکل شش پہلو متوازی الا ضلاع یا مسدس ہوتی ہے۔ اس لئے یہ زمرہ ڈ چروک میں گنا جاتا ہے۔اس میں سختی ۹ درجہ ہے۔ اس لئے یہ صرف الماس سے ہی کاٹا جا سکتا ہے۔ نیلم کا رنگ بہت عمدہ خوشنما ہوتا ہے یعنی روشن نیلگوں سے ارغوانی نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ سفید اور ارغوانی رنگ کے نیلم بھی ہوتے ہیں ۔ کتب اہل ہنود میں ان کے علاوہ نیلم کئی اور انواع بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ’’ اگر چہ اصلی نیلم کا رنگ نیلا ہے جس کے باعث یہ نیلم کہلاتا ہے پھر بھی کئی ایک رنگوں کی جھلک ان میں ظاہر ہوتی ہے۔چنانچہ بعض نیلم کنول کے پھول کی طرح بعض تلوار ، بھونرے ، سمندر کے پانی ، کوئل کے گلے عغیرہ کی ماند نیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان کے رنگوں کے لحاظ پر چار نو عیں ہیں۔ (۱) برہمن نیلم ( سفیدی مائل نیلا) ، (۲) چھتری ( سرخی مائل نیلا) ،(۳) ویش ( زرسی مائل نیلا ) ، (۴) شودر ( سیاہی مائل نیلا)۔
نیلم کا وزن مخصوص ۹ ء ۳ سے ۲ ء ۳تک ہے۔ نیلم کے مرکبات کیمیائی طاقت انعکاس وغیرہ دیگر خواص یا قوت سے ملتے ہیں۔ نیلم اور یا و قوت میں صرف رنگ کا ہی فرق ہے۔ یعنی نیلم کا رنگ آسمانی نیلگوں اور یا قوت کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ نیلم کا رنگ مادہ کروپ ( ایک مشہور عنصر) کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ گرمی کے تاب سے سفید اور زردی مائل نیلم سفید ہو جاتے ہیں لیکن مشرقی نیلم کا رنگ گیس کی روشنی کے آگے ایسا ہی رہتا ہے۔ ہاں کم درجہ عدووں کا رنگ امنہٹ کے رنگ کی طرح تاریک ہو جاتا ہے۔

برج ثور کے موافق پتھروں کے خواص

عقیق

اسم معروف: عقیق۔ فارسی ، عقیق۔ عربی: عقیق
ماہیت: مشہور پتھر ہے عمدہ یمنی ہوتا ہے۔
طبیعت: سردو خشک ہے دوسرے درجے میں۔
رنگ و بو: سرخ و زرد و سفید و سیاہ و شجری۔
ذائقہ: پھیکا کوئی مزہ نہیں۔
مضر: گردے کے لئے مضر ہے۔
مصلح: کتیرا اور اشیائے تر۔
بدل: بسد احمر یعنی مونگے کی جڑ اور کہربا۔
نسبت ستارہ: منسوب ہے پلوٹو سے۔
نفع خاص: مقوی دل و بصر و دندان رافع خفقان۔
کامل: پونے دو ماشے تک۔
ناقص: چار رتی یا چھ رتی تک۔
افعال و خواص: باریک حل کیا ہوا قریب چھ رتی کے پینا دل کو قوت دیتا ہے۔ خفقان کا دافع اور حابس خون ہے۔ خصوصاً خون حیض کا جو کسی طرح بن نہ ہوتا ہو اور ادویہ مفتحہ کے ساتھ جگر اور طحال کے سدوں کا دافع اور ادویہ مفتتہ کے ساتھ مفت حصاۃ ہے سرمہ اس کا مقوی بصر اور منجن دانتوں کا مقوی ہے اور خون بہنے کا مانع اور گلے میں لٹکانا غصے اور غضب کا دافع اور خفقان کو سود مند۔
عقیق ایک خوش شکل او ر مشہور جواہر ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ عقیق فی الحقیقت از قسم معدنیات نہیں کیونکہ لفظ معدنیات حرف انہیں کافی اشیاء پر عائد ہو سکتا ہے کہ جن کی اجزاء کو اگر از روئے علم کیمیا تحلیل کیا جائے تو ہر ایک حصہ کی ہوی ماہیت ہو جو اس دھات کی ہے۔ جس کا وہ جزو ہے۔ عقیق میں یہ بات نہیں۔ یہ جواہر سیلیکا اور کوارٹرز قسم کی چند معدنیات کا مجموعہ ہے۔ جو کہ رنگ ڈھنگ اور بناوٹ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جب ان معدنیات میں دو یا زیادہ مل کر ڈلی بن جاتی ہیں اور ان پر داغ اور طبقہ پڑ جاتے ہیں تو یہ عقیق کہلاتے ہیں۔ یہ معدنیا ت از خود از قسم جواہر ہیں اور ان کیانام یہ ہیں۔ کالسڈونی، رودراکھ، سنگ سلیمانی، سنگ یشم، اوپل، امیتھسٹ سنگ ستارہ، حجر الدم، سنگ موچا اور بھیکہم۔
عقیق کو انگریزی میں اگیٹ کہتے ہیں۔ مختلف رنگ و ڈھنگ کے لحاظ پر عقیق کی کئی ایک قسمیں ہیں۔
(1) رابینڈا گیٹ (Riband Agate) (یعنی ریشمی فیتہ سا عقیق) جس میں مختلف رنگ کے طبقے ہوں اور یہ طبقے ایک دوسرے کو قطع کریں۔
(2) آنگس اگیٹ (Ongas Agate) (یعنی سنگ سلیمانی عقیق) جس میں طبقوں کے رنگ شوخ ہوں اور طبقہ سطح کے متوازی ہوں۔
(3) بینڈا گیٹ (Banda Agate) (یعنی زردی دار عقیق) جس پر طرح طرح کی دھاریاں ہوں۔
(4) جس میں یہ دھاریاں ہوں اسے سرکلر اگیٹ (cercular Agate)یعنی گول عقیق کہتے ہیں۔
(5) اور اگر دھاریوں کے مرکز میں اور رنگ کے نقطہ ہوں تو اسے آئی گیٹ (Eye Agate) یعنی عقیق مانند چشم کہیں گے۔
(6) قوس قزاحی عقیق جس کی دھاریاں مل کر قوس کی شکل بن جائیں اور آفتاب کے مقابل کرنے سے رنگ منشوری ظاہر ہوں۔ جس قدر پتھر زیادہ پتلا ہو اسی قدر یہ وصف زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے علاوہ کئی اور علماء ان کی یہ قسمیں بتاتے ہی۔
(1) رابن اگیٹ (Ribbon Agate) یعنی ریشمی لچھے سا عقیق، اس میں سنگ یشم اور کارلسڈونی کے طبقہ متوزی قطاروں میں ہوتے ہیں۔ یہ سائبیریا اور سسلی سے آتا ہے۔
(2) بریشنٹیڈ اگیٹ یہ اصل میں اسیتھسٹ ہوتا ہے اور اس میں رابن اگیٹ کے ٹکڑے بھی مرکب ہوتے ہیں یہ سکسنی سے آتا ہے۔
(3) فارٹی فیکیشن اگیٹ (Fartification Agate) یہ کئی شکل کا پایا جاتا ہے۔ اس کو کاٹنے کے وقت اس کے متوازی سطریں عمارت کی صورت دکھلائی دیتی ہیں۔ اس میں بھیکہم اور میتھسٹ کے ٹکڑے دکھائی دیتے ہیں۔
(4) ماس اگیٹ (Moss Agate) یعنی نباتاتی عقیق یہ اس میں کالسڈونی ہے اور سرخ سنگ یشم کی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کی شکل ایسی دکھلائی دیتی ہے کہ گویا اس کا نباتاتی اصل ہے۔ اس میں آکسیڈ آہن مرکب ہے۔ اور بعض میں نفت بھی ہوتی ہے۔ اس کی سطح کو پتھر پر رگڑ کر نرم لکڑی سے جلا دیتے ہیں۔ اس کا رنگ بھورا، زرد، ماہ آکسیڈ میگنشیا واہن کے باعث ہوتا ہے۔
(5) سارو آنکس
(6) پلاسما (Plasma) یہ سبز گیا ہی رنگ کا نیم شفاف، زرد اور سفید داغ۔ اس کا رنگ مادہ کلورائیٹ کے باعث ہوتا ہے۔
(7) علاوہ بریں عقیق کی تقسیم ایک اور طرح بھی ہے۔ یعنی تمام براق اور عمدہ قسم کے عدد مشرقی از کم درجہ مغربی عقیق کہلاتے ہیں۔ کتب فارسی میں عقیق کے مندرجہ ذیل اقسام درج ہیں۔
1۔ سرخ و جگری جن کا ندرونی رنگ بیرونی کی نسبت زیادہ سرخ ہو۔
2۔ صاف شفاف ہوں اور آئینہ کی طرح طاقت انعکاس رکھتے ہوں۔
3۔ صقاق جو چنداں شفاف نہ ہو اور آئینہ سی طاقت انعکاس نہ رکھتا ہو۔
4۔ ابلقی جو کچھ سفید اور کچھ سیاہ ہو۔
5۔ ذوبلقاتی یا جوزا جس کے ابرق کی طرح پرت ہوں۔
6۔ شجری جو شکل میں درخت یا پہاڑی کے مشابہ ہو۔
7۔ بابا گری یا سلیمانی جس میں گول نشان ہوں۔
مصر میں سبز رنگ عقیق کو انٹاس، سیاہ رنگ کو سلیمانی اور خاکی رنگ کو گوری کہتے ہیں۔ عقیق چونکہ یمن میں بکثرت ملتا ہے اس لئے عمدہ رنگوں کو عقیق یمنی کہتے ہیں۔

ماہیت

(1) عقیق کی شکل کافی مسدس یا متوازی الاضلاع ہوتی ہے۔ عقیق کی شکل ڈھلی بندی ہوئی نہیں ہوتی۔ اکثر اس کی شکل گول سنگریزوں کی طرح ہوتی ہے۔
(2) چمک بلورین
(3) رنگ بھورا، زرد، سفید، سرخ اور سیاہ ہوتا ہے۔ عقیق کے رنگوں کی دھاریاں یا تو متوازی ایک دوسرے کی ہوتی ہیں یا سب ہم مرکز گول ہوتی ہیں۔ یا اس کے رنگ داغ اور دھبوں کی طرح ہوتے ہیں۔
(4) سختی 7 درجہ کی۔
(5) عمدہ شفاف تہیں براق ہے۔
(6) وزن مخصوص 65ء2۔
(7) طاقت انعکاس دو چند۔
(8) گھسنے سے طاقت برقی پیدا ہوتی ہے۔
(9) اس کے مرکبات کیمیائی کے بارے میں مختلف محققوں کی مختلف رائے ہیں۔ اس میں جز اعظم سیلیکا تقریباً 99 حصہ ہے اور ایک حصہ سرخ آکسیڈ آہن اور اسی آکسیڈ آہن کے باعث اس کا رنگ ہوتا ہے۔ بعض کی رائے ہے کہ ا س میں آکسیڈ میگنشیاکی بھی قدرے مقدار ہے۔

فیروزہ

اس معروف: فیروزہ ۔ فارسی: پیروزہ۔ عربی : فیروزج۔ ہندی : فروزہ
ماہیت: یہ سبز پتھر ہے مائل نیلاہٹ کی نیشا پور اور شیراز اور بھوٹان اور کرمان سے آتا ہے سب سے عمدہ نیشا پوری ہے۔
طبیعت: پہلے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور یہ عمدہ قدرے گندھک اور پارے سے معدن میں تیار ہوتا ہے۔
رنگ وبو: رنگ فیروزی نہایت مشہور ہے۔
ذائقہ : پھیکا مثل اور پتھروں کے ہوتا ہے۔
مضر: گردے کے امراض کے لئے مضر ہے۔
مصلح: کتیر اور اشیائے لعا بد اور تر۔
بدل: اکثر افعال میں زمرد ا س کا بدل ہے۔
نسبت سیارہ: منسوب ہے ستارۂ نپ چون سے ازروئے مزاج۔
نفع خاص: مقو قلب و دماغ و بصر ومفرح و دافع زہر ہے۔
کامل: دو ماشے تک یہ کم وبیش بقدر ضرورت۔
ناقص: ایک ماشے تک یہ قدرے زیادہ۔
افعال و خواص: مفرح ہے قوت تریاقیہ کے ساتھ سرمہ اس کا آنکھ کی رطوبت کا جاذب اور آنسو بہنے اور جالے کا دافع بینائی کو قوت دیتا اور توندھی کو دور کرتا اور آنکھ کے طبقوں کے اکثر امراض کو نافع ہے اور شہد کے ساتھ مرگی اور ورم طحال کو مففید اور سنگ گردہ مثانہ کا مخرج اور مناسب دواؤن یا معجون کے ساتھ دل و معدے کا مقوی خفقان اور دوستوں اور آنتوں کے زخموں اور تمام اندرونی زخموں کے لئے مفید ہے۔ نصف ورم تمام زہروں کا تریاق ہے اور ایک ورم سخت زہرون کے اثر کا دافع اور ایک ماشہ بچھوں کے زہر کے اثر کو دور کرتا ہے اور مجرب ہے اور لٹکانا اس کا مقوی قلب دافع خوف دشمن ہے اور نرم دھاتوں کو سخت کرتا ہے۔
انگریزی میں اس کو ٹرکوائس اس واسطے کہتے ہیں کہ یہ ملک ٹرکس (Truks) یعنی روم سے آتا ہے۔ اسے کیلٹ (Kalait) ، اگیفٹ (Afaphite )، اور جو نائیٹ (Johnite) بھی کہتے ہیں۔ فیروزہ کی دو حسب ذیل قسمیں ہیں۔
(1) مشرقی فیروزہ:۔ اس کا رنگ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور پرانی چٹانوں سے نکلتا ہے۔ تیزاب فاسفورس 9ء30، الیومینا 5ء44، آکسیڈ تانبہ 75ء3 آکسیڈ آہن، 8ء1 پانی، 19 حصہ مرکب ہے۔
(2) مغربی فیروزہ:۔ اسے بون (یعنی استخوان) بھی کہتے ہیں۔ اس کا رنگ خراب ہو کر سبز ہو جاتا ہے اور نئے چٹانوں کی پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ایک جزو اعظم استخوان یعنی فاسفیٹ چونا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس میں یہ فاسفیٹ چونا 80 حصہ کاربونیٹ آف لائم 8حصہ فاسفیٹ آہن اور فاسفیٹ میگنیشیا 2، الیومینا 5ء 1 اور پانی 1-6 حصہ مرکب ہیں۔ یہ قسم سالیمور (Simore) متصل اور لینگوڈک (Languedoc Lower)( فراس کا ایک صوبہ 43 شمالاً شرقاً پر ہے) پائی جاتی ہے۔
حکماء ایران اس کی یہ اقسام بیان کرتے ہیں۔ (1) فتحی ۔ (2) اظہاری۔ (3) سلیمانی۔ (4) درلدی۔ (5) آسمان گوں۔ (6) عبدالحمیدی۔ (7) آندیشی۔ (8) گنجوینا۔ پہلی پانچ قسمیں خاکی رنگ کی ہوتی ہیں۔ باقی تین کوہستان و نیوت میں ملتے ہیں۔ جو عدد کرمان اور شیرز میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سفید رنگ ملا ہوتا ہے۔ اور انہیں سابانگی اور سربوم کہتے ہیں۔ جن میں نیلے رنگ کی دھاری ہوتی ہے ان کو نیلبوم کہتے ہیں۔

ماہیت

(1) فیروزہ کی معدنی شکل اگرچہ عمدہ اور بے شگاف ہوتی ہے لیکن اس کی قلمیں عمدہ نہیں بندھتیں۔ (2) سختی 6 درجہ شیشہ کو کاٹ سکتا ہے۔ (3) چمل بلورین۔ (4) رنگ نیلا، سبز، سفید۔ (5)تاریک ، کناری براق۔ (6) وزن مخصوص 6ء2 سے 8ء2 تک۔ (7) طاقت انعکاس واحد۔ (8) اس میں 34ء 27 تیزاب فاسفیٹ لائم، 18ء18 پانی مرکب ہیں۔ اس کا رنگ آکسیڈ آہن اور تانبہ کے باعث ہوتا ہے۔ (9) گرمی پہنچانے سے پانی خشک ہو جانے کے باعث اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔ یہ دھونکنی کے آگے بھی نہیں پگھلتا۔ اس کا رنگ بھورا سا ہو جاتا ہے۔ کسی تیزاب کا اثر اس پر نہیں ہوتا۔

مشہورو معروف فیروزہ

زمانہ قدیم سے فیروزہ پر نقش کا کام ہوتا ہے۔ مسلمان اس پر قرآن کریم کی آیتیں کھودتے ہیں۔ اور بیج میں سونے کی گلکاری کرتے ہیں۔ جونگ اب مشہور ہیں تعداد میں تھوڑے ہیں۔ چند کا ذکر ہدیہ ناظرین ہے۔ (1) ڈیوک آف آرلیزر کے مجموعہ جواہرات میں دو عدد ہیں۔ ایک پر ڈاینا (Diana) کی تصویر بمعہ تیر و کمان اور دوسرے پر قیصرہ فاسٹینا (Fastina) کی تصویر کندہ ہے۔ (2) ماسکو میں ایک جوہری کے پاس دو انچ طول صنوبری شکل کا فیروزہ ہے۔ جو کسی وقت نادر شاہ کے بازو بند میں مزین تھا۔ اس پر سنہری حروف میں آیت قرآن شریف کندہ ہے۔ (3) 1808ء میں عمدہ فیروزہ کی مالا 3600 روپے پر فروخت ہوئی۔ جس میں 12دانہ منسلک تھے۔ ہر ایک پر بارہ سیزر (Caesars) میں سے ایک کا نقش کندہ تھا۔ (4) میجر ڈونلڈ صاحب نے نمائش گاہ 1851ء میں ایک عمدہ فیروزہ بھیجا جو رنگ کے بگڑ جانے کے باعث کم قیمت ہو گیا۔ (5) صوبہ کیسنگٹن کی عجائب گاہ میں ایک عمدہ بنقش فیروزہ ہے۔ (6) ٹامس نکل صاحب کا بیان ہے کہ ایک فیروزہ پر چالیس سیرز کابت کندہ ہے

مرجان

اسم معروف:۔ مونگا، فارسی، مرجان، عربی،مرجان، ہندی، مونگا
ماہیت:۔ ایک جسم حجری ہے مثل درخت کے پانی کے اندر۔
طبیعت:۔ دوسرے درجے میں سرد خشک اور سیاہ خراب۔
رنگ و بو:۔ سرخ اور سفید اور سیاہ خراب۔
ذائقہ:۔ پھیکا اور کرکرا ہوتا ہے۔
مضر:۔ گردے کو اور مورث تہوج۔
مصلح:۔ کتیر اور اشیائے رطب، مریخ
بدل:۔ بسد یعنی مونگے کی جڑ ہموزن۔
نسبت سیارہ:۔ منسوب ہے زحل سے۔
نفع خاص:۔ قابض و مجفف اور ادز ہر سموم ہے۔
کامل:۔ ساڑھے چار ماشے تک۔
ناقص:۔ ایک ماشے سے دو ماشے تک
افعال و خواص:۔ اس کا پلانا قابض اور مجفف اور حابس ہے اور ایک ورم فاد زہر ہے تمام زہروں کا اور معدے پر اس کا لٹکانا معدے کی تمام بیماریوں کو نافع ہے اور لڑکوں کے خواب میں ڈرنے اور چوکنے کے لئے سود مند۔ اور سفوف اس کا حابس خون اور کشتہ اس کا کہ سفید رنگ ہو کھانسی اور دمے کو نہایت نافع اور جریان منی کو مفید اور مجفف رطوبات معدہ اور مقوی اشتہا ہے بلکہ بعض امزجہ میں ممسک بھی ہے۔
مرجان جسے ہندی میں ودرم یا پروال اور پنجابی میں مونگا کہتے ہیں۔ ایک سمندری جانور کی پیدائش ہے۔ خوش رنگت اور عمدہ چمک کے باعث زمرہ جواہرات میں درج کیا جاتا ہے۔ متقدمین کو یقین تھا کہ مرجان از قسم نباتات ہے لیکن خورد بین کے ذریعہ اس میں وہ کرم دیکھے گئے ہیں جو اس کے موجد ہیں۔ یہ کیڑے پولی پائی (POLYPI) قسم کے کیڑوں میں سے ہیں اور اگرچہ اس قسم میں کئی اور طرح کے کیڑے بھی شامل ہیں لیکن ہمیں یہاں اس قسم کا ذکر لکھنا مطلوب ہے۔ جو اس جواہر کی پیدائش کا باعث ہے اور جسے انگریزی میں اسس نوبلس (Isis Nobiles) (یعنی مرجان) کہتے ہیں۔ پول پامی کیڑوں کی یہ پیدائش بے مرگ شاخوں والے درخت کی صورت کی ہوتی ہے اور اس کا تنا انسان کے جسم کے برابر موٹا بھی ہوتا ہے۔ لیکن عموماً ایک فٹ بلند اور ایک انچ موٹا ہوتا ہے۔ اس کا عمدہ سرخ رنگ ہوتا ہے اور اس پر عمدہ جلا آ سکتی ہے۔ اس میں بطور شہد کے چھتہ کے تہہ خانہ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں کیڑے رہتے ہیں۔ تنے کے اوپر ایک ملائم پوست ہوتا ہے اور اس کے اوپر جالی کے طور پر جھلی سی ہوتی ہے جسے یہ کیڑے بناتے ہیں۔ ان کیڑوں کا جسم ایک سریش جیسی شے کا بنا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ ان خانوں میں با آرام بیٹھتے ہیں تو خورد بین کے ذریعہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کے منہ کے گرد 8 سہ گوشہ مونچھیں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنی خوراک پکڑ کر سوراخ میں لے جاتا ہے۔ اگر ایک مونچھ کو ہاتھ سے چھوئیں تو ان تمام کیڑوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ بعض محققین کی یہ رائے ہے کہ ان کیڑوں میں طاقت حس ایسی مشترکہ ہوتی ہے کہ کیڑے اور تنا ایک ہی جسم معلوم ہوتے ہیں۔ جب ذرا سا کیڑے یا تنے کو مس کرو تو سارے کیڑوں کو خبر ہو جاتی ہے۔ اگرچہ ان کیڑوں میں بظاہر اس قدر ہوش و حواس معلوم ہوتے ہیں لیکن فی الحقیقت ان میں کوئی پٹھہ یا حواس خمسہ نہیں۔ خوراک ان کے معدہ کے ایک سوراخ میں چلی جاتی ہے۔ اور وہاں پانی میں مل کر ادھر ادھر چھوٹی رگوں میں گھومتی ہوئی تمام کیڑوں کے جسموں جو ایک دوسرے سے ملحق ہوتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔ ان کی خوراک چھوٹے سمندری کیڑے یا پودوں کے ذرات ہیں۔ یہ روشنی یا پانی میں ہل جل سے بہت ڈر جاتے ہیں۔ یہ کیڑے چھ سات سو فٹ سمندر کے نیچے چٹانوں پر سرخ درخت کی شکل کا ڈھانچہ بناتے ہیں۔ جو کہ شہد کی مکھیوں کے چھتہ کی طرح سوراخ دار ہوتا ہے۔ جیسا کہ پیچھے بیان کیا گیا ہے اور ان خانوں میں یہ کیڑے رہتے ہیں گویا یہ کیڑے مرجان کو اپنی رہائش کے واسطے بناتے ہیں علم کیمیا کے رو سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں 1 فیصدی میگنشیا اور 07ء 38 کا ربونیٹ آف میگنشیا ہوتا ہے۔ مرجان کا رنگ کلورائین مادہ کے باعث نہیں ہوتا۔ یہ القلی اور دیگر تیزاب گندھک کے باعث ہوتا ہے۔ مسٹر ایم واگل (M.Vogel) کی رائے ہے کہ مرجان کے رنگ دینے والے مادہ میں آکسڈ آہن، کاربونک ایسڈ اور چونا تھوڑا تھوڑا ضرور ہوتا ہے۔ شعاع آفتاب کا پہنچنا اس کی پیدائش کے لئے ضروری ہے۔ اہل فارس مرجان کی پیدائش اس طور پر بیان کرتے ہیں کہ ’’ یہ سمندر کے قصر میں زمین سے چمٹا ہوا پایا جاتا ہے اور ہوا پانی اور ان آبی اشیاء سے پرورش پاتا ہے جو آفتاب و ماہتاب کی کشش کے زور سے اس سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کی اونچائی او ر مقدار کشش فلکی پر منحصر ہیں۔

برج جوزا کے موافق پتھروں کے خواص

  • عقیق
  • ماہیت
  • خواص و ماہیت

خواص و ماہیت

زمرد کی شکل نہ تراشیدہ حالت میں عموماً مسدس شش پہلو منارے کی طرح ہوتی ہے۔ (بعض ماہرین کا خیا ل ہے کہ وزن کی نسبت زمرد کا حجم بہت زیادہ ہوتا ہے چنانچہ اگر زمرد اور نیلم یکساں وزن کے ہوں تو زمر د کا حجم نیلم سے دو چند ہو گا) جس میں قدرتی شگاف چاروں طرف ہوتا ہے۔ کاٹنے کے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جو شگاف آخری یا سرے کی سطح کے متوازی ہوتا ہے وہ ہی درست ہوتا ہے باقی نا درست ہوتے ہیں۔ زمرد کو اکثر مثلث شکل اور بریلینٹ قط کا کاٹ کرتے ہیں۔
(2) اس میں سختی 5ء7 درجہ سے 8 تک ہوتی ہے اس لئے بھیکہم کو کاٹ سکتا ہے۔
(3) چمک اس کی بلورین ہے۔ زمانہ قدیم میں اس کی چمک کا بڑا شہرہ تھا۔ چنانچہ پلائینی لکھتا ہے ’’ کہ جزیرہ سانیپرس میں شاہ ہر سیاس کی قبر پر ایک سنگ مرمر کا شیر بنا ہوا ہے۔ جس کی آنکھوں میں زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ ان کی چمک متصلہ بحیرہ پر ایسی دمک ہے کہ مچھلیاں ڈر کے مارے نزدیک نہ آتی تھیں۔ ماہی گیروں نے اس نقصان کو دیکھ کر زمرد آنکھوں سے نکال لئے اور ان کی بجائے عام پتھر لگا دئیے۔‘‘ تھیو فرسیٹس لکھتا ہے کہ ’’ زمرد ایسا چمکیلا ہے کہ پانی میں ڈالنے سے یہ پانی کا رنگ اپنے جیسا بنا لیتا ہے۔ ‘‘
(4) زمرد کا رنگ گیاہی سبز سے سبزی مائل سفید ہوتا ہے۔
(5) اس کا وزن مخصوص 678ء2 تک ہے۔
(6) اس میں طاقت انعکاس دو چند ہے لیکن کم درجہ
(7) رگڑنے سے طاقت برقی پیدا ہو سکتی ہے۔
(8) یہ عمدہ شفاف ہے۔
(9) زمرد کے مرکبات کیمیائی یہ ہیں۔ سلیکا 5ء68 درجہ، الیومینا 75ء15، گلوسینا 5ء12 آکسیڈ آہن، آکسڈ کروم 3ء سوڈا امیگنشیا 6ء12 اور چونا 25 حصہ اس کے بارے میں بحث ہوئی ہے کہ زمرد کا رنگ کسی مادہ کی ترکیب کے باعث ہوتا ہے۔ بعض محققین کی رائے ہے کہ یہ خوش رنگت مادہ کروم کے باعث ہے۔ لیوی (Livy) نے نیو گرینیڈا کی کان موزو کے زمرد کو کیمیائی طور پر تحلیل کرنے سے معلوم کیا کہ اس میں کاربونیٹ آف ہائیڈروجن (Corboneto of Hydrogen) (ہائیڈروجن اور کارن کا کیمیائی اتحاد) مرکب ہے۔ اور اس کے رنگ کی گہرائی اس کے باعث ہے۔ بلم (Blam) نے زمرد کو چار گھنٹہ سخت گرمی پہنچا کر پانی میں ڈالنے سے معلوم کیا کہ زمرد ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ بعض ٹکڑے سیاہ رنگ بعض سبز رنگ دکھلائی دینے لگے۔ اب تک اس نقطہ پر بحث ہو رہی ہے لیکن عموماً یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ زمرد کا رنگ سبز آکسیڈ کروم کے باعث ہے۔
(10) زمرد پھکنی کی ذریعہ آگ دی جانے یا سوہاگہ کے ساتھ کھٹائی میں ڈالنے سے زرد ہو کر پگھل جاتا ہے

برج سرطان کے موافق پتھروں کے خواص

  • الماس ہیرا
  • افعال و خواص
  • (مخزن الادویہ)
  • خواص و ماہیت:
  • زمرد
  • عقیق

(مخزن الادویہ)

قادر مطلق نے الماس کو کیا عجیب شے بنایا ہے۔ اس کی چمک دمک آب و تاب دل کو بھاتی ہے۔ کہ ہر ایک شخص دل و جان سے اس کا شائق ہے۔ قدرت نے اسے ایسا نادر اور بے بہا شے بنادیا ہے کہ ہر بشر کے نصیب میں نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کے زیادہ عزیز ہونے کاایک باعث ہے۔ متقدمین حکماء نے اگر اس کے بارے میں کچھ لکھا ہے تو بہت ہی مجمل اور ناتشقی وہ جس سے پوری واقفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ یونانیوں کی پرانی کتابوں میں اس کا کئی جگہ ذکر آیا ہے۔ لیکن زمانہ سلف میں اہل یورپ کو یہ جواہر معلوم نہ تھا۔ صرف تھوڑے ہی عرصہ سے انہیں اس کی پوری واقفیت حاصل ہوئی ہے۔

زمرد

اسم معروف: پنا۔ فارسی: زمرد۔ عربی : زمرد
ماہیت: عمدہ پتھروں میں سے ہے اور سونے کی کان میں ملتا ہے اس کی کئی قسمیں ہیں۔
طبیعت: دوسرے درجے میں سرد اور تیسرے میں خشک اور قوت اس کی مدت کثیر تک باقی رہتی ہے۔
رنگ و بو: سبز آبدار صاف شفاف خوشنما۔
ذائقہ: پھیکا بے مزہ، مثل بلور وغیرہ کے۔
مضر: مثانے کے لئے مضر ہے اور سرد مزاجوں کو
مصلح: مشک و گلاب و عرق کیوڑہ وغیرہ۔
بدل: دماغ سموم میں زبر جد اور اسہال میں مرجان
نسبت سیارہ: منسوب ہے مشتری۔
نفع خاص: روح و دل و دماغ اور حرارت غریزی کا مقوی ہے۔
کامل : رفع سم میں ایک دانگ او نزف الدم میں ایک قیراط۔
ناقص: رفع سموم میں نصف دانگ اور نزف الدم میں نصف قیراط۔
افعال و خواص: مفرح ہے اور حرارت غریزی اور دل و دماغ و کبد معدے کا مقوی اور غم و ہم خزن و ملال اور خفقان و صرع کا رافع اور ذات الجنب و ذات الریہ و نزف الدم و اسہال دموی کو نافع اور سموم قتال اور زہر ہوام اور ساتسقاء و یرقان اور حسب البول اور اخراج سنگ گردہ و مثانہ اور جذام کے لئے مفید اور اگر کسی نے زہر کھایا ہو اور قبل ظاہر ہونے اس کے اثر کے بوزن آٹھ جو کے باریک کر کے پی لے تو زہر کا ر گر نہ ہو گا اور سرمساس کا بینائی کا مقوی اور سبل کا دافع اور زیادہ دیکھنا زمرد کا آنکھ کی ماندگی کا دافع اور اس کی انگوٹھی پہننا صرع کو مفید سانپ اس کے دیکھنے سے اندھا ہوتا ہے مگر یہ امر صحیح نہیں ہے اور جو کچھ اس کی مبارکی مشہور ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے۔ (مخزن)
زمر دجیسا عمدہ سبز رنگ اور کوئی جواہر نہیں۔ یہ ان متذکرہ بالا اقسام جواہر سے جن کا اصل (الیومینا یا کاربن) تھا۔ ایک مختلف قسم کا جواہر ہے جس کا اصل سیلیکا (Silica )ہے۔ اس جواہر کا گہرا سبز رنگ آنکھوں کو بہت بھاتا ہے۔ شہر اولڈروم، مصر، پومپائی ( یہ ایک پرانے شہر کے کھنڈرات ہیں جو کوہ ویسویس واقعہ (اٹلی) کے دامن میں تھا اور 79 میں برباد ہوا) ہر کونسیم کے کھنڈرات سے زمرد کے زیورات پائے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ متقدمین زید کو استعمال کرتے تھے۔ چنانچہ پلائینی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ’’ متقدمین زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے اور اس کی قدر کرتے تھے۔ صاحب مذکور اس جوہر کو سمار گدس (Simargdus) کے نام سے لکھتے ہیں اور اس کی بابت کئی طرح کے عجیب و غریب بیان درج کرتے ہیں کئی اور شہادتوں سے بھی صاف ظاہر ہے کہ زمانہ سلف میں لوگ زمرد کو اچھی طرح جانتے تھے۔ چنانچہ 240ء میں سیویلی (Seuille) (ہسپانیہ کا ایک بڑا شہر جو دریائے گوایڈل کور پر واقعہ ہے) کاپادری اسے دودس نامی بیان کرتا ہے کہ ’’ تمام سبز رنگ پتھروں میں زمرد افضل ہے اس کا رنگ ان اشخاص کی آنکھوں کے لئے جو اس کے کاٹنے اور جلا کرنے میں مشغول ہوتے ہیں نہایت مفید ہے۔‘‘
گیارھویں صدر میں پسیلس (Pesellos) زمرد کے بابت لکھتا ہے کہ ’’ یہ جواہر عمدہ سبز رنگ ہے اور اس کے کئی ایک عدد سنہری نیلے رنگ کے بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس میں پانی ملائیں تو یہ صرع اور کئی ایک اور بیماریوں کو شفا دے سکتا ہے۔ پلائینی زمرد کی چمک وغیرہ خواص کی بابت کئی ایک کا بیان لکھتا ہے۔
بعض محققین زمرد کی دو اقسام بیان کرتے ہیں۔ ایک زمر دوسرا زبرد لیکن فی الحقیقت زبر جد زمرد سے کئی لحاظ میں مختلف ہے۔ اس لئے ا س کا بیان جواہرات درجہ دوم میں کیا جاتا ہے۔
عرب و فارس کے حکماء زمرد کے مفصلہ ذیل انواع بیان کرتے ہیں۔
(1) زہابی جن کا سنہری رنگ ہو۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ جس جگہ زمرد کی یہ قسم رکھی جائے وہاں مکھیاں نہیں آ سکتیں۔
(2) سعیدی یہ سعید مصر سے آتا ہے۔ اگر اس پر نگاہ ڈالیں تو انسان کا عکس دکھلائی دیتا ہے او ر آنکھیں بند معلوم ہوتی ہیں۔
(3) ریحانی گل ریحان کی طرح سبز رنگ
(4) فستقی ( عربی لفظ بمعنی پستہ، زردی مائل، سبز رنگ جو مغز پستہ کی طرح ہوتا ہے) سیاہی مائل سبز رنگ اس کو پرانا زمر دبھی کہتے ہیں۔
(5) سلقی ( عربی لفظ معنی چقندریہ یہ ایک ترکاری ہوتی ہے جو شلغم کی مانند ہوتی ہے) جن کا رنگ فارس کے چقندر کی طرح ہو۔
(6) زنجاری یا رتگاری جن کا رنگ مرچ سا ہو۔
(7) کیراثی ( ایک قسم کا پودا جسے گنڈنا کہتے ہیں) جن کا رنگ کیراث کی طرح ہو۔
(8) صابونی جن کا رنگ سفید اور سبز کی ملاوٹ سے ہو۔ ان میں سے عمدہ دو قسم گنا جاتا ہے جو سخت،صاف، سبز رنگ، بے عیب ہو۔ آج کل کے ہندوستانی جو ہری زمرد کے مفصلہ ذیل اقسام بیان کرتے ہیں۔
1۔ پرانا
2۔ مرگجا
3۔ توڑیکا
4۔ پیالیکا
5۔ نیا
6۔ جہاجی اور ہر ایک کی دو نوع بتلاتے ہیں۔ کاہی اور دہانی نوع۔ کاہی ان کو کہتے ہیں جن میں سیاہی مائل سبز رنگ ہو اور دہانی جن کا زردی مائل سبز رنگ ہو

برج اسد کے موافق پتھروں کے خواص

  • پکھراج
  • خواص ماہیت
  • الماس ہیرا
  • (مخزن الادویہ)
  • خواص و ماہیت:
  • یاقوت
  • خواص و ماہیت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: